30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْہ نے پوچھا: میں آپ سے کیا مانگوں دنیا یا دین؟ ہشام بولا:دنیا! حضرت سالم نے فرمایا: دنیا تو میں نے خالق و مَالک دنیا سے بھی نہیں مانگی پھر میں تم سے کیسے مانگوں جب کہ تم نہ اس کے خالق ہو اور نہ مالک۔ہشام لاجواب ہو کر رہ گیا۔([1])
حضرت ربیع رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا گھوڑا
حضرت رَبیع بن خَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے اپنا قیمتی گھوڑا جس کی قیمت بیس ہزار درہم تھی باندھا اور نماز پڑھنے لگے، ایک چور آیا اور گھوڑا کھول کر لے گیا، آپ نے کسی پریشانی یا اِضطراب کا مظاہرہ نہ کیا، لوگ آپ کے پاس افسوس کرنے آئے اور آپ کو تسلی دینے لگے، آپ نے فرمایا:جب چور گھوڑاکھول رہا تھا میں نے دیکھ لیاتھا، لوگوں نے عر ض کی: تو پھر آپ نے اس کو للکارا کیوں نہیں ؟ فرمایا : میں ایسے کام میں مصروف تھا جو گھوڑے سے زیادہ اہم اور قیمتی تھا۔ حاضرین چور کے لیے بددعائیں دینے لگے، آپ نے فرمایا: اس کے حق میں بددعا نہ کرو میں نے اپنا گھوڑا اس پر صدقہ کردیا اور اس کو معاف کردیا ہے۔([2]) (احیاء العلوم)
حضرت حاتم اَ صَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی خدمت میں ایک امیر حاضر ہوا، آپ نے اس کی طرف التفات نہ کی، وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا لیکن جب حضرت نے اس سے کوئی بات نہ کی تو امیر نے جانے کا ارادہ کیا اور عاجزی سے عرض کی: حضور ! میں آپ کی کچھ خدمت کرنا چاہتا ہوں آپکو کو ئی حاجت ہو تو فرمائیے؟ فرمایا :ہاں ! ایک حاجت ہے۔ اس نے پوچھا:وہ کیا؟ فرمایا:یہ کہ تم دوبارہ میرے پاس کبھی نہ آؤ۔ ([3]) (کیمیائے سعادت)
ابن ہبیرہ گورنرکوفہ نے ایک دفعہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہسے بہ لجاجت کہا: آپ گاہے گاہے تشریف لے آیا کریں تو مجھ پر احسان ہوگا۔امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: میں تم سے مل کر کیا کروں ،؟ مہربانی سے پیش آؤگے تو خوف ہے کہ تمہارے دام میں آجاؤں گا، عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے، تمہارے پاس جو زَر و مال ہے اس کی مجھے کچھ حاجت نہیں ، میرے پاس جو دولت ہے ، اسے کوئی شخص چھین نہیں سکتا، ابن ہبیرہ یہ سن کر دم بخود رہ گیا۔(معجم موفق)
خلیفہ منصوراوراس کی بیوی حرہ خاتون میں کچھ شکر رنجی ہوگئی ،خاتون کو شکایت تھی کہ خلیفہ اس کے حق میں عدل سے کام نہیں لیتا، خلیفہ نے کہا: تم کسی کو ُمنْصِف قرار دو، خاتون نے امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا نام لیا، خلیفہ نے اسی وقت امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکو طلب کرلیا، خاتون پردہ کے قریب بیٹھی تاکہ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا فیصلہ اپنے کانوں سے سن لے، منصور نے امام اعظم سے پوچھا: ازروئے شریعت ایک مرد کتنے نکاح کرسکتا ہے؟
امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے فرمایا: چار۔منصور خاتون کی طرف مخاطب ہوا کہ سنتی ہو؟ پردہ سے آواز آئی : ہاں ! سُنا۔ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے منصور کو مخاطب فرماتے ہوئے کہا: مگر یہ اجازت اس شخص کے لیے ہے جو عدل پر قادر ہو ورنہ ایک سے زیادہ نکاح کرنا اچھا نہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع