30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالیشان ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پ۲۱ ، الاحزاب : ۲۱ ) ترجمۂ کنز الایمان : بےشک تمہیں رسولُ اﷲ کی پیروی بہتر ہے ۔
جو مسلمان آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی جتنی اچھّی پیروی کرے گا وہ اُتنا ہی اعلیٰ کامیاب ہو گا اورجو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کرے گا اور کفّار کے طور طریقے اپنائے گا وہ ہر گز کامیاب نہیں ہوسکے گا ۔ غیروں کی نقّالی کرنے ، ان کے طور طریقے اَپنانے اور ان جیسی شکل و صورت اِختیار کرنے والوں کے لیے عبرت ہی عبرت ہے ۔چنانچہ سُلطانِ اِنس و جان ، سرورِ ذِیشانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْھُمْ جو کسی قوم سے مُشابَہَت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے ۔ ([1] ) ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا : مونچھیں خوب پست (یعنی چھوٹی ) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی بڑھاؤ ) اور یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ ۔ ([2] ) لہٰذا ہمیں ہر ہر معاملے میں غیروں کی نقّالی سے بچتے ہوئے اپنے میٹھے میٹھے آقا ، مکی مَدَنی مصطفٰےصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرنی چاہیے ۔
اسی طرح فیشن کے بال رکھنے کے بجائے زُلفیں رکھنے کی سُنَّت پر عمل کیجیے کہ ہمارے پیارے آقا ، دو عالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حج و عمرہ کے احرام سے باہر ہوتے وقت حلق فرمانے کے علاوہ ہمیشہ اپنے سرِ مبارک کے پورے بال رکھے ۔ ([3] ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مبارک زُلفیں کبھی نصف (یعنی آدھے ) کان مبارَک تک تو کبھی کان مبارَک کی لَو تک اور بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں (یعنی کندھوں ) کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں ۔ ([4] ) ہمیں چاہيے کہ موقع بہ موقع تینوں سنتیں ادا کریں ، یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زُلفیں رکھیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنا اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مطیع و فرمانبردار بنائے اور سُنَّتوں پر عمل کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
مطیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی
سَدا سُنَّتوں پر چلا یاالٰہی (وسائلِ بخشش )
”اِنْ شَآءَ اللہ“لکھنے کا طریقہ
سُوال : عام تحریروں میں لوگ”اِنْ شَآءَ اللہ“ لکھتے وقت ”ن“ کو ”ش“سے ملا کر لکھتے ہیں جبکہ آپ اپنی تحریروں میں”ن“ کو ”ش“سے جُدا کر کے لکھتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟
جواب : ”اِنْ شَآءَ اللہ“کے اَلفاظ چونکہ قرآنی اَلفاظ ہیں اور اَلفاظِ قرآنی لکھتے وقت حتَّی الامکان میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ قرآنی رَسم الخط اور اِعراب کے مُطابق ہی لکھے اور پڑھے جائیں ۔ قرآنِ کریم میں جہاں بھی”اِنْ شَآءَ اللہ“کے اَلفاظ آئے ہیں ہر جگہ”ن“ ”ش“سے جُدا ہے اس لیے میں بھی اسی کا اِہتمام کرتا ہوں ۔ اسی طرح لفظِ ”جُمُعَہ“ کو عموماً لوگ”جُمْعَہ “پڑھتے ہیں
[1] ابو داود ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشھرة ، ۴/۶۲ ، حدیث : ۴۰۳۱
[2] شرح معانی الآثار ، کتاب الکراھة ، باب حلق الشارب ، ۴/۲۸ ، حدیث : ۶۴۲۲-۶۴۲۴دار الکتب العلمیة بیروت
[3] بہارِ شریعت ، ۳/۵۸۶ ، حِصّہ : ۱۶ماخوذاًمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[4] شمائل ترمذی ، ص ۱۸-۳۴-۳۵ دار احیاء التراث العربی بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع