30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیماری میں مبتلاآدمی کو دیکھ کر”فُلاں کی بیماری مجھے لگ جائے اور وہ صحتیاب ہو جائے“کہنے کے بجائے اللہ پاک سے اس کی صحتیابی اور اپنے لیے عافیت کی دُعا کرنی چاہیے ۔ اللہ پاک ہم سب کی ظاہری باطنی ، جسمانی روحانی بیماریاں دُور فرما کر ہمیں صحت تندرستی ، عافیت اور نیکیوں والی زندگی عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
”آپ کو میری عمر لگ جائے“ کہنا کیسا؟
سُوال : ”آپ کو میری عمر لگ جائے “کہنا کیسا ہے؟
جواب : کسی کو کہنا کہ ”آپ کو میری عمر لگ جائے“اس میں حَرج نہیں کیونکہ اس سے عقیدت و محبت کا اِظہار اور لمبی عمر کی دُعا دینا مقصود ہوتا ہے ، اَلبتہ اس کے بجائے یوں کہا جائے تو زیادہ اچھا ہے کہ” اللہ پاک آپ کو درازی عمر بالخیر عطا فرمائے کیونکہ اللہ پاک بغیر کسی کی عمر گھٹائے بھی دوسرے کو درازیٔ عمر دینے پر یقیناً قادِر ہے اور بندوں کی دُعاؤں سے عمریں گھٹتی اور بڑھتی بھی ہیں جیسا کہ مشہور مُفَسّر ، حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر ایک ہزار سال تھی (جبکہ داؤد عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر ساٹھ سال تھی ) ، آپ نے (یعنی آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں ) عرض کیا کہ میری عمر نو سو ساٹھ سال کر دے اور داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر پورے سو سال ۔ یہ دُعا رب نے قبول فرما لی ۔ معلوم ہوا کہ نبی کی دُعا سے عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں ، ان کی شان تو بہت اَرفع ہے شیطان کی دُعا سے اس کی عمر بڑھ گئی کہ اُس نے عرض کیا تھا : (رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۷۹))(پ۲۳ ، صٓ : ۷۹ ) (ترجمۂ کنز الایمان : اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں ۔ ) رب تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : (فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ(۸۰)) (پ۲۳ ، ص : ۸۰ ) (ترجمۂ کنز الایمان : تو مہلت والوں میں ہے ۔ ) (فَاِنَّكَ)کی” ف“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیادتی عمر اس کی دُعا سے ہوئی ۔رہی وہ آیتِ کریمہ : (اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ(۴۹) ) (پ۱۱ ، یونس : ۴۹ ) (ترجمۂ کنز الایمان : جب ان کا وعدہ آئے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹیں نہ آگے بڑھیں ۔ ) وہ اس حدیث کے خِلاف نہیں کیونکہ آیت میں تَقدیرِ مُبرم یعنی علمِ اِلٰہی کا ذِکر ہے اور یہاں تَقدیرِمُعَلَّق کی تحریر کا ذِکر یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے اِختیار سے اپنی عمر کم و بیش نہیں کر سکتا اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کی دُعا سے عمریں رب گھٹا بڑھا دیتا ہے ۔آخر عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مُردوں کو زندہ فرماتے تھے انہیں آپ کی دُعا سے نئی عمریں مل جاتی تھیں سچ ہے دُعا سے تَقدیر پلٹ جاتی ہے ۔ ([1] )
کِن کِن بزرگوں سے خِلافَت ملی؟
سُوال : حضور ! آپ کو کن کن بزرگوں سے خِلافَت حاصِل ہے؟
جواب : (شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ ! مجھے چاروں سَلاسِل (یعنی سلسلۂ قادریہ ، چشتیہ ، نقشبندیہ اور سہروردیہ ) کے بزرگوں سے خِلافت حاصِل ہے ۔ سب سے پہلے حضرتِ علّامہ حافِظ عبدُالسَّلام فتح پوری قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی جو قُطبِ مدینہ حضرتِ علّامہ مولانا ضیاءُ الدِّین احمد مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی کے وکیل و خلیفہ تھے انہوں نے کولمبو (سی لنکا ) میں گیارہ رَبیع الآخر ۱۳۹۹ ھ مُطابق 10مارچ 1979ء کو اپنی خِلافت اور سَیِّدی قُطبِ مدینہ حضرتِ مولانا ضیاءُ الدِّین احمد مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی کی وَکالت عطا فرمائی ہے ۔ پھرمفتیٔ اعظم پاکستان ، وَقارُ الملت حضرتِ مولانا مفتی محمد وَقارُ الدِّین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع