30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ نے پوچھا: اب تو کس حال میں ہے؟ وہ بولا: اب میں دوزخ کے کنارے لٹکا ہوا ہوں معلوم نہیں کہ دوزخ سے بچ رہوں گا یا اسی میں دھکیل دیا جاؤں گا۔ حضرت عیسی عَلَیْہِ وَالسَّلام نے حواریوں کو مخاطب کر کے فرمایا : عافیت کے ساتھ جو کی روٹی نمک سے کھالینا اور ٹاٹ کا لباس پہننااور گھورے پر سو رہنا بھی غنیمت ہے۔([1]) (احیاء العلوم)
حضور سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: جو شخص اپنی دنیا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت رکھتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے پس اختیار کرو اس کو جو باقی رہنے والی ہے فنا ہو جانے والی پر۔([2]) (احمد،طبرانی، حاکم، بزار)
حضور سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد:دنیا کی محبت ہر ایک خطا (گناہ) کیجڑ ہے ۔([3]) (بیہقی درشعب ، ابن ابی الدنیا)
حُبِّ دنیا چوں کند بر دل نگاہ ہمچو خارا گرددش سخت و سیاہ
کور گردد روشن چشم یقین بستہ گردد بعد ازاں درہائے دین
دنیا کی محبت جب دل پر نگاہ ڈالتی ہے تو دل سنگِ خارا کی مانند سخت اور سیاہ ہوجاتا ہے، یقین کی روشن آنکھ اندھی ہوجاتی ہے، اس کے بعد دین کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ ( حضرت بو علی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)صد تمنا در دلت اے بوالفضول کے کند نورِ خدا در دل نزول اے بیہودہ بکواسی سینکڑوں آرزوئیں تیرے دل میں ہیں تو پھر اللہ کا نور تیرے دل میں کیونکر آئے گا؟
اسی کی برکت سے تجھے رزق مل رہا ہے
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے زمانۂ مبارک میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک تو روزانہ رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں (علم دین سیکھنے کے لیے) حاضر ہوا کرتا تھا اور دوسرا دن بھر روزی کماتا (اور اپنے بال بچوں کے علاوہ اس بھائی کا خرچ بھی چلاتا تھا) ایک دن اس کمانے والے نے رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے اپنے بھائی کی شکایت کی (اور عرض کی کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کو طلب ِ علم سے منع کریں اور اسے کمائی کرنے کا حکم دیں تاکہ یہ اپنی دنیا سنبھال لے، اس کی شادی وغیرہ کا انتظام ہو سکے، مجھ سے اس کا بوجھ اُتر جائے ) تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : شاید کہ اسی کی برکت سے تجھے بھی روزی مل رہی ہے،([4]) (یعنی تو اسے علم دین سیکھنے دے اس کا خرچہ تو برداشت کیے جا اللہ تعالیٰ اس کا رزق تیرے دستر خوان پر بھیجے گا، تجھے برکتیں ہوں گی) (ترمذی، مشکوٰۃ)
اس فرمان سے سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے شکایت کرنے والے کی یہ غلط فہمی دور فرمائی کہ تو نے محض کمائی کو حصولِ رزق کاحقیقی سبب سمجھ رکھا ہے اللہ تعالیٰ کی صفت رَزَّاقیت سے تمہاری نظر اٹھ گئی ، یہی وجہ شکایت ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے اور سمجھتے کہ رزق وہی دیتا ہے توتم یہ شکایت بھی نہ کرتے۔نیز حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ واضح فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم اپنے بھائی کو جو علم ِ دین سیکھنے کی وجہ سے کمائی نہیں کرسکتا، اپنی قسمت کے رزق میں سے کھلاتے ہو بلکہ یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسمت کا رزق تمہارے ذریعہ سے اسے پہنچا رہا ہے اور اسی کی برکت سے تمہیں بھی رزق عطا فرمارہا ہے۔
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی اُمتیں دکھائی گئیں ، میں نے اپنی اُمت کو دیکھا اس کی کثرت کا یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع