30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالم تھا کہ ان سے زمین اورپہاڑ بھرے ہوئے تھے تاحد نظر آدمی ہی آدمی تھے، مجھے اپنی اُمت کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہیں مسرت ہوئی ہے؟ میں نے عرض کی: میں خوش ہوں ۔ ا رشاد ہوا : ان میں سے ستّرہزار آدمی کسی حساب کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا: اَلَّذِیْنَ لَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَکْتَوُوْنَ وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔(یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو (شگون لینے کے لیے) پرندے اُڑاتے ہیں نہ جنتر منتر کرتے ہیں اور نہ داغ لگواتے ہیں اور یہ لوگ صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہیں )
حضرت عُکَّاشہ بن مِحْصَن رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے لیے دعا فرمائیےکہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان (خوش نصیب) لوگوں میں سے کردے۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا دعا فرمائی : یااللہ ! عکاشہ کو بھی ان میں سے کردے۔ پھر حضرت سعد ابن عبادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کھڑے ہوئے عرض کی: یارسول اللہ!(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے لیے بھی دعا فرمائیےکہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کردے۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:اس دعا میں عکاشہ تم پر سبقت لے گئی ۔ ([1]) (بخاری ،مسلم)
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں ایک دن رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پیچھے (حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ ایک سواری پر) سوار تھا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مجھ کو فرمایا : اے لڑ کے ! حقوق الٰہی کی حفاظت کر اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا( اپنے ہر کام ، ہر چیز میں احکام الٰہیہ کا لحاظ رکھ، اللہ تجھ کو دین اور دنیا کی آفتوں سے بچائے گا)تو اسے اپنے سامنے پائے گا (ہر مصیبت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت تیرے دل پر وارد ہوگی جس کے اثر سے تیرے دل پر غم طاری نہ ہوگا) اور جب کچھ مانگے تو اللہ سے مانگ، جب تو مدد مانگے تو اللہ سے مانگ اور یقین رکھ کہ اگر ساری دنیا کے لوگ اس پر متفق ہو جائیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچائیں تو وہ تجھ کو کچھ نفع نہیں پہنچاسکیں گے، تجھ کووہی نفع پہنچے گا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیاہے اور اگر اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچائیں تو ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکتے، تجھ کو وہی نقصان پہنچے گا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، قلم اٹھ چکے (تاقیامت جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ لکھا جاچکا، بار بار لکھا نہیں جاتا)دفتر خشک ہوچکے ۔([2]) (احمد، ترمذی، مشکوٰۃ)
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے اکبر یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد (لسان العصر اکبر الٰہ آبادی)
ایک مرتبہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا : کیا نہ بتاؤں میں تم کو جنت والوں کے بادشاہ؟ صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ہاں ! یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بتادیجئے! فرمایا: ضَعِیفٌ مُْسْتَضْعِفٌ اَغْبَرَ اَشْعَثَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَا یُؤْبَہُ لَہُ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَاَ بَرَّہُ۔([3]) (بخاری، مسلم)
آدمی ضعیف کہ لوگ اسے ضعیف جانیں ، غبار آلود،پریشان مو،دو چادریں رکھنے والا، لوگوں کے نزدیک بے قدر (حقیر) لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم دیدے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کردے (اس کا کہا پورا کردے)۔
نیز فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فقیر کو بلا کر یوں معذرت کرے گا جیسے آدمی آپس میں ایک دوسرے سے معذرت کرتے ہیں ۔ارشاد فرمایاے
[1] بخاری،کتاب الرقاق،باب یدخل الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب، ۴/۲۵۷، الحدیث:۶۵۴۱، ۶۵۴۲ و مسلم ،کتاب الایمان، باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین۔۔۔الخ، ص۱۳۷، الحدیث:۲۲۰و المستدرک،کتاب الرقی والتمائم، من استطاع ان ینفع اخاہ فلیفعل، ۵/۵۹۴، الحدیث: ۸۳۲۸ و مشکاۃ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، الفصل الاول، ۲/۲۶۳، الحدیث:۵۲۹۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع