30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھراسم کی تین قسمیں ہیں ([1]) :(۱) ثلاثی ، (۲)رباعی ، (۳)خماسی ۔
ثلاثی تین حروف والے ([2])اسم کو کہتے ہیں ۔ جیسے زَیْدٌ ۔ رباعی چار حروف والے اسم کو کہتے ہیں ۔ جیسے جَعْفَرٌ([3]) ۔ اورخماسی پانچ حروف والے اسم کو کہتے ہیں ، جیسے سَفَرْجَلٌ ۔
اورفعل کی دو قسمیں ہیں :(۱) ثلاثی اور(۲)رباعی([4]) ۔
ثلاثی تین حروف والے فعل کو کہتے ہیں ۔ جیسے ضَرَبَ ۔ اوررباعی چار حروف والے فعل کو کہتے ہیں ۔ جیسے دَحْرَجَ ۔
معلوم ہونا ([5])چاہیے کہ کلام عرب کا میزان([6]) (جس سے کلمہ کا وزن معلوم کرتے ہیں ) (ف، ع، ل) ہیں جن کا مجموعہ( فعل) ہے ۔
اورحرف کی بھی دو قسمیں ہیں ([7]): (۱)حرف اصلی (۲)حرف زائد ۔
حرف اصلی وہ حرف جو فاء ، عین اور لام کلمہ کے مقابلہ میں آئے ۔ جیسے ضَرَبَ بروزن فَعَلَ ۔ اور حرف زائد وہ حرف جو فاء، عین اورلام کلمہ کے مقابلہ میں نہ ہو ۔ جیسے اَکْرَمَ بروزن اَفْعَلَ ۔ (میں ھمزہ) یادرکھ اے پیارے بھائی!کہ حروف اصلیہ ثلاثی میں تین ہوتے ہیں : فاء، عین اور ایک لام([8]) ۔ جیسے ضَرَبَ بروزن فَعَلَ ۔ رباعی میں چا ر ہوتے ہیں : فاء، عین اور دو لام ۔ جیسے دَحْرَجَ بروزن فَعْلَلَ ۔
[1] قولہ: ( اسم کی تین قسمیں ہیں )یہاں اسم سے مراد اسم جامد متمکن ہے کیونکہ مشتق اور مصدر فعل کی طرح ثلاثی ورباعی ہی ہوتے ہیں خماسی نہیں ہوتے ، خماسی صرف اسم جامد ہی ہوتاہے ۔ اگر کہیے کہ اسم احادی (ایک حرف والا)اورثنائی(دوحروف والا)بھی ہوتاہے ۔ جیسے :کاف خطاب اورھو، توان دونوں قسموں کومصنف نے تقسیم میں کیوں شامل نہیں کیا؟توہم کہیں گے اس لیے کہ احادی اورثنائی اسم غیر متمکن ہی ہوتے ہیں اور یہ تقسیم اسم متمکن کی ہے ۔
[2] قولہ: ( ثلاثی تین حروف والے ... الخ )ثلاثی کا لغوی معنی ہے تین والا ، اور اصطلاحِ اہل صرف میں وہ کلمہ ہے جس میں تین حروف اصلیہ ہوں خواہ ان کے ساتھ کوئی زائدحرف بھی ہو ۔ جیسے : کتاب، یا زائد حرف نہ ہو ۔ جیسے : رجل ۔ اور اسی طرح رباعی اور خماسی ہیں ۔ (فائدہ) کبھی ثلاثی سے مراد مطلقا سہ حرفی کلمہ ہوتا ہے ، اور اسی طرح رباعی اور خماسی سے مطلقا چار حرفی او رپانچ حرفی کلمہ مراد ہوتا ہے ، خواہ تمام حروف اصلی ہوں یا بعض حروف اصلی ہوں اور بعض زائد، اسم متمکن ہو یا غیر متمکن، فعل متصرف ہو یا غیر متصرف ، اورخواہ وہ کلمہ حرف ہی کیوں نہ ہو ۔ جیسے : اکرم اوردحرج رباعی ہیں ، اور اجتنب، یجتنب خماسی ہیں ۔
[3] قولہ: (جعفر )جعفربمعنی’’ نہر صغیر‘‘یا’’نہرکبیر‘‘ لہذایہ لغات اضداد سے ہے ، نیز اس کا معنی’’ ناقۂ فربہ‘‘ بھی ہے ۔ البتہجعفر بمعنی ’’خربوزہ‘‘ ، یا بمعنی ’’گدھا‘‘ لغت کی معتبر کتابوں سے نہیں مل سکا ۔
[4] قولہ: ( ثلاثی اوررباعی)خیال رہے کہ فعل خماسی نہیں ہوتا، نہ مجرد نہ مزیدفیہ؛کیونکہ فعل معنی ثقیل ہوتا ہے اس لیے کہ یہ حدث پردلالت کرتا ہے نیز فاعل اور زمانہ کی طرف نسبت کا محتاج ہے ، اب اگر فعل خماسی بھی ہوتا تو اس میں لفظا اور معنی دونوں طرح ثقل لازم آتا ۔ ہاں ! فعل سداسی کی ایک مثال’’ حجلنجع ‘‘ہے ۔ مگر یہ شاذ ہے ۔
[5] قولہ: (معلوم ہونا... الخ)مصنف علیہ الرحمۃ نے حرف کی تقسیم نہیں کی حالانکہ حرف احادی، ثنائی، ثلاثی، رباعی اور خماسی آتا ہے ۔ جیسے : ہمزہ استفہام ، من ، لیت، لعلاور لکن؛اس لیے کہ حروف معانی جو کلمہ کی ایک قسم ہیں ، یہاں ان کا ذکر کرنا مقصود نہیں ؛ کیونکہ صرفی ایسے کلمہ سے بحث کرتے ہیں جو فعل متصرف اور اسم متمکن ہو، اور حرف میں تصرف نہیں ہوتا ۔ اوراسی بناء پر اسم غیر متمکن کو بھی اسم کی تقسیم میں شامل نہیں کیاتھا ۔
[6] قولہ: (کلام عرب کامیزان ) میزان اصل میں ’’ مِوْزَانٌ‘‘ تھا، واو ساکن ماقبل مکسورکو یاء سے بدل دیاتو’’میزان‘‘ ہوگیا ۔ میزان لغت میں وزن کرنے کا آلہ یعنی ترازو کو کہتے ہیں ، اور اہل صرف کی اصطلاح میں میزان سے مرادوہ حروف ہیں جن سے کلمات عرب کا موازَنہ اور مقابلہ کیا جائے تاکہ اصلی اور زائد حروف کے درمیان امتیازہوجائے ۔ اسی کو’’موزون بہ‘‘بھی کہتے ہیں یعنی جن سے وزن کیا گیا، اورعرب میں میزان اور موزون بہ کو’’ وزن‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ اور جس کلمہ کے حروف کو فاء عین اور لام کے مقابلہ میں لائیں گے اس کو’’ موزون‘‘ کہیں گے یعنی وزن کیا گیا ۔ جیسے : نَصَرَ بروزن فَعَلَمیں نَصَرَ کو’’ موزون‘‘ اورفَعَلَ کو اس کا’’ میزان ‘‘یا’’ موزون بہ‘‘ یا’’ وزن‘‘ کہیں گے ۔ اور کلمہ کے حروف کو فاء عین اور لام کے مقابل کرنے کو’’ وزن کرنا‘‘کہتے ہیں ۔ (فائدہ):وزن کی تین قسمیں ہیں :(۱) وزن صرفی (۲)وزن صوری (۳)وزن عروضی ۔
وزن صرفی: وہ وزن جس میں حروف اصلیہ وزائدہ اور حرکات خصوصیہ وسکنات کی موافقت ہو جیسے :عَوَارِفُ بروزن فَوَاعِلُ ۔ اسے ’’وزن تصریفی‘‘ بھی کہتے ہیں ۔
وزن صوری:وہ وزن جس میں حرکات خصوصیہ وسکنات کی موافقت ہو اگر چہ حروف اصلیہ وزائدہ کی موافقت نہ ہو ۔ جیسے : عَوَارِفُ بروزن اَفَاعِلُ یامَفَاعِلُ ۔
وزن عروضی: وہ وزن جس میں حرکات وسکنات کی موافقت ہو اگرچہ حروف اصلیہ وزائدہ اور حرکات خصوصیہ کی موافقت نہ ہو ۔ جیسے : عَوَارِفُ بروزن مُفَاعَلٌ ۔
[7] قولہ: ( حرف کی بھی دو قسمیں ہیں ... الخ)
یہاں حرف سے مراد وہ حرف نہیں جو کلمہ کی ایک قسم ہے بلکہ مرادحرف مبانی ہے ۔ (فائدہ) مطلق حروف کی دوقسمیں ہیں :(۱) حروف معانی (۲) حروف مبانی، حروف معانی: وہ حروف ہیں جوبا معنی ہوں ۔ جیسے :’’ من‘‘ اور’’الی‘‘، یہی حروف کلمہ کی ایک قسم ہیں ، ان کے بارے میں نحوی حضرات بحث کرتے ہیں ۔ اور حروف مبانی: وہ حروف ہیں جوبامعنی نہ ہوں ، ان سے کلمات مرکب ہوتے ہیں ۔ جیسے : ’’ب ، ت‘‘وغیرہ، ان کو’’ حروف تہجی‘‘ اور’’ حروف ہجا ‘‘بھی کہتے ہیں ، یہ حروف کلمہ کی قسم نہیں ۔ پھر حروف مبانی کی دو قسمیں ہیں :(۱) حروف اصلیہ(۲) حروف زائدہ ۔ حروف اصلیہ کسی کلمہ کے وہ حروف جواس کے وزن کے فاء عین اور لام کے مقابل ہوں ۔ جیسے : نَصَرَ بروزن فَعَلَ ۔ اورحروف زائدہ :وہ حروف جو فاء عین اور لام کلمہ کے مقابلہ میں نہ ہوں ۔ جیسے : نَاصِرٌ بروزن فَاعِلٌ ۔ میں الف زائد ہے ۔ خیال رہے کہ کسی کلمہ کے حروف اصلیہ ہی کو اس کلمہ کا’’ مادہ‘‘ کہتے ہیں ۔
[8] قولہ: ( فاء عین اورایک لام) علمائے صرف کی اصطلاح میں کسی کلمہ کے ’’فاء کلمہ‘‘ سے مراد وہ حرف ہے جو اس کے وزن کے فاء کے مقابلہ میں ہو، اور عین کلمہ سے مراد وہ حرف ہے جو عین کے مقابل ہو، اور پہلے لام سے مراد وہ حرف ہے جو پہلے لام کے مقابلہ میں ہو، اور دوسرے لام سے مرادوہ ہے جو دوسرے لام کے مقابلہ میں ہو، اور تیسرے لام سے مراد وہ حرف ہے جو تیسرے لام کے مقابلہ میں ہو ۔ جیسے : جَحْمَرِشٌ بروزن فَعْلَلِلٌ ۔ میں جحمرش کا جیم فاء کلمہ ہے ، حاء عین کلمہ ہے ، میم پہلالام ہے ، راء دوسرا لام ، اور شین تیسرا لام ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع