30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) ماضی: گزرے ہوئے زمانے میں واقع ہونے والے فعل کانام ہے ۔ جیسے : ضَرَبَ ۔ (۲) مضارع: موجودہ یا آنیوالے زمانے میں واقع ہونے والے فعل کانام ہے ۔ جیسے : یَضْرِبُ ۔ (۳) اسم فاعل: کام کرنیوالے کانام ہے ۔ جیسے : ضَارِبٌ ۔ (۴) اسم مفعول: جس پر کام کیا جائے اس کانام ہے ۔ جیسے : مَضْرُوْبٌ ۔ (۵) جحد: انکار ماضی کو کہتے ہیں ۔ جیسے : لَمْ یَضْرِبْ ۔ (۶) نفی:انکار مستقبل کو کہتے ہیں ۔ جیسے : لَایَضْرِبُ ۔ (۷) امر:کسی کام کا حکم دینا ۔ جیسے : اِضْرِبْ ۔ (۸) نہی: کسی کام سے روکنا ۔ جیسے : لَاتَضْرِبْ ۔ (۹) اسم زمان: کام کرنے کے زمانے کا نام ہے ۔ جیسے : مَضْرِبٌ ۔ (۱۰) اسم مکان: کام کرنے کی جگہ کانام ہے ۔ جیسے : مَضْرِبٌ ۔ (۱۱) اسم آلہ:جس چیز کے ساتھ کام کیا جائے اس کانام ہے ۔ جیسے : مِضْرَبٌ ۔ (۱۲) اسم تفضیل: زیادہ (کام)کرنے والے کانام ہے ۔ جیسے : اَضْرَبُ ۔
نوٹ:اختصار کے ساتھ بارہ اقسام کی امثلہ ذکر کردی گئیں تاکہ مبتدیوں کے لیے یاد کرنا آسان رہے ۔
صرف صغیر([1]) فعل صحیح ثلاثی بروزن فعل یفعل جیسے اَلضَّرْبُ(مارنا)
ضَرَبَ یَضْرِبُ ضَرْبًا، فَہُوَضَارِبٌ([2])، وَضُرِبَ یُضْرَبُ ضَرْبًا، فَذَاکَ مَضْرُوْبٌ([3])، لَم یَضْرِبْ لَمْ یُضْرَبْ، لایَضْرِبُ لایُضْرَبُ، لَنْ یَّضْرِبَ لَنْ یُّضْرَبَ ۔
الامرمنہ:اِضْرِبْ لِتُضْرَبْْ، لِیَضْرِبْ لِیُضْرَبْ ۔
والنہی عنہ:لا تَضْرِبْ لا تُضْرَبْ، لایَضْرِبْ لایُضْرَبْ ۔
والظرف منہ:مَضْرِبٌ مَضْرِبَانِ مَضَارِبُ وَمُضَیْرِبٌ ۔
والالۃ منہ:مِضْرَبٌ مِضْرَبَانِ مَضَارِبُ وَمُضَیْرِبٌ، مِضْرَبَۃٌ مِضْرَبَتَانِ مَضَارِبُ وَ مُضَیْرِبَۃٌ، مِضْرَابٌ مِضْرَابَانِ مَضَارِیْبُ، وَمُضَیْرِیْبٌ وَمُضَیْرِیْبَۃٌ ۔
افعل التفضیل للمذکرمنہ:أَضْرَبُ أَضْرَبَانِ أَضْرَبُوْنَ أَضَارِبُ وَأُضَیْرِبٌ ۔
والمؤنث منہ:ضُرْبٰی ضُرْبَیَانِ ضُرْبَیَاتٌ ضُرَبٌ وَضُرَیْبٰی ۔
والتعجب منہ:مَاأَضْرَبَہٗ وَأَضْرِبْ بِہٖ وَضَرُبَ، یا ضَرُبَتْ ۔
اے عزیزجان لے کہ’’ فعل‘‘ حدث ہے ([4]) اور اس کے لیے محدِث چاہیے جسے ’’فاعل‘‘ کہتے ہیں ، اور فاعل یاتوواحد ہوتا ہے ([5])یاتثنیہ یاجمع ۔ اور ان تینوں میں سے ہر ایک یاتومذکر ہوتا ہے یامؤنث، اور متکلم ہوتاہے ، مخاطب ہوتاہے یا غائب ۔
یاد رکھ ! ’’واحد‘‘ ایک کو، ’’ تثنیہ‘‘ دو کو، اور’’ جمع‘‘ دو سے زیادہ کوکہتے ہیں ۔ اور ’’ متکلم‘‘ بات کر نیوالے کو، ’’ مخاطب‘‘ جس سے بات کی جائے اس کو، اور’’ غائب ‘‘جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو کہتے ہیں ۔ ’’مذکر‘‘ مرد کو اور’’ مؤنث‘‘ عورت کوکہتے ہیں ۔
ماضی کی دوقسمیں ہیں :(۱) ماضی معلوم([6]) اور(۲) ماضی مجہول ۔ ماضی معلوم کے چودہ صیغے ہیں ([7]):چھ غائب کے ، چھ مخاطب کے اور دو نفس متکلم کے ، غائب کے چھ صیغوں میں سے تین مذکر کے ہوتے ہیں اور تین مؤنث کے ، اور مخاطب کے چھ صیغوں میں سے بھی تین مذکر کے ہوتے ہیں اور تین مؤنث کے ، اور جو دوصیغے متکلم کے ہیں ان میں ایک واحدمتکلم کاہوتاہے خواہ متکلم مرد ہو یا عورت، اور دوسرا متکلم مع الغیرکاہوتا ہے خواہ متکلم تثنیہ ہو یا جمع ، مرد ہو یا عورت ۔
[1] قولہ: (صرف صغیر)خیال رہے صرف کی دو قسمیں ہیں : (۱)صرف صغیراور(۲)صرف کبیر ۔ متقدمین کے نزدیک صرف صغیریہ ہے کہ ہر گردان سے ایک ایک صیغہ ذکر کیاجائے ۔ اورمتأخرین کے نزدیک صرف صغیریہ ہے کہ بعض گردانوں سے ایک ایک صیغہ اور بعض گردانوں کے تمام صیغے ذکر کیے جائیں ، مصنف علیہ الرحمہ نے اسی کو اختیار فرمایاہے ۔ (فائدہ)فعل کے صیغے کثیر ہونے کی بناء پرصرف صغیر میں اس کا ایک ایک صیغہ اور اسم کے صیغے قلیل ہونے کی وجہ سے اس کے تمام صیغے ذکر کیے جاتے ہیں ۔ مگر اسم فاعل اور اسم مفعول کی فعل کے ساتھ قوۃِ مشابہت کے سبب ذکر صیغ کے باب میں اس پرفعل کا حکم جاری کرتے ہوئے اس کے بھی بعض ہی صیغے ذکر کیے جاتے ہیں ، بخلاف اسم تفضیل کے ؛کہ اس کی مشابہت فعل کے ساتھ ضعیف ہونے کی وجہ سے اس پر فعل کا حکم جاری نہیں کیاجاتا ۔
[2] قولہ: (فھوضارب)اس میں فاء تعقیب کے لیے ہے ، یافاء فصیحہ ہے یعنی شرط محذوف کی جزاء کے لیے ہے ، تقدیر یہ ہے : ’’اذا کان الامر کذلک فھو ضارب‘‘، یازائدہے ؛ برائے تحسین یاتفریح لائی گئی ہے ۔
[3] قولہ: (فذاک مضروب)اسم فاعل اور اسم مفعول میں فرق کرنے کے لیے اول کے ساتھ لفظ’’ھو‘‘ اور ثانی کے ساتھ لفظ’’ذاک‘‘لایاجاتاہے ۔
[4] قولہ: (فعل حدث ہے )فعل بمعنی’’کام‘‘، اور حدث بمعنی ’’نیا کام‘‘اورفاعل یا محدث بکسردال کام کرنے والا ۔
[5] قولہ: (اورفاعل یاتو واحدہوتاہے ...الخ)اگر فاعل واحد ہو تو صیغۂ فعل کو واحد، تثنیہ ہوتوتثنیہ اور جمع ہوتو جمع کہتے ہیں ، اگر فاعل مذکر ہوتوصیغۂ فعل کومذکر ، مؤنث ہوتو مؤنث کہتے ہیں ، اگرفاعل غائب ہوتوصیغۂ فعل کوغائب، حاضرہوتوحاضر، اور متکلم ہوتومتکلم کہتے ہیں ، بشرطیکہ فاعل اسم ضمیر ہو ۔ مگر خیال رہے کہ فعل کو تثنیہ، جمع، مذکر، مؤنث، اورغائب، حاضراور متکلم کہنامحض مجازاً ہے ؛ کیونکہ یہ چیزیں (تثنیہ جمع وغیرہ ہونا) اسم کے خواص میں سے ہیں ۔
[6] قولہ: (ماضی معلوم)لفظ’’ماضی‘‘واحد مذکر اسم فاعل کاصیغہ ہے ازباب ضرب، اس کا لغوی معنی ہے ’’گذرنے والا‘‘ ۔ اصطلاح میں ماضی وہ فعل جو زمانۂ گذشتہ میں کسی کام کے پائے جانے پر دلالت کرے ۔ جیسے : ضَرَبَ ۔ اور معلوم سے مراد وہ فعل ہے جس کا فاعل معلوم ہو، اسے ’’معروف ‘‘بھی کہتے ہیں ۔ ثلاثی مجرد سے اس کو بنانے کاطریقہ یہ ہے کہ مصدر سے زوائد کو حذف کرکے (اگرہوں )فاء اورلام کلمہ کوفتحہ دیتے ہیں اور عین کلمہ پر(باب کے اعتبارسے ) کبھی فتحہ، کبھی کسرہ اور کبھی ضمہ دیتے ہیں ۔ جیسے : ضَرْبٌ سے ضَرَبَ، سَمْعٌ سے سَمِعَ، کَرَامَۃٌ سے کَرُمَ ۔
[7] قولہ: (چودہ صیغے ہیں )صیغے صیغہ کی جمع ہے ، یہ اصل میں ’’صِوْغَۃٌ‘‘ تھا؛ واوساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلا تو ’’صِیْغَۃٌ‘‘ ہوگیا ۔ اس کا لغوی معنی ہے ’’پیدائش‘‘اور’’ڈھالنا‘‘ اسی لیے سنار کو ’’صائغ‘‘ کہا جاتاہے یعنی سونے کو ڈھالنے والا ۔ نیزصیغہ بمعنی ’’اصل‘‘ بھی آتاہے ۔ جیساکہ کہاجاتاہے : ’’ھو من صیغۃ کریمۃ‘‘ یعنی وہ بزرگ اصل سے ہے ۔ اور اصطلاح میں صیغہ سے مراد وہ ہیئت ہے جوحروف کو بمع حرکات وسکنات ترتیب دینے سے حاصل ہوتی ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع