30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیا تم دیناروں کے لیے روتے ہو؟
حضرت علی بن فضیل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کعبۃ اللہ کے طواف میں مشغول تھے ایک چور نے آپ کے دینار چُرالیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ رونے لگے آپ کے والد نے پوچھا: آیا تم دیناروں کے لیے روتے ہو؟انہوں نے جواب دیا: نہیں بلکہ میں تو اس بیچارے کے اس حال پر روتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس حرکت کے بارے میں باز پُرس کرے گا تو اس سے کچھ جواب نہ بن پڑے گا۔ ([1]) (احیاء العلوم)
حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ارشاد فرمایاکہ سلطان العارفین شیخ بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک ایسے صحرا میں چلے گئی جہاں کسی فرد بشر کا گزرنا مشکل تھا وہاں پہنچ کر آپ نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ نہ تو میں کسی آبادی میں جاؤں گا نہ کسی سے کچھ مانگوں گا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے کوئی چیز کھاؤں گا ہاں اگر کوئی دوسرا شخص گھی میں شہد ملا کر اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں ڈال دے گاتو کھالوں گا، دو دن اور دو راتیں فاقے سے گزر گئی تیسری رات ایک قافلہ راستہ بھول کر اس طرف آنکلا حضرت بایزید رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اہل قافلہ کو دیکھ کر ایک درخت کے نیچے لیٹے گئی آنکھیں موندلیں اور منُہ بند کر کے دانتوں کو دانتوں پر سختی کے ساتھ جما کر بے حس و حرکت پڑ رہے۔ اہل قافلہ میں سے چند آدمی لکڑیاں چنتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی بے حِس وحرکت پڑا ہے کہنے لگے:خدا جانے بیچارا کب سے بے ہوش پڑا ہے ؟ انہوں نے اپنے سردار کو مُطَِّلع کیا سردارِ قافلہ نے آپ کو ہلا جلا کر دیکھا پھر بولا:بے ہوشی سخت ہے شاید یہ مشکل ہی بچے تاہم ہمیں اس کی زندگی بچانے کی کچھ تدبیر کرنی چاہیے، صلاح یہ ٹھہری کہ گھی میں شہد ملا کر اس کے حلق میں ڈال دیا جا ئے لیکن کھلا ئیں کیونکر؟سردار نے رائے دی اس کے دانت توڑدیئے ے جائیں اور گھی میں شہد ملا کر اس کے حلق میں ڈال دیا جائے اہل قافلہ نے گھی میں شہد ملا دیا اور آپ کے دانت توڑ دینے کے لیے تیار ہوگئی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت بایزید سے بطورِ الہام فرمایا: اگر تو اپنی مرضی سے نہ کھائے گا تو ہم تیرے دانت تڑوا کر کھلادیں گے، حضرت بایزید ہنس پڑے اور گھی شہد کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔(ملفوظاتِ روضے دھنی)
ہیں توکل کن ملرزاں پا و دست رزقِ تو بر تو زِ تو عاشق تر است
(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
اﷲتعالیٰ کی رزاقیت پر بھروسا رکھ بے صبری سے ہاتھ پاؤں نہ لرزاتیرا رزق تجھ سے زیادہ تجھ پر عاشق ہے۔
کسی شہر میں دو بھائی تھے ایک بھائی بادشاہ کا ملازم تھا اچھی تنخواہ پاتا عمدہ کھانے کھاتا قیمتی لباس پہنتا اپنی زندگی عیش و عشرت میں بسر کرتا تھادوسرا بھائی محنت مزدوری کرتا غربت و مشقت میں دن گزارتاایک دن بادشاہ کے ملازم نے اپنے مزدور بھائی سے کہا: تو بھی بادشاہ کی ملازمت کیوں نہیں کرلیتاتاکہ تو بھی عیش و آرام کی زندگی بسر کرس کے اس کے بھائی نے جواب دیا: تو ملازمت ترک کر کے محنت مزدوری کیوں نہیں کرتاتاکہ بادشاہ کی ہر وقت کی خدمت و غلامی کی ذلت سے آزاد ہو کر بے فکری کی زندگی بسر کرس کے ، عقلمندوں نے کہا ہے: نانِ جویں کھا کر اطمینان کے ساتھ بیٹھنا زریں کمر بند باندھ کر بادشاہ کی خدمت میں کھڑے رہنے سے بہتر ہے۔
بدست آہکِ تفتہ کردن خمیر بہ از دست بر سینہ پیشِ امیر([2]) (گلستان)
اپنے ہاتھوں کو امیر کے سامنے سینے پر باندھے رہنے سے اپنے ہاتھوں مزدوری کرتے ہوئے چونے کا گوندھنا بہتر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع