30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا مگر اسے پڑھنے پڑھانے تک ختم کردیا، فقر کو فقراء نے اختیار کیا مگر اسے وسیلۂ حصولِ مال و جاہ بنالیا، میں نے ان تینوں کے غم میں سیاہ پوشی اختیار کی۔([1]) (کشف المحجوب)
سید الاولیاء حضرت داتا گنج بخش قُدِّسَ سِرُّہٗفرماتے ہیں : ایک دن میں اپنے شیخ کے ہمرکاب تھا چلتے چلتے آذر بائی جان کی آبادی سے گزرنے لگے تو دیکھا کہ دو تین خرقہ پوش گندم کے ڈھیروں پر کھڑے ہیں انہوں نے کسانوں کے سامنے جھولیاں پھیلا رکھی ہیں حضرت شیخ نے یہ دیکھ کر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۱۶)([2])
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی خریدی ہدایت کے بدلے تو ان کی تجارت نے انہیں کچھ فا ئدہ نہ پہنچایااوریہ ہدایت یافتہ نہیں ۔
میں نے عرض کی: حضور ! یہ لوگ کس قدر ذلت میں گرفتار ہیں کہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہورہے ہیں ، شیخ نے فرمایا: ان کے پیر کو مرید جمع کرنے کی حرص ہوئی تو اس کے مریدوں کو دنیا جمع کرنے کی حرص ہوگئی ۔([3]) (کشف المحجوب)
حضرت شقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک مرتبہ خراسان سے چل کر حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس ملاقات کے لیے پہنچے اور ان ([4])سے پوچھا: آپ نے اپنےیاروں میں سے فقراء کو کس حال میں چھوڑا ہے؟ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: وہ اس حال میں ہیں کہ اگر انہیں کوئی کچھ دے دے تو شکر کریں اورنہ دیں تو صبر کریں ۔ حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : بَلْخ کے کتوں کا بھی یہی حال ہے۔ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پوچھا : آپ کے ہاں کیسے فقیر ہیں ؟ حضرتِ شقیق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا : ہمارے ہاں کے ایسے فقیر ہیں کہ اگر انہیں کوئی کچھ نہ دے تو شکر کریں اور اگر دے تو خود پر دوسروں کو ترجیح دیں اور انہیں دے دیں ۔ حضرتِ ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ان کا سر چُوم لیا اور فرمایا : استاد بجا فرماتے ہو۔ ([5]) ( احیاء العلوم)
سلطان التارکین صوفی حمید الدین ناگوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت خواجہ خواجگان معین الدین چشتی اجمیری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ تھے، آپ نے تمام عمر صرف دو چادروں میں بسر کردی ایک بیگھہ زمین تھی جس میں خود اپنے ہاتھوں سے کاشت کرتے تھے آپ کی غذا سردیوں میں باجرے کا دلیہ اور گرمیوں میں جو کا دلیہ تھی جس میں نمک بھی نہ ہوتا تھا ایک مرتبہ سلطان التمش نے پانچ سو روپیہ نقد، ایک دیہہ کی جاگیر کا فرمان، کچھ کپڑا، آٹا، شکر، گھی وغیرہ اپنے کوتوال کے ذریعہ بھیجا، سلطان التارکین نے اس خیال سے کہ دیکھیں میری اہلیہ شاہی عطیہ کے بارے میں کیا کہتی ہے گھر آکر اہلیہ محترمہ سے پوچھا:
[2] ترجمۂ کنزالایمان:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے۔(پ۱،البقرۃ:۱۶)
[4] یہاں لکھا تھا کہ حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے پوچھا جبکہ احیاء العلوم میں اس کے برعکس ہے یعنی حضرت شقیقرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہنے حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے پوچھا، اسی طرح آخر تک حضرت شقیق کے بجاءے حضرت ابراہیم بن ادھم کا اور حضرت ابراہیم بن ادھم کے بجاءے حضرت شقیق کا نام لکھا تھا ، چونکہ مؤلف نے احیاء کا حوالہ دیا ہے لہٰذا ہم نے اس واقعہ کو احیاء کے مطابق درست کر کے لکھ دیا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ علمیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع