دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saray Ghar walay naik kesay banay (Qisst 37) | سارے گھر والے نیک کیسے بنیں؟

book_icon
سارے گھر والے نیک کیسے بنیں؟

ہر کام شَریعت کے مُطابق میں کروں کاش !

یا ربّ تو مبلغ مجھے سُنَّت کا بنا دے         (وسائلِ بخشش )

دعوتِ اسلامی بِچھڑوں کو ملاتی ہے

سُوال : اگر کوئی اسلامی بھائی یا عام نوجوان گھر سے بھاگ کر آپ کے پاس آ جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟

جواب : اس طرح کے کئی اَفراد گھر سے بھاگ کر میرے پاس آتے اور اپنی اپنی  داستانِ غم نشان  سناتے ہیں ۔کوئی کہتا ہے کہ میرے ساتھ گھر والوں نے یہ کیا ، کوئی کہتا ہے میرے ساتھ گھر والوں نے وہ کیا ، اَلغرض ہر ایک اپنے مظلوم و بے قصور ہونے کا رونا روتا ہے ، پھر جب ان سے تِرچھے سُوالات (Cross Qustions ) کیے جاتے ہیں تو ان میں سے اکثریت کی اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں  سامنے آتی ہیں ، مثلاً  وہ گھر والوں سے غصّے میں  لڑ جھگڑ کر ، زبان  چلا کر اور جذبات میں آکر مار دھاڑ کر کے  بھاگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ایسوں کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ہر گز پناہ نہیں دی جاتی بلکہ انہیں سمجھا بجھا کر ، والدین کے حقوق بتا کراور ان کی شفقتیں یاد دِلا کر گھر والوں سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ (شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) کئی بار میں نے ایسے اسلامی بھائیوں کو سمجھا کر ان کے والدین کے لیے اس طرح کا  سفارش نامہ بھی لکھا ہے  کہ”یہ آپ کا بیٹاہے ، جذبات میں آکر بھاگا ہے آپ اس پر شفقت فرمائیے اور اسے معاف کر دیجیے ، آئندہ یہ گھر سے  نہیں بھاگے گا“ اس طرح اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے کئی روٹھے ہوؤں کو منایا اور بِچھڑے ہوؤں کو ملایا ہے ۔

میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو ! ہر ایک کو اور بالخصوص مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائیوں کواپنے گھر میں اِس قسم کا ماحول  پیدا کرنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان غلطیوں اور کوتاہیوں کی بِنا پر گھر والے اور دِیگر لوگ بھی عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے بَدظن ہوتے ہیں ۔ اگر بالفرض گھر والوں کی طرف سے بھی کوئی دِل بَرداشتہ  بات ہو جائے  تب بھی لڑنے  جھگڑنے ، مار  دھاڑ کرنے اور  گھر سے بھاگنے کے بجائے صبرکرنے میں ہی عافیت ہے ۔

تُو نرمی کو اپنانا جھگڑے مٹانا

رہے گا سدا خوشنما مَدَنی ماحول

اے اسلامی بھائی !  نہ کرنا لڑائی

کہ ہو جائے گا بدنُما مَدَنی ماحول  (وسائلِ بخشش )

مسلمان کو  کس کی نقل کرنی چاہیے؟

سُوال : ایک مسلمان کو بحیثیتِ مسلمان کس کی نقل کرنی چاہیے اور کس کی نقل کرنے سے بچنا چاہیے ؟

جواب : دُنیا کا عام دستور ہے کہ اِنسان کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ اس کا مطیع و فرمانبردار ہوتا ہے ، اُس کی ہر ادا اُسے پیاری لگتی ہے ، اس کی عادات و اَطوار  اَپنانے کی کوشش کرتاہے ۔ ایک مسلمان کو بحیثیتِ مسلمان سب سے زیادہ محبت اللہ  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ہونی چاہیے ، پھر اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اِنسان اپنی زندگی کو اللہ  و رسول عَزَّوَجَلَّ  وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے اَحکامات کے مطابق گزارے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کو کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چنانچہ خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن