30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیْ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اس کی جھولی روٹیوں سے بھری دیکھ کر جان لیا کہ یہ شخص سوال کرنے سے مُستَغْنی ہے، (محتاج نہیں ) اور جن لوگوں نے اس کو روٹیاں دی ہیں اسے ضرورت مند محتاج سمجھ کر ہی دی ہیں حالانکہ وہ جھوٹا تھا تو لوگوں کا دیا ہوا اس کی مِلک میں نہ آیا اس لیے کہ فریب سے لیا تھا اب اِن روٹیوں کو ان کے مالکوں تک پہنچانا مشکل تھا اس جہت سے کہ کیا معلوم کون سی روٹی کس نے دی ہے پس یہ مال لاوارث ٹھہرا، لہٰذا اس کا خرچ کرنا مصالح اہلِ اسلام میں واجب ہوا اور زکوٰۃ کے اونٹوں کا چارہ بھی داخل مصالح ہے اس لیے حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے وہ روٹیاں زکوٰۃ کے اونٹوں کو کھلا دیں اور سائل کو مارنا برائے تادیب تھا اور شریعت کے نفاذ کے تحت ضروری تھا۔ ([1]) (احیاء العلوم)
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے اکبر یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
(لسان العصراکبر الٰہ آبادی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے کہ جو تونگری کے ہوتے ہوئے سوال کرے وہ گویا چنگاری کا سوال کرتا ہے، اب چاہے سوال کم کرے یا زیادہ۔ ([2]) (مسلم)
نیز حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا : تونگری چاہو اللہ تعالیٰ اپنے غیر سے بے نیاز کردے گا۔ صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے پوچھا :یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) وہ تونگری کیا ہے ؟ فرمایا : دن کا کھانا اور رات کا کھانا۔ ([3]) (مسند فردوس)
بہرِ لقمہ اے سگِ مُردار جو مے دوی صحرا بہ صحرا کو بہ کو
خوار مے گردی ز بہرِ آب و نان درپئے سگ تا بہ کے باشی دواں
رحم کن بر حالِ خود اے بوالہوس بازگرد و توبہ کن در ہر نفس
اے مردار کی تلاش میں رہنے والے کُتّے!تولُقمہ کی خاطر جنگل جنگل کوچہ کوچہ دوڑتا پھرتا ہے، روٹی اور پانی کے واسطے تو ذلیل و خوار ہورہا ہے، تو کُتّے (نَفْسِ اَمَّارہ) کے پیچھے کہاں تک دوڑتا پھرے گا، اے بوالہوس!اپنے حال پر رحم کر، باز آجا اور ہر دم توبہ کرتا رہ۔
مرد باید تا نہد بر نفس پا بگذرد از شہوت و حرص و ہوا
(حضرت بوعلی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ )
مرد کو چاہیے کہ نفس پر پاؤں رکھ دے اور شہوت او رحرص و ہوا سے گزر جائے۔
امیرالمؤمنین علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد
لَنَقْلُ الصَّخْرِ مِنْ قُلَلِ الْجِبَالِ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ مِنَنِ الرِّجَالِ
یَقُولُ النَّاسُ بِیْ فِی الْکَسْبِ عَارٌ فَقُلْتُ الْعَارُ فِیْ ذُلِّ السُّؤَالِ
(دیوان حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ)
میرے نزدیک پہاڑوں کی چوٹیوں سے پتھرڈھونا لوگوں کے احسانات اٹھانے سے زیادہ پسندیدہ کام ہے، لوگ کہتے ہیں کہ میرے لیے کمائی کرنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع