30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے ([1])
(علامہ اقبال)
حضرت ابراہیم بن ادھم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خادمِ خاص حضرت حذیفہ مرعشی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے لوگوں نے کہا: تم نے حضرت کی کوئی عجیب بات دیکھی ہو تو بیان کرو۔حضرت حذیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے کہا: ایک دفعہ میں حضرت کے ہمراہ مکہ کے سفر میں تھا زادِ راہ ختم ہوگیا اور ہم کچھ روز بھو کے رہ گئی حتی کہ ہم شہر کو فہ میں داخل ہوئے، حضرت نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: مجھے افسوس ہوتا ہے کہ تجھ کو بھوک لگ رہی ہے۔ میں نے عرض کی: حضور بجا ارشاد فرماتے ہیں ، فرمایا : قلم دوات اور کاغذ لاؤ۔ میں نے قلم دوات اور کاغذ پیش خدمت کردیا، آپ نے یہ رقعہ لکھا:ــ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ہر حال میں تو ہی مقصود ہے اور ہر بات سے تو ہی مطلوب۔ اور چند اشعار لکھے جن کا منظوم ترجمہ یوں ہے:
حامد و شاکر ہوں اور ذاکر خدا بھوکا اور پیاسا ہوں اور ننگا جدا
وصف چھ ہیں تین کا ضامن ہوں میں التجا ہے تو ہو ضامن تین کا
مدح میری غیر کو ہے جلتی آگ آگ میں گرنے سے تو مجھ کو بچا
حضرت نے مجھے فرمایا: باہر جااللہ کے سوا کسی کا خیال دل میں نہ آنے دینا اور جو پہلا شخص تیرے سامنے آئیہ رُقعہ ا س کو دے دینا۔میں رقعہ لے کر باہر نکلا پہلا شخص جو مجھ کو ملا وہ خچر پر سوار تھا میں نے رقعہ اس کے حوالے کردیا اس شخص نے رقعہ پڑھا اور پڑھتے ہی رونے لگا۔ پھر پوچھا: جس نے یہ رقعہ لکھا ہے وہ کہا ں ہے؟میں نے بتایا : وہ فلاں مسجد میں ہے۔ اس نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چھ سو دینار تھے اور آگے بڑھ گیا میں نے لوگو ں سے پوچھا: یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک نصرانی ہے۔
میں نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا عرض کیا تو فرمایا: ابھی ان دیناروں کو ہاتھ نہ لگانا وہ ابھی آیا ہی چاہتا ہے۔جب ایک گھڑی گزری وہ نصرانی آیا۔ حضرت کے سر کو بوسہ دیا اور لَا اِ لٰـہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ ([2]) (احیاء العلوم)
شاہِ سنجر کو غوثِ اَعظم کا جواب
حضرت غوث الاعظم سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی قَدَّ سَنَا اللہُ بِاَسْرَارِہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں شاہِ سنجر والی ملک نیمروز نے عریضہ بھیجا کہ میں ملک کا کچھ علاقہ بطورِ جاگیر آپ کو دینا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی میری طرح عیش و آرام کی زندگی بسر کریں غوثِ اعظم نے اس کے جوا ب میں یہ رباعی لکھ بھیجی:
چوں چترِ سنجری رخِ بختم سیاہ باد
در دل اگر بود ہوسِ ملکِ سنجرم
زانگہ کہ یافتم خبر از ملکِ نیم شب
من ملکِ نیمروز بہ یک جو نمی خرم
شاہ سنجر کے کالے رنگ کے تاج کی طرح میرا بخت سیاہ ہوجائے اگر میرے دل میں ملک سنجر کی کچھ بھی ہوس ہواس لیے کہ جب مجھے دولت نیم شب (شب بیداری ویادِ حق) کی سلطنت حاصل ہے سلطنت نیمروز کی قیمت میری نظر میں دانۂ جو کے برابر بھی نہیں ۔ ([3]) (اخبار الاخیار)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع