دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sanp Numa Jin | سانپ نما جن

book_icon
سانپ نما جن

شیخ کا جو فعل مجھے صحیح معلوم نہیں  ہوتا ،  شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیلِ قَطعی ہے۔   ‘‘حضرتِ سیِّدُنا اما م ابوالقاسِم قُشَیریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’رسالۂ قُشَیریہ ‘‘ میں  فرماتے ہیں :  میں  نے حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدالرحمن سُلَمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو فرماتے سُنا،  ان سے ان کے شیخ حضرتِ ابوسَہل صعلوکیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  جو اپنے پِیر سے کسی بات میں  ’’کیوں ! ‘‘ کہے گا کبھی فَلاح نہ پائے گا۔   [ رسا لہ قُشیریہ ص۲۷۶]  (فتاوٰی رضویہ  ج۲۱ص۵۱۰ تا ۵۱۱)

پیرِ کامل اور پیرِ ناقص

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ سرکارِ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا  مبارَک فتویٰ صِرف جامِعِ شرائط پیریعنی پیرِ کامِل کے بارے میں  ہے۔    جو پیر نبیِّ کریم کا گستاخ ہو وہ مُرتَد ہے اور جو کسی صَحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی توہین کرتا ہو وہ گمراہ و بدمذہب ہے ایسوں  کا مُرید بننا ناجائز و گناہ ہے نیز جو پیر کھلم کُھلا گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو یا گناہِ صغیرہ پر اصرار کرنے والا ہو وہ فاسِقِ مُعلِن کہلاتا ہے۔    مَثَلاً علی الاعلان نَمازیں  قضا کرتا ہو،  نشہ کرتا ہو،  گندی گالیاں  بکتا ہو،  بے پردہ خواتین کے ہُجوم میں  بیٹھتا ہو،  عورَتوں  سے ہاتھ چُمواتا یا پاؤں  دَبواتا ہو،  عَلانیہ فلمیں  ڈِرامے دیکھتا ہو،  داڑھی منڈاتا یا ایک مٹھی سے گھٹاتا ہو وہ فاسِقِ مُعلِن ہے،  ایسے پیر کی بَیعت جائز نہیں۔   دیکھ بھال کر مُرید بننا چاہئے۔   چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  بہارِ شریعتجلد اوّ ل  صَفْحَہ 278پرصدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : پیری کے لیے چار شرطیں  ہیں ،  قبل از بیعت اُن کا لحاظ فرض ہے:   {1}    سنّی صحیحُ العقیدہ ہو   {2}   اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں  سے نکال سکے   {3}   فاسِقِ مُعلِن نہ ہو   {4}   اُس کا سلسلہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتک مُتَّصِل  (یعنی ملا ہوا)  ہو۔     (بہارِ شریعت ،  فتاوٰی رضویہ ج۲۱ ص۶۰۳)  اگر کسی پیر کے اندر ان چاروں  میں  سے ایک بھی شَرط کم ہو تو اس کا مُرید بننا جائز نہیں۔   اگر لا عِلمی میں  کسی نے ایسے پیر سے بیعت کرلی ہو جس میں  کوئی شرط کم ہو تو اُس کی بیعت توڑدینا ضَروری ہے،  اِس کیلئے ’’پیرِ ناقِص‘‘ کو خبر دینے کی حاجت نہیں ،  اتنا کہدینا ہی کافی ہے کہ میں  فُلاں  سے بیعت توڑتا ہوں ،  بلکہ پیر سے اعتِقاد اُٹھ جانے کی صورت میں  خود ہی بیعت ٹوٹ جاتی ہے۔    اب کسی بھی جامِعِ شرائط پیر سے بیعت کر سکتا ہے اور اِس پیر کامل کو بتانے کی حاجت نہیں  کہ میں  فُلاں  کی بیعت توڑکر آپ کا مرید ہوا ہوں۔  

کامل پیر کی بیعت توڑنے کے نقصانات

          بلا وجہ شرعی پیر کامل،  جامعِ شرائط کی بیعت توڑنا ازروئے طریقت سخت محرومی اورازروئے شریعت بھی سخت ممنوع ہے۔   اس بارے میں  طریقت کی کتابوں  میں  اولیاءِ کرام کے بیسیوں  اقوال دیکھے جا سکتے ہیں۔   شریعت میں ممنوع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شرعاً اِحسان کا بدلہ کم از کم شکریہ ادا کرنا ہے ۔   پیرِ کامل کا مرید ہونے سے آدمی کو اولیاء ِکرام کے سلسلے کے ساتھ نسبت حاصل ہوجاتی ہے نیز فیض کا ایک سلسلہ جاری ہوتا ہے اور راہِ طریقت کی بہت سی مشکلات حل ہوتی ہیں  اور بسااوقات تو زندگی میں  ایک مَدَنی انقلاب برپا ہوجاتا ہے ،  ان سب چیزوں  کے مقابلے میں  شکریہ ادا کرنے کے بجائے بیعت ہی توڑدینا  یقینا سخت ناشکری ہے اور ناشکری شرعاً ممنوع ہے چنانچہ حدیث میں  فرمایاگیا: مَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ جس نے لوگوں  کا شکر ادا نہیں  کیا اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر بھی ادا نہیں  کیا۔    (تِرمِذی ج۳ ص۳۸۴ حدیث ۱۹۶۲)نیز جب ایک مرتبہ آدمی کسی پیر کامل کی بیعت ہوجاتا ہے تو فیض کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اگرچہ مرید ِ ناقص کو وہ نظر نہ آئے۔    تو جب فیض کا سلسلہ شروع ہوچکا تو اسے برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ حدیثِ مبارَک میں  ہے کہمَنْ رُّزِقَ فِی شَیْء ٍ فَلْیَلْزَمْہُ  یعنی جس کو کسی شے سے رزق ملے وہ اُسے لازِم پکڑ لے ۔   (شُعَبُ الْاِیمان ج۲ ص۸۹ حدیث۱۲۴۱)لہٰذا جب ایک جگہ سے فیض مل رہا ہے تو اسے لازِم پکڑنا چاہیے۔    یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ فی زمانہ جب کوئی کسی کی بیعت توڑتا ہے تو دو چیزیں  عام سی ہیں  بلکہ ایک تیسری چیز بھی۔    پہلی دوچیزیں  تو یہ ہیں  کہ بیعت توڑنے والا اپنے سابقہ پیر کو حقیر سمجھتے ہوئے بیعت توڑتا ہے اور مسلمان اور خصوصا پیرِ کامل کو حقیر سمجھنا حرام اور سخت مہلک یعنی ہلاکت میں  ڈالنے والا ہے ۔    دوسری بات کہ عموماً بیعت توڑنے والے بالقصد  (یعنی جان بوجھ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن