30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شعبۂ درسی کتب
مجلس المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
جان لے ([1]) تو اے پیا رے اسلامی بھائی ! اسعدک([2]) اللّٰہ تعالٰی فی الدارین([3]) (اللہ تبارک وتعالی تجھے دونوں جہاں میں خوش بخت رکھے )کہ لغت([4])
عرب([5])کے کلمات([6])کی تین قسمیں ہیں([7]): (۱)اسم([8]) ، جیسے رَجُلٌ، ........
عِلْمٌ([9])، (۲)فعل([10])، جیسے ضَرَبَ، دَحْرَجَ، اور(۳) حرف([11])، جیسے مِنْ، اِلٰی([12]) ۔
مصنف نے اپنی کتاب کوبسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیااس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((کل امر ذی بال لا یبدأ فیہ بــ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) أقطع))(الدرالمنثور، ج۱، ص۲۶) ۔ نیزاس لیے تاکہ قرآن کریم کی اتباع ہوجائے کہ وہ بھی بسم اللہ... الخ سے شروع ہے ۔
1 قولہ: (جان لے )یہ صیغہ امر ہے ، مصنفین کی یہ عاد ت ہے کہ جب بہت اہم چیزبیان کرنی ہوتولفظ بداں (جان لے ) یا لفظ اِعلم لاتے ہیں تاکہ مخاطب کی غفلت دور ہو اور اس اہم امر کی طرف متوجہ ہوکر اس کو اچھی طرح سمجھ سکے ۔
[2] قولہ: (اسعدک ۔ ۔ ۔ الخ)یہ دعائیہ کلمہ ہے ، یہ بھی مصنفین کی شفقتوں سے ہے کہ وہ طلبہ کرام کو جگہ جگہ دعاؤں سے نواز تے رہتے ہیں ، اوریہاں سعادت سے مراد علم کی دولت ہے جسے حاصل کرکے اس پر عمل کرنا دنیاوآخرت کی عزت اور سعادتمندی کاسبب اور ذریعہ نجات ہے ۔ اگر کہیے کہ مصنف جملہ دعائیہ عربی میں کیوں لائے ؟تو ہم کہیں گے : اس لیے کہ عربی زبان میں کی گئی دعا اللہ تعالی کومحبوب ہے کیونکہ اللہ تعالی کے محبوب اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زبان عربی ہے ، اورمحبوب کی ہر شے محبوب ہوتی ہے لہذا اللہ تعالی کو اپنے محبوب اکرم کی زبان محبوب ترین ہے اور تمام زبانوں سے افضل ترین ہے ۔
[3] قولہ: (الدارین) داریندار کاتثنیہ ہے ، اور دار اصل میں ’’دَوَرٌ ‘‘تھا واو کو الف کیا ’’دار‘‘ہوگیا ، اس کے لغوی معنی پھر پھرکر آنا، گھر کو دار اسی لئے کہتے ہیں کہ اس میں بھی انسان پھر پھر کر آتا ہے ، اور یہاں دارین سے مراد ’’دار دنیا ‘‘اور’’دار آخرت ‘‘ہے ۔
[4] قولہ: ( لغت)اصل میں ’’لُغَوٌ ‘‘یا ’’لُغَیٌ ‘‘تھا واو یایاء متحرک ماقبل مفتوح الف ہو کرالتقاء ساکنین کی وجہ سے گرگئے اوراس کے عوض آخر میں تاء آگئی تو ’’ لغت‘‘ ہوگیا ۔ (فائدہ) تائے عوض ہمیشہ ایسے حرف کے عوض لاتے ہیں جو التقائے ساکنین کے بغیر حذف ہواہو جیسے ’’عِدَۃٌ‘‘اور ’’اِقَامَۃٌ‘‘ وغیرہ میں ، مگر’’ لغۃ‘‘ اور’’ مائۃ ‘‘یہ دو ایسے کلمے ہیں جن میں واو الف ہوکر التقائے ساکنین سے گری اورآخر میں تاء عوض لائے ۔ لغت کالغوی معنی ہے بولی یعنی ایسی آوازیں جن کے ذریعہ ہر قوم اپنے اغراض ومقاصد بیان کرے ، اور اصطلاح میں لغت وہ علم ہے جس سے کسی زبان کے مفردات کے معنی وضعی اورطریقہ استعمال معلوم ہو ۔
[5] قولہ: (عرَب)عَرَبعین اورراء کے فتحہ، یاعین کے ضمہ اورراء کے سکون کے ساتھ ، یہ اس مقدس ملک کانام ہے جس میں نبی محترم شافع امم سیدالانبیاء سرور عالم محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیداہوئے اور تشریف فرماہیں ۔
[6] قولہ: ( کلمات ۔ ۔ ۔ الخ)کلمات کلمہ کی جمع ہے اور کلمہ جمہورنحات کے نزدیک غیر مشتق ہے ، اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ کَلْمٌ سے ماخوذ ہے جس کالغوی معنی ’’زخمی کرنا ‘‘ہے ۔ اور اصطلاح میں کلمہ اس ایک لفظ کو کہتے ہیں جو کسی معنی کے لیے وضع کیاگیا ہو، اور کلمہ کے لغوی معنی(زخمی کرنا)اور اصطلاحی معنی میں مناسبت یہ ہے کہ بعض کلمات بھی اس طرح اثر کرتے ہیں جس طرح زخم کااثر ہوتاہے جیساکہ مقولہ ہے : جراحۃ اللسان اصعب من جراحۃ السنان یعنی زبان(کلام) کازخم تلوار نیزے کے زخم سے زیادہ سخت ہے ۔
[7] قولہ: (تین قسمیں ہیں ) ان تین قسموں کو’’ سہ اقسام‘‘ بھی کہتے ہیں ، قسم کالغوی معنی’’ حصہ‘‘ ہے یا’’شے مقسوم کا جزء‘‘ ہے ۔ اگر کہیے کلمہ کی تین ہی قسمیں کیوں ہیں ؟تو ہم کہیں گے اس لیے کہ کلمہ دو حال سے خالی نہیں یاتو مستقل معنی ٰ پر دلالت کرے گایانہیں ۔ اگرنہ کرے توحرف ہے ، اوراگر کرے گاتوپھردوحال سے خالی نہیں یاتواس میں زمانہ پایاجائے گایانہیں اگرپایاجائے گا تو فعل ہے ورنہ اسم ۔
[8] قولہ: (اسم)اسم کالغوی معنی نشانی یابلندی ہے ، عرف میں بمعنی نام استعمال ہوتا ہے ، بصریوں کے نزدیک یہ اصل میں ’’ سِمْوٌ‘‘ تھا بمعنی بلندی سَمَا یَسْمُوْ سے ، واو پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرگیا، واو بھی التقائے تنوین کے سبب گرگئی، اور اس واو کے عوض اول میں ہمزہ لائے اور سین کا کسرہ نقل کرکے ہمزہ کو دیااور میم پر اعراب جاری ہوا، لہذا ’’اِسْمٌ‘‘ بروزن’’ اِفْعٌ‘‘ ہے ۔ اور کوفیوں کے نزدیک اس کی اصل ’’وِسْمٌ‘‘ہے بمعنی ’’نشانی‘‘اور’’داغ کرنا‘‘، واوکو حذف کرکے اس کے عوض ہمزہ لائے ۔ اس تقدیر پر ’’اِسْمٌ‘‘ بروزن ’’فِعْلٌ‘‘ ہوگا ۔ بصریین کے نزدیک اسم کو اسم اس لیے کہتے ہیں کہ اسم کا لغوی معنی بلندی ہے اوراسم اصطلاحی بھی اپنے دونوں قسیمین (فعل اور حرف) سے مرتبہ میں بلند ہے ؛کیونکہ اسم مسند الیہ اور مسند ہوسکتاہے اور فعل مسند ہوتا ہے ، مسند الیہ نہیں ہوتااور حرف نہ مسند ہوتا ہے نہ مسند الیہ ۔ اورکوفیین کے نزدیک اسم کو اسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسم کا لغوی معنی نشانی ہے اور اسم اصطلاحی بھی اپنے مسمیٰ پر علامت ہوتاہے ۔ اصطلاح میں اسم وہ کلمہ ہے جو مستقل معنی پر دلالت کرے اورباعتبار وضع اول تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس میں نہ ہو ۔ جیسے رَجُلٌ ، عِلْمٌ ۔
[9] قولہ: (رجل اورعلم)یہ اسم کی مثالیں ہیں ، اور اسم کی بعض علامتیں یہ ہیں :(۱) اس کے اول میں الف لام ہونا ۔ جیسے : الحمد ۔ (۲) اول میں حرف جر ہونا ۔ جیسے : للہ ۔ (۳)آخر میں تنوین ہونا ۔ جیسے : محمد ۔ (۴)مسند الیہ ہونا ۔ جیسے : محمد رسول اللہ ۔ (۵) مضاف ہونا ۔ جیسے : محب اللہ ۔ (۶)مصغّر ہونا ۔ جیسے : حسین ۔ (۷)منسوب ہونا ۔ جیسے : مدنی، نوری ۔ (۸)تثنیہ ہونا ۔ جیسے : عالمان ۔ (۹)جمع ہونا ۔ جیسے : عالمون ۔ (۱۰)موصوف ہونا ۔ جیسے : رجل عالم ۔ (۱۱)آخر میں تائے متحرکہ ہونا جو بوقت وقف ’’ہاء ‘‘ہوجائے ۔ جیسے : فاطمۃ ۔ (۱۲)مستثنی ہونا ۔ جیسے :جاء نی القوم الازیدا ۔
[10] قولہ: (فعل)فِعل(فاء کے کسرہ کے ساتھ) اسم مصدر ہے ، اورفَعل(فاء کے فتحہ کے ساتھ) مصدر ہے ۔ اس کالغوی معنی ہے ’’ کام‘‘، اور اصطلاح میں فعل وہ کلمہ ہے جو مستقل معنی پر دلالت کرے اورباعتبار وضع اول تینوں زمانوں میں سے کو ئی زمانہ اس میں پایاجائے ۔ جیسے : نَصَرَ، یَنْصُرُ ۔
فعل اصطلاحی کو فعل اس لیے کہتے ہیں کہ اصطلاحی فعل ، لغوی فعل( حدث، معنی مصدری) کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتاہے ۔
[11] قولہ: (ا ورحرف) حرف کالغوی معنی ہے ’’کنارہ‘‘کہاجاتاہے : جلست علی حرف الوادی(میں وادی کے کنارے پر بیٹھا) اور اصطلاح میں حرف وہ کلمہ ہے جو مستقل معنی پر دلالت نہ کرے ۔ حرف کو حرف اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کلام میں طرف اور کنارہ پر ہوتاہے یعنی نہ مسند الیہ ہوتاہے اور نہ مسند ۔
[12] قولہ: ( من ، الی)مصنف علیہ الرحمۃ نے اسم ، فعل اور حرف میں سے ہر ایک کی دو دو مثالیں ذکرفرمائی کیوں کہ اسم کی دوقسمیں ہیں : مصدر اور جامد ، رجلاسم جامد کی مثال ہے اور علم مصدر کی ، اور فعل کی بھی دو قسمیں ہیں :ثلاثی اوررباعی، ضرب ثلاثی کی مثال ہے اور دحرج رباعی کی، اور حرف کی دو مثالیں اس لیے ہیں کہ حرف کامعنی طرف ہے اور ہر چیز کی دو طرفیں ہوتی ہیں :ابتداء اورانتہاء، لہذا من ابتداء کے لیے اور الٰی انتہاء کے لیے ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع