30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ) تو نے بھیجا ہے اس پر بھی میں ایمان لاچکا ہوں ۔
اگر تم (اس دعا کو پڑھ کر سوئے اور) اسی رات مرگئی تو فطرتِ سلیمہ یعنی دین حق پر مرو گے( تمہارا خاتمہ بالخیر ہوگا) اور اگر صبح اٹھے تو خیر و خوبی کے ساتھ اٹھو گے۔ پہلے وضو کرو پھر دائیں پہلو پرلیٹ کر یہ دعا پڑھو، تمہاری زبان سے نکلنے والے یہ آخری کلمات ہونے چاہئیں (یعنی اس دعا کے بعد کوئی کلام کیے بغیر سوجاؤ)۔ ([1]) (بخاری ، مسلم)
ایک مرتبہ خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ بیمار ہوگئی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یا خلیفۃ الرسول!اجازت ہو تو ہم کسی طبیب کو بلالائیں ؟ فرمایا: طبیب ہی نے مجھے بیمار کیا ہے، حاضرین نے عرض کی: پھر طبیب نے آپ کی بیماری کے بارے میں کیا کہا ہے، فرمایا: طبیب نے کہا ہے : اِنِّی فَعَّالٌ لِّمَآ اُرِیْدُ (میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں)۔ ([2])(احیاء العلوم)
حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ (مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے وقت) جب میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ہمراہ غارِ ثور میں تھا تو (ہمیں تلاش کرنے والے) مشرکین کے پاؤں مجھے نظر آئے اور ہم اسی غار کے اندر چھپے ہوئے تھے اور عین وہ ہمارے سروں پر کھڑے تھے تو میں نے (گھبرا کر) رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کیا :یارسول اللہ !صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اِن میں سے کسی نے بھی اپنے قدموں کی طرف ذرا جھک کر دیکھا تو ہم انہیں صاف نظر آجائیں گے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اے ابوبکر !(رَضِیَ اللہُ عَنْہ)ان دو مظلوم بندوں کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے یعنی جب ہمارا حقیقی محافظ اور نگہبان اللہ ہمارے ساتھ ہے تو ہمیں خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔([3]) (بخاری ،مسلم)
میرا طبیب میرے حال سے بے خبر نہیں
ایک دفعہ امیر المؤمنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ بیمار ہوئے مرض کچھ شدید ہوگیا تو اَحباب نے مشورہ دیا کہ آپ کسی طبیب کو بلا کر علاج کرالیں ۔فرمایا: میرا طبیب میرے حال سے بے خبر نہیں ۔ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ اپنے کان کو ہاتھ لگادینے سے مجھے صحت حاصل ہوسکتی ہے تو واللہ! میں کبھی کان کو ہاتھ نہ لگاؤں ۔(کیمیائے سعادت)
امیر المؤمنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے بعد مغرب ایک سائل کی صدا سنی، آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اس کو کھانا دے دو۔اس نے کھانا دے دیا، پھر آپ نے دوبارہ سائل کی صدا سنی، فرمایا: ہم نے کہا نہیں تھا کہ اس کو کھانا دے دو؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کو کھانا کھلادیا ہے۔
آپ نے سائل کی جھولی جو دیکھی تو روٹیوں سے بھری تھی، فرمایا: تو سائل نہیں بلکہ تاجر ہے۔ پھر جھولی لے کر زکوٰۃ کے اونٹوں کے سامنے ڈال دی اور سائل کو دُرّے لگائے اور فرمایا:پھر ایسا نہ کرنا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع