30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے نیازی سے جواب دیا:میں خود ہی پھینک کر چلا گیا تھا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حیران ہو کر پوچھا: کیوں بھلا کس کے بھروسے پر؟حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہنس کر بولے: جس نے آپ کو یہاں اتنی دیر رو کے رکھا۔([1])(تذکرۃ الاولیاء)
ایک بادشاہ نے ایک درویش سے کہا: اگر آپ کی کوئی حاجت ہو تو مجھ سے بیان کریں تاکہ میں حاجت روائی کردوں ، درویش نے جواب دیا:جو آدمی میرے غلاموں کا غلام ہومیں اس سے حاجت روائی نہیں چاہتا، بادشاہ نے کہا:یہ کس طرح؟ درویش نے کہا:میرے دو غلام ہیں اور وہ دونوں تیرے مالک(آقا) ہیں : ایک حرصِ دنیا اور دوسرا طولِ امل یعنی امیدغیرمُتَناہی۔([2]) (کشف المحجوب)
حرصِ تو دلقِ قناعت پارہ کرد نفس امارہ ترا آوارہ کرد
صد تمنا در دلت اے بو ا لفضول کے کند نور خدا در دل نزول
تیری حرص نے قناعت کی گدڑی چا ک کردی نفس امارہ نے تجھ کو آوارہ کردیااے بیہودہ بکواسی سینکڑوں آرزوئیں تیرے دل میں ہیں خدا کا نور تیرے دل میں کیونکر آئے گا۔ (بو علی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
میں انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کا وارث بنا، تو فرعون و ہامان کا
مصر میں ایک امیر کے دو لڑ کے تھے ان میں سے ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرا مال و دولت جمع کرنے میں لگ گیا آخر کار ایک عالم وفاضل اور علامہ بن گیا اور دوسرا مصر کا بادشاہ بن گیا جو بادشاہ بنا تھا وہ اپنے بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھتااور کہتا: مجھے دیکھو کہ میں حکومت کررہا ہوں اور میرے بھائی کی حالت بھی دیکھو کہ اب تک غریبی و مفلسی کا شکار ہے۔
ایک دن اس کے بھائی نے اس سے کہا: تجھ سے زیادہ اللہ کی نعمت مجھ پر ہے اس کے فضل و کرم کا جس قدر شکر کروں کم ہے کہ مجھ کو انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کی میراث ملی اور تجھے فرعون وہامان کی، یعنی مجھے علم و فضل حاصل ہوا اور تجھے ملک مصر کی حکومت ملی۔ ([3]) (گلستانِ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
حضرت شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے کبھی زمانہ کی سختیوں کا شکوہ نہیں کیا لیکن ایک موقعہ پرد امن استقلال ہاتھ سے چھوٹ گیانہ میرے پاؤں میں جوتی تھی اور نہ جوتی خریدنے کی استطاعت تھی، میں اسی ناگفتہ بہ حا لت میں غمگین وتنگ دل کوفہ کی جامع مسجد میں پہنچا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پڑا ہے جس کے سرے سے پاؤں ہی نہیں ہیں اس پر میں نے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیا اور اپنے ننگے پاؤں غنیمت سمجھے۔([4])(گلستان)
ایک بے علم مُدّعی نے ایک بزرگ سے دریافت کیا: حضرت آپ نے سیاہ پوشی کیوں اختیار فرمائی ہے، بزرگ نے جواب دیا: حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تین چیزیں چھوڑ ی تھیں فقر، علم، شمشیر، شمشیر تو بادشاہوں نے لے لی مگر اسے صحیح طور پر استعمال نہ کیا ،علم علماء نے اختیار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع