30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا : قسم ہے اپنی عزت و جلال کی! میں نے دنیا تجھ سے اس وجہ سے علیحدہ نہیں رکھی تھی کہ تو میرے نزدیک حقیر تھا بلکہ اس جہت سے کہ تجھ کو یہاں کرامت اور فضیلت دینی تھی میرے بندے! اب تو اِن (جہنمیوں کی) صفوں میں جااور پہچان کہ جس نے تجھ کو دنیا میں میرے واسطے (کچھ) کھلایا ہویا (کوئی کپڑا) پہنایا ہو اور اس کی غرض سوائے میری رضا (حاصل کرنے) کے اور کچھ نہ ہو تو تُو اس کا ہاتھ پکڑلے( اور اس کو جنت میں لے جا) اس کا میں نے تجھ کو اختیار دے دیا۔ اور اس وقت (جہنمی) لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ پسینہ منہ تک آیا ہوا ہوگا، یہ شخص صفوں کو چیرتا ہوا جائے گا اور دیکھے گا کہ کس نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، جسے ایسا دیکھے گا اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائے گا۔([1]) (ابن حبان)
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: فقیروں کی جان پہچان بہت کرتے رہا کرو اور ان کے پاس سے نعمت حاصل کرو کہ ان کے پاس دولت ہے۔ صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی :یارسول اللہ !(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ان کے پاس کون سی دولت ہے؟ فرمایا:
جب قیامت کا دن ہوگا تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو جس نے تم کو (روٹی کا) ایک ٹکڑا کھلایا ہو یا ایک گھونٹ پانی پلایا ہو یا کوئی کپڑا پہنایا ہو تو اس کا ہاتھ پکڑو اور جنت میں پہنچادو۔([2]) (طبرانی)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمایاے گا: میری مخلوق میں سے برگزیدہ لوگ کہاں ہیں ؟ ملاءکہ عرض کریں گے:الٰہی ! وہ کون ہیں ؟ ارشاد ہوگا: مسلمان فقیر جو میری عطا پر قانع رہے اور میرے حکم پر راضی رہے ان کو جنت میں داخل کردو پس وہ لوگ جنت میں جا کر کھائیں گے پئیں گے اور دوسرے لوگ حساب میں پڑے ہوں گے۔([3]) (مسند فردوس ، دیلمی)
حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : اے عازب کے بیٹے! جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْٓ اِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْٓ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْٓ اِلَیْکَ وَ اَلْجَاْتُ ظَھْرِیْٓ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْٓ اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِیْٓ اَرْسَلْتَ۔ ([4]) (بخاری ، مسلم)
ترجمہ: یا اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کردیا اور اپنا چہرہ (رُخ) تیری طرف موڑ دیا اور اپنا ہر کام تیرے حوالے کردیا اور اپنی کمر کا سہارا (پُشت پناہ ) تجھ کو بنالیا تیری رحمت کی رغبت اور تیری ناراضگی کے خوف کی وجہ سے، تیرے قہر و غضب کی وجہ سے، نجات اورپناہ کی جگہ تیرے رحم و کرم کے سوا اور کہیں نہیں ، جو کتاب (قرآن مجید) تو نے نازل کی ہے اس پر میں ایمان لاچکا ہوں اور جو نبی ( محمد رسول اللہ صَلَّی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع