30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو ولیٔ کامِل حضرتِ سَیِّدُنا شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں مارہروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کا مُرید کروایا تھا ۔
اس وقت دِیگر مَشائخِ اہلسنَّت کی بھی کمی نہ تھی مگر مُرید ہونے کے لیے شیخ الفضیلت ، آفتابِ رَضَویت ، مُرید وخلیفۂ اعلیٰ حضرت ، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ، قُطبِ مدینہ ، حضرتِ علّامہ مولانا ضیاءُ الدِّین اَحمد مَدَنی قادِری رَضَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی ہی کی ہستی توجہ کا مَرکز بنی کیونکہ اس مُقَدَّس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت سے نسبت ہو جاتی تھی اور اس”ہستی“ میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ اس پر بَراہِ راست گنبدِخضرا کا سایہ پڑ رہا تھا یعنی مدینۂ منورہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں ہی ان کی رہائش تھی ۔
جب میں نے ان سے بیعت ہونے کا اِرادہ کیا تو ایک دوست نے کہا کہ تم نے قُطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا ہی نہیں ہے تو بِن دیکھے تصوُّرِ شیخ کیسے کرو گے؟ تو جواب میں بے ساختہ میرے مُنہ سے یہ اَلفاظ نکلے کہ شیخِ کامِل تو خواب میں بھی زیارت کروا سکتے ہیں ! ( لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خواب میں اگر کسی پیر صاحب کی زیارت نہ ہو تو وہ پیرِ کامل نہیں ۔ ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسی رات خواب میں مجھے ایک بزرگ کی زیارت ہوئی ، ان کا حُلیہ جب میں نے خلیفۂ قُطبِ مدینہ حضرت مولانا قاری مصلح الدِّین قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے تصدیق فرمائی کہ وہ زیارت کروانے والے بزرگ سَیِّدی قُطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ تھے ۔
میری عقیدت مَزید بڑھ گئی اور میں نے مُرید ہونے کے لیے زائرینِ مدینہ (یعنی مدینے جانے والوں ) کے ہاتھ کئی خُطُوط بھیجے لیکن سَیِّدی قُطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف سے یہی جواب آتا کہ ہم اس طرح مُرید نہیں کرتے ، اگر اسے تڑپ ہو گی تو خود ہی آ جائے گا ۔ اب تڑپ تو تھی مگر وہاں جانے کے اَسباب نہ تھے ۔ غرض اسی کشمکش میں ایک سال پانچ دن کا عرصہ گزر گیا ۔ پھر ایک بار خواب میں سَیِّدی قُطبِ مدینہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زیارت ہوئی ، میری طَلَب میں مَزید اِضافہ ہو گیا کہ مُرید بھی نہیں کرتے اور زیارت بھی کرواتے ہیں ۔ پھر دوسرے دن ایک زائرِ مدینہ کے خَط کے ذَریعے مجھے خوشخبری ملی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ مجھ سمیت کچھ دوسرے اَشخاص کو مُرید کر لیا گیا ہے ۔
ضیاء پیر و مُرشِد مِرے رہنما ہیں
سُرورِ دِل و جاں مِرے دِلرُبا ہیں
مُنوَّر کریں قَلبِ عطّاؔر کو بھی
شہا ! آپ دِینِ مُبیں کی ضیا ہیں (وسائلِ بخشش )
سُوال : پیرِ کامِل سے بیعت کِن اَغراض کے حُصُول کے لیے ہونی چاہیے ؟
جواب : پیرِ کامِل سے بیعت ہونے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس کے ذَریعے ایمان کی حفاظت ہو اور اُمُورِ آخرت میں اس کی راہ نمائی اور باطنی توجُّہ کی بَرَکت سے اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ناراضی والے کاموں سے بچتے ہوئے رِضائے رَبُّ الانام کے مُطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب ہو ۔ موجودہ زمانے میں بیشتر لوگوں نے ”پیری مُریدی“جیسے اَہم منصب کو محض حُصُولِ دُنیا کا ذَریعہ بنا رکھا ہے ۔ بیشمار بَدعقیدہ اور گمراہ لوگ بھی تَصَوُّف کا ظاہری لِبادہ اوڑھ کر لوگوں کے دِین و ایمان کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع