30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے گھر والوں کی اِصلاح ہوتی ہے اور وہ نیک بنتے ہیں ۔قرآنِ پاک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہاں ہمیں اپنی اِصلاح کرنے اور جہنم کی آگ سے بچنے کا حکم اِرشاد فرمایا ہے تو وہاں اپنے گھر والوں کی اِصلاح کرنے اور انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم بھی اِرشاد فرمایا ہے ۔ چُنانچہ خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ۲۸ ، التحریم : ۶ )
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو ! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے اِیندھن آدمی اور پتّھر ہیں ۔
اِسآیتِ مُبارَکہ میں اپنی اِصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی اِصلاح کا حکم بھی موجود ہے اس کے باوجودبعض مبلغین اپنے گھر والوں کی اِصلاح کی کوشش سے یکسر غافل رہتے ہیں ۔ محلے بھر میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاتے ہیں مگر گھر والوں کی اِصلاح پر بالکل تَوَجُّہ نہیں دیتے ۔ گھر والوں کی روزانہ پانچوں نمازیں قضا ہو رہی ہوتی ہیں ، اس کے باوجود ماتھے پر بَل تک نہیں آتا ، انہیں سمجھانے کی کوشش تک نہیں کی جاتی حالانکہ”بچّہ جیسے آٹھویں سال میں قدم رکھے اس کے وَلی (یعنی سرپرست ) پر لازِم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے اور جب اُسے گیارہواں (سال ) شروع ہوتو وَلی پر واجب ہے کہ صوم و صلوٰۃ (یعنی روزے اور نماز کے ادا نہ کرنے ) پر مارے بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضَرر (یعنی نقصان ) نہ کرے ۔“ ( [1] )حدیثِِ پاک میں ہے : جب بچّے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کا حکم دو اور دس سال کے ہوجائیں توانہیں نماز نہ پڑھنے پر سزا دو ۔ ( [2] ) یاد رہے کہ بچوں کو یہ مارنا اِصلاح کے لیے ہو نہ کہ غُصَّہ نکالنے کے لیے اور”مار بھی لاٹھی اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ نہ ہو بلکہ بچوں کی طاقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نَرمی کے ساتھ ہاتھ سے ہو اور وہ بھی تین ضَربوں سے زائد نہ ہو ۔“ ( [3] )
اِسی طرح اگر کسی کے گھر کی خواتین بےپردہ گھومتی ہیں تو اُسے چاہیے کہ وہ غیرت کھائے اور انہیں پَردے کا پابند بنائے ۔ اگر باوُجُود ِقدرت اُس نے اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے منع نہ کیا تو وہ”دَیُّوث“ ([4] ) ہے اور دَیُّوث کے لیے حدیثِ پاک میں جنَّت سے محرومی کی سخت وعید آئی ہے ۔ چُنانچہ مالکِ کوثر و جنَّت ، محبوبِ ربّ العزت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت ہے : تین شخص جنَّت میں نہ جائیں گے : ماں باپ کو اِیذا دینے والا ، دَیُّوث اور مَردوں کی صورت بنانے والی عورت ۔ ([5] )
میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو ! ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ خود بھی نیکیاں کرے ، گناہوں سے بچے اور اپنے اہلِ خانہ کی بھی اِصلاح کا سامان کرتا رہےکہ انہیں علم و اَدب سکھانا اور ان کی اِصلاح کرنا ہماری ذِمَّہ داری ہے ۔چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا اِلْکِیارَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ہم پر فرض ہے کہ اپنی اَولاد اور اپنے اہلِ خانہ کو دِین کی تعلیم دیں ، اچّھی باتیں سکھائیں اور اُس اَدب و ہُنر کی تعلیم دیں جس کے بِغیر چارہ نہیں ۔ ([6] )
گنہگارو آؤ ، سِیہ کارو آؤ
گناہوں کو دیگا چھڑا مَدَنی ماحول
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۱۰/٣٤٥ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور
[2] ابوداود ، کتاب الصلوة ، باب متی یؤمرالغلام بالصلوة ، ۱/۲۰۸ ، حدیث : ۴۹۵ دار احیاء التراث العربی بیروت
[3] نور الایضاح مع مراقی الفلاح ، کتاب الصلوة ، ص ۱۰۸ مکتبة المدینه باب المدینه کراچی
[4] جو اپنی عورت یا اپنی کسی محرم پر غیرت نہ رکھے وہ دَیُّوث ہے ۔ (دُرِّمختار ، کتاب الحدود ، ۶/۱۱۳ دار المعرفة بیروت )
[5] مستدرک حاکم ، کتاب الایمان ، ثلا ثة لایدخلون الجنة...الخ ، ۱/۲۵۲ ، حدیث : ۲۵۲ دار المعرفة بیروت
[6] تفسیرقرطبی ، پ ۲۸ ، التحريم ، تحت الآیة : ۶ ، الجزء : ۹ ، ۱۸/۱۴۸دار الفکر بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع