دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahbiyat wa Sahliyat ke ala osaf | صحابیات و صالحات کے اعلٰی اوصاف

Islam Ki Roshni Mein Parda Aur Hijab Ka Bayan

book_icon
صحابیات و صالحات کے اعلٰی اوصاف
            

پردہ و حجاب کے درجات

پردہ و حِجاب کے کچھ دَرَجات ہیں :

پہلا درجہ

عورت خود کو گھر کی چار دِیواری اور پردے کا اس طرح پابند بنا لے کہ کسی غیر مرد کی نِگاہ اس پر نہ پڑے، یعنی کوئی غیر محرم اس کے جسم کو تو کجا اس کے لِباس تک کو نہ دیکھ پائے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ 22،الاحزاب:33) ترجَمۂ کنز الایمان : اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ اسی طرح ایک مَقام پر ارشاد ہوتا ہے: وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ (پ22،الاحزاب:53) ترجَمۂ کنز الایمان : اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہَر سے مانگو۔ یہ آیتِ مُبارَکہ اگرچہ اُمَّہَاتُ الْمُومِنِین رضی اللہ عنہنَّ کی شان میں نازِل ہوئی جیسا کہ اس کا شانِ نُزول بیان کرتے ہوئے اِمام بیضاوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ نبوّت میں عرض کی: یَا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !آپ کی خدمت میں نیک بھی حاضِر ہوتے ہیں اور بد بھی، لہٰذا اُمَّہَاتُ المومنین کو پردے کا حکْم ارشاد فرمایئے۔ چنانچہ یہ آیتِ مُبارَکہ نازِل ہوئی۔1بہرحال سَبَب کچھ بھی ہو پردے کا حکْم نازِل ہونے کے بعد جن صحابیات طیبات رضی اللہ عنہنَّ نے پردے کے اس پہلے دَرَجہ پر عَمَل کرتے ہوئے خود کو گھر کی چار دِیواری تک محدود کر لیا ان میں سے دو۲ کی مثالیں پیشِ خدمت ہیں:

گھر سے جنازہ ہی نکلا

ایک بار اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَودہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی: آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ باقی اَزواج کی طرح حج کرتی ہیں نہ عمرہ؟تو آپ نے فرمایا:میں نے حج و عمرہ کر لیا ہے،چونکہ میرے ربّ نے مُجھے گھر میں رہنے کا حکْم فرمایا ہے۔ لہٰذا خدا کی قسم! اب میں پَیامِ اَجَل (موت) آنے تک گھر سے باہَر نہ نکلوں گی۔ راوی فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ گھر کے دروازے سے باہَر نہ نکلیں یہاں تک کہ آپ کا جنازہ ہی گھر سے نکالا گیا۔2

جنازے پر کسی غیر کی نظر نہ پڑے

اسی طرح مروی ہے کہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا نے موت کے وَقْت یہ وصِیَّت فرمائی کہ بعدِ اِنتقال مجھے رات کے وَقْت دفن کرنا تاکہ میرے جنازے پر کسی غیر کی نظر نہ پڑے۔3 چُو زَہرا باش از مخلوق رُو پوش کہ دَر آغوش شبیر ے بَہ بینی یعنی حضرت فاطِمۃ الزّہرا رضی اللہ عنہا کی طرح پرہیز گار و پردہ دار بنو تاکہ اپنی گود میں حضرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ جیسی اولاد دیکھو۔

کیا پردے کے پہلے درجہ پر عمل صحابیات ہی کا کام تھا؟

پہلے درجے کے پردے و حِجاب پر عَمَل کرنے والی صحابیات کی سیرتِ طیبہ کا یہ روشن پہلو آج کے دَور کی عورتوں کے لیے عَمَلی نَمُونہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ اِنتہائی مشکل کام ہے اور صِرف صحابیات کے ہی بس کا تھا، اب کسی کے لیے اس طرح کے پردے کا اہتمام کرنا ممکن نہیں تو جان لیجئے کہ حقیقت میں ایسا نہیں، کیونکہ تاریخ میں ایسی روشن ضمیر و باپردہ صالحات کا تذکرہ بھی ملتا ہے کہ جن کے دامَن کے دھاگے پر بھی کسی غیر محرم کی نِگاہ نہیں پڑی۔ جیسا کہ شیخ عَبْدُالحق مُحدِّث دِہلوی رحمۃُ اللہ علیہ اَخبارُ الاَخیار میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ خُشک سالی ہوئی، لوگوں نے بہت دُعائیں کیں مگر بارِش نہ ہوئی، تو شیخ نظامُ الدِّین ابو المؤیّد رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنی والِدہ ماجِدہ کے پاکیزہ دامَن کا ایک دھاگا اپنے ہاتھ میں لیا اور بارگاہِ ربّ العزّت میں یوں عرض کی:اے اللہ ! یہ اُس خاتون کے دامَن کا دھاگا ہے جس پر کبھی کسی نامحرم کی نظر نہ پڑی،مولا اِس کے طفیل رحمت کی بارش نازِل فرما۔مُحدِّث دِہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابھی شیخ نظامُ الدِّین رحمۃُ اللہ علیہ نے یہ جُملہ کہا ہی تھا کہ چھما چھم بارِش برسنے لگی۔4 برستا نہیں دیکھ کر اَبْرِ رحمت بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے5

دوسرا درجہ

پردے کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری کے تحت گھر کی چار دیواری میں خود کو پابند نہ کر سکیں اور باہَر نکلنا پڑے تو خوب پردے کا اہتمام کر کے نکلیں تاکہ کوئی آپ کو پہچان نہ پائے، جیسا کہ حضرت اُمِّ عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہم نو عمر لڑکیوں، حیض والیوں اور پردے والیوں کو حکم دیا کہ عیدَین پر (نماز کے لیے)گھر سے نکلیں مگر حیض والیاں نماز میں شامِل نہ ہوں،بلکہ بھلائی کے کاموں اور مسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !ہم میں سے بعض کے پاس تو جِلْبَاب (برقع یا بڑی چادر) نہیں۔تو ارشاد فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی جِلْبَاب (بڑی چادر کا کچھ حِصّہ)اوڑھا لے۔6

صحابیات کا حجاب کیسا تھا؟

عورت کو گھر میں ہی رہنا چاہئے اور اگر کبھی کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے گھر سے باہَر نکلنا بھی پڑے تو بغیر پردہ کے بالکل نہ نکلے اور پردہ بھی ایسا کہ جسم کے کسی حِصّے پر کسی کی نگاہ نہ پڑے۔ چنانچہ اُمّ الْمُومِنِین حضرتِ اُمِّ سَلَمَہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب قرآنِ مجید کی یہ آیتِ مُبارَکہ نازِل ہوئی: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ (پ22، الاحزاب:59) ترجَمۂ کنز الایمان :اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصّہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔ تو اَنصار کی خواتین سیاہ چادر اَوڑھ کر گھروں سے نکلتیں، ان کو دُور سے دیکھ کر یوں لگتا کہ ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہیں۔7

گھر سے باہَر نکلنے کی احتیاطیں

اگر کسی وجہ سے گھر سے باہَر نکلنا پڑے اور شریعت بھی اس کی اِجازَت دیتی ہو تو گھر سے باہَر نکلتے وَقْت خوب خوب پردے کا اہتمام کر لیجئے اور خیال رکھئے کہ شَرعی اِجازَت کی صُورَت میں گھر سے نکلتے وَقْت غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا بُرقع اَوڑھیں، جہاں کہیں غیر مردوں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چہرے سے نِقاب نہ اٹھائیں مثلاً اپنے یاکسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی محلّہ وغیرہ۔ واضح رہے کہ عورت کے سر سے لیکر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ بھی مثلاً سر کے بال یا بازو یا کلائی یاگلا یاپیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مَرد (یعنی جسں سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو ) پر بلااِجازَتِ شَرْعی ظاہِر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسا پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جھلکے یاایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی شکل و صورت یا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو یادوپٹّہ اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے یہ بھی بے پَردَگی ہے۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے:جو وَضْعِ لباس (یعنی لباس کی بناوٹ) وطریقَۂ پَوشِش( یعنی پہننے کا انداز)اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریک جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں توسِوا خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حَرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قطعی ہے۔8

خواہ مخواہ کی عذر خواہی سے بچئے

وہ خواتین جنہیں کسی مُعاشَرتی مجبوری کی بنا پر گھر سے باہَر بالخصوص کسی سفر پر نکلنا پڑتا ہے تو پردے کا اہتمام نہیں کرتیں، بلکہ اپنی بے پردگی کا عُذر یوں بیان کرتی ہیں کہ ہمارے لیے ایسا ممکن نہیں۔ ایسی خواتین کی ترغیب کے لیے درج ذیل حِکایَت ہی کافی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب دشمنِ اسلام اَبُو جہل کے بیٹے حضرت عِکْرِمہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت اُمِّ حکیم بنتِ حارِث رضی اللہ عنہا نے اِسلام قبول کیا تو بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! عِکْرِمہ (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)یمن کی طرف بھاگ گئے ہیں اور وہ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ آپ انہیں قتل کردیں گے، لہٰذا انہیں اَمان عطا فرما دیجئے۔ چنانچہ آپ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے عکرمہ کو اَمان دیدی۔ پھر حضرت اُمِّ حکیم رضی اللہ عنہا ان کی تلاش میں باپردہ نکل پڑیں اور آخر تِہَامَہ کے ساحل پر جاپہنچیں۔ادھر عِکْرِمَہ بھی اسی ساحل پر پہنچ کر کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی ڈگمگانے لگی، کشتی بان نے کہا: اِخلاص سے رب کو یاد کرو۔ عکرمہ بولے:میں کون سے الفاظ کہوں؟ اس نے کہا : لَا اِلٰهَ اِلَّا الله کہو !تو بولے: اس کلمہ کی وجہ سے تو میں یہاں تک پہنچا ہوں، لہٰذا تم مجھے یہیں اُتار دو۔ اتنے میں حضرت اُمّ حکیم رضی اللہ عنہا نے آپ کو دیکھ لیا اور ان سے کہنے لگیں: اے میرے چچا زاد! میں ایک ایسی عظیم ہستی کے پاس سے آرہی ہوں جو بہت زیادہ رحم دل اور احسان فرمانے والی ہے، وہ لوگوں میں سب سے افضل ہے۔ لہٰذا خود کو ہلاکت میں مت ڈالئے!آپ کے اِصرار پر عِکْرِمَہ رُک گئے، پھر آپ نے انہیں اَمان کی یقین دہانی کراتے ہوئے واپسی کے لیے آمادہ کر لیا، اس کے بعد دونوں مکہ مکرمہ لوٹ آئے اور یوں حضرت اُمِّ حکیم رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عِکْرِمَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باپردہ بارگاہِ نبوّت میں حاضِر ہوئیں تو انہوں نے اَمان کی یقین دہانی کے بعد اِسلام قبول کر لیا۔ 9 اس حِکایَت سے اگرچہ کئی اہم باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں، مگر سب سے اَہَم یہ ہے کہ حضرت اُمِّ حکیم رضی اللہ عنہا نے اِسلام لانے کے بعد اپنے شوہر کو بھی اِسلام کی حَقّانِیَّت کے سائے میں لانے کے لیے اس قدر طویل سفر کیا مگر اِسلامی تعلیمات پر عَمَل کسی بھی موقع پر ترک نہ کیا اور پُرمشقّت سفر میں بھی باپردہ رہیں۔ یوں بالآخر ان کی اپنے گھر کو دینی ماحول کا گہوارہ بنانے کی سوچ رنگ لائی اور ان کے شوہر بھی دینی رنگ میں رنگ گئے۔ لہٰذا اپنے گھروں کو دینی ماحول کا گہوارہ بنانے کے لیے اگر کسی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو حضرت اُمِّ حکیم رضی اللہ عنہا کی مشکلات کو یاد کرلیا کرے اور یاد رکھے کہ اس راہِ پُر خَطَر پر چلنا بڑے دِل گردے کا کام ہے۔

تیسرا درجہ

پردے کا تیسرا اور سب سے کم تر دَرَجہ یہ ہے کہ عورت کم از کم اس قدر پردے کا اہتمام ضَرور کرے کہ جس قدر بارگاہِ خداوندی میں حاضِر ہوتے یعنی نماز پڑھتے وَقْت لازِم ہے۔ مُراد یہ ہے کہ نامحرم کے سامنے کم از کم سِتْرِعورت کا خیال ضَرور رکھے۔

ستر عورت کیا ہے؟

خواتین کے لیے ان پانچ۵ اَعضا :مُنہ کی ٹکلی، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں کے تَلووں کے عِلاوَہ سارا جسم چُھپانا لازِمی ہے۔10 البتہ! اگر دونوں ہاتھ(گِٹّوں تک)، پاؤں(ٹخنوں تک) مکمَّل ظاہِر ہوں تو ایک مُفْتٰی بِہ قَول پر نَماز دُرُست ہے۔ اگر ایسا باریك کپڑا پہنا جس سے بدن کا وہ حصّہ جس کانَماز میں چھپانا فَرْض ہے نَظَر آئے یا جِلد (یعنی چمڑی) کا رنگ ظاہِرہو نَماز نہ ہو گی۔11مگر افسوس! آج کل باریك کپڑوں کا رَواج بڑھتا جارہا ہے، حالانکہ ایسا کپڑا پہننا جس سے سِتْرِعورت نہ ہوسکے عِلاوہ نَماز کے بھی حرام ہے۔12 جیسا کہ حضرت دِحیہ کلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسولِ بے مثال صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمتِ اَقدس میں سفید رنگ کے مِصری کپڑے لائے گئے جوکہ قدرے باریک تھے۔ آپ نے ایک کپڑا مُجھے عطا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اس کے دو۲ ٹکڑے کر کے ایک سے اپنی قمیص بنا لینا جبکہ دوسرا اپنی بیوی کو دے دینا جسے وہ اپنا دوپٹا بنالے۔ فرماتے ہیں: جب میں واپس مڑا تو آپ نے مُجھےاس بات کی تاکید فرمائی کہ اپنی بیوی کو یہ حکْم بھی دینا کہ اس کے نیچے دُوسرا کپڑا لگا لے تاکہ بَدَن کی صِفَت معلوم نہ ہو۔13 نیز یہ بھی یاد رکھئے کہ اتنا موٹا کپڑا جس سے بَدَن کا رنگ نہ چمکتا ہو مگر بَدَن سے ایسا چِپکا ہو کہ دیكھنے سے عُضْوْ کی شکل و صورت اور گولائی وغیرہ معلوم ہوتی ہو۔ایسے کپڑے سے اگرچِہ نَماز ہو جائے گی مگراُس عُضْو کی طرف دوسروں کو نِگاہ کرنا جائز نہیں۔14 اور ایسا لِباس لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے لیے بدرجَۂ اَولیٰ مُمانَعَت۔15 بعض خواتین مَلمَل وغیرہ کی ایسی باریك چادَرنَماز میں اَوڑھتی ہیں جس سے بالوں کی سیاہی(کالک) چمکتی ہے یا ایسا لِباس پہنتی ہیں جس سے اَعضا کا رنگ نظر آتا ہے جان لیں کہ ایسے لِباس میں بھی نَماز نہیں ہوتی۔

پردہ مگر کن سے؟

عورت کا ہر اجنبی بالِغ مرد سے پردہ ہے۔ جومَحرم نہ ہو وہ اجنبی ہوتا ہے، مَحرم سے مُراد وہ مرد ہیں جن سے ہمیشہ کیلئے نکاح حرام ہو۔ جبکہ مَحارِم میں تین۳ قسم کے اَفراد داخِل ہیں: ( 1 )*نَسَب کی بنا پر جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حَرام ہو۔ ( 2 )*رضاعت یعنی دُودھ کے رشتے کی بِنا پر جن سے نکاح حَرام ہو۔ ( 3 )*مُصاہَرَت یعنی سُسرالی رِشتے کی وجہ سے جن سے نکاح حَرام ہو جیسے سُسر کے لیے بہو یا ساس کے لیے داماد۔ (پہلی قسم یعنی)نسبی مَحارِم کے سِوا (باقی)دونوں طرح کے مَحارِم سے پردہ واجِب بھی نہیں اور منع بھی نہیں، خُصُوصاً جب عورت جوان ہویا فتنے کا خوف ہو تو پردہ کرے۔ مفتیِ اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّین رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہیں(پردہ بہت دشوار ہو تو ان سے) چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اور ٹخنوں کے علاوہ سِتْر( پردہ ) کرنا ضَروری ہے،زینت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کیا جائے۔16 بہرحال اگر ایک گھر میں رَہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دُشْوَارہو تو چہرہ کھولنے کی تو اِجازَت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یا سر کے بال وغیرہ چمکیں یا ایسے چُست نہ ہوں کہ بَدَن کے اَعضا جسم کی صورت و گولائی اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔17

پردہ دار کے لیے آزمائش

آج کل پردہ کرنے والیوں کا مُلانی کہہ کر گھر میں مذاق اُڑایا جاتا ہے،کبھی کوئی عورَتوں کی کسی تقریب میں بُرقع پہن کر چلی جائے تو!!!* کوئی کہتی ہے: ارے ! یہ کیا اَوڑھ رکھا ہے اُتارو اِس کو! *کوئی بولتی ہے: بس ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ تم بہت پردہ دار ہو اب چھوڑو بھی یہ پردہ وَردہ! *کوئی کہتی ہے، دنیابہت ترقّی کر چکی ہے اور تم نے یہ کیا دَقْیا نُوسی انداز اپنا رکھا ہے! وغیرہ۔ اِس طرح کی دل دُکھانے والی باتوں سے شَرعی پردہ کرنے والی کا دل ٹوٹ پھوٹ کر چِکناچُور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ واقعی یہ حالات نہایت ہی نازُک ہیں اور شَرعی پردہ کرنے والی سخت آزمائش میں مبتَلا رَہتی ہے مگر اسے ہمّت نہیں ہارنی چاہیے۔ مذاق اُڑانے یا اِعتِراض کرنے والیوں سے زور دار بحث شُروع کر دینا یا غصّے میں آ کر لڑ پڑنا سخت نقصان دِہ ہے کہ اس طرح مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید اُلَجھ سکتا ہے۔ ایسے مَوقَع پر یہ یاد کر کے اپنے دل کو تسلّی دینی چاہیے کہ جب تک تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عام اِعلانِ نبوّت نہیں فرمایا تھا اُس وَقت تک کُفّارِ بد انجام آپ کو اِحتِرام کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ کو امین اور صادِق کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ مگر آپ نے جُونہی علَی الْاِعلان اِسلام کا ڈنکا بجانا شروع کیا وُہی کُفّارِ بداَطوار طرح طرح سے ستانے، مذاق اُڑانے اور گالیاں سنانے لگے، صِرف یہی نہیں بلکہ جان کے در پے ہو گئے، مگر قربان جائیے ! اُمّت کے غم خوار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر کہ آپ نے بِالکل ہمّت نہ ہاری،ہمیشہ صبر ہی سے کام لیا۔ اب ہر ایک کو صبرکرتے ہوئے غور کرنا چاہئے کہ میں جب تک فیشن ایبل اور بے پردہ تھی میرا کوئی مذاق نہیں اُڑاتا تھا، جُونہی میں نے شَرعی پردہ اپنایا، ستائی جانے لگی۔ اللہ پاک کا شکر ہے کہ مجھ سے ظُلْم پر صبر کرنے کی سنّت اَدا ہو رہی ہے۔ نیز کیسا ہی صَدمہ پہنچے صبر کا دامَن ہاتھ سے مَت چھوڑئیے اور بِلا اجازتِ شَرعی ہرگز زَبان سے کچھ مت بولئے۔ حدیثِ قُدسی میں ہے، اللہ پاک فرماتا ہے:اے ابنِ آدم ! اگرتُو اوّل صَدمے کے وَقْت صبر کرے اور ثواب کا طالِب ہو تو میں تیرے لیے جنَّت کے سِوا کسی ثواب پر راضی نہیں۔18

مرض یا کسی مصیبت میں پردے کا اہتمام کرنا کیسا؟

افسوس!آج کل بیماری و مصیبت پر صبر کا دامَن تھامے رہنے کے بجائے بے صبری کا مُظاہَرہ کیا جاتا ہے حالانکہ ایک مسلمان کیلئے بیماری و مصیبت باعِثِ نُزولِ رَحمت اور گناہوں کا کفّارہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ حبیبِ خُدا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: مومن کو جو تھکاوٹ، بیماری، پریشانی، خوف، رنج اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ پاک اس کے عِوَض اس کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔19 معلوم ہوا کسی بھی بیماری یا دکھ تکلیف پر کبھی واویلا کرنا چاہئے نہ آپے سے باہَر ہونا چاہئے بلکہ ہمیشہ اللہ پاک کے دامَنِ رحمت سے وابستہ رہنا چاہئے، اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جُنُون و مِرگی وغیرہ ایسی مُوذی بیماریاں اور حد دَرَجہ کسی قریبی عزیز مثلاً ماں، باپ، بہن، بھائی، شوہر، بیوی یا اَولاد وغیرہ کے اس جہانِ فانی سے کوچ کر کے ہمیشہ کے لیے جُدا ہو جانے کا دکھ ایسی مصیبتیں ہیں جو بندے کو ہوش سے بیگانہ کر دیتی ہیں اور یہ عام مُشاہَدہ ہے کہ اس وَقْت اکثر خواتین مصیبت اور دکھ کے عالَم میں پردے کے اہتمام سے غافِل ہو کر بے پردگی کا شکار ہو جاتی ہیں، مگر قربان جائیں صحابیات طیبات کے جذبۂ اِیمانی پر! جنہوں نے راہِ خدا میں مصائب و تکالیف کے پہاڑوں کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کیا لیکن اَحْکاماتِ اِسلام کا دامَن کبھی کسی حال میں ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ جیسا کہ ابو داود شریف میں ہے کہ حضرت اُمِّ خلاد رضی اللہ عنہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیا۔ آپ ان کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے نِقاب ڈالے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو ئیں تو اِس پر کسی نے حیرت سے کہا: اِس وقْت بھی باپردہ ہیں ! کہنے لگیں: میں نے بیٹا ضَرور کھویا ہے، حَیا نہیں کھوئی۔20

حالتِ مرض میں بے پردہ ہو جانے کی فکر

حضرت عطا بن ابو رَباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں جنتی عورت نہ دِکھاؤں؟ عرض کی:کیوں نہیں۔ فرمایا: یہ حبشی عورت (جنتی ہے)۔ اِس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں آ کر عرض کی :یَارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! مِرگی کے مَرض کی وجہ سے میرا سِتْر (پردہ )کھل جاتا ہے میرے لیے دُعا فرمائیے۔ ارشاد فرمایا: چاہو تو صبر کرو تمہارے لیے جنّت ہے اور اگر چاہو تو میں اللہ پاک سے تمہارے لیے دُعا کروں کہ وہ تجھے عافیت عطافرما ئے۔ اِس نے عرض کی:میں صبر کروں گی۔ پھر عرض کی: دُعا کیجئے بَوَقْتِ مِرگی میرا پردہ نہ کھلا کرے۔چنانچہ آپ نے اس کے لیے دعا فرمادی۔21 پردے کے متعلق مزید جاننے کیلئے شیخ طریقت، اَمِیْرِ اَہْلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کی کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب کا مُطالَعہ کیجئے۔اس میں پردے سے متعلق بے شُمار مَوضُوعَات پر مَعلُومَات کا ایک خزانہ آپ کے ہاتھ لگے گا۔ جیسا کہ عورت کا کس کس سے پردہ ہے؟، مرد و عورت کے سِتْر کی مِقدار کیا ہے؟، عورت سسرال میں کس طرح پردہ کرے، گھر میں پردے کا ذہن کیسے بنائے ؟ حُصولِ تعلیم وغیرہ کے سلسلے میں پردے کے اہتمام کی صورت کیسے بنائی جائے؟ وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے اس کتاب کو خرید فرما کر خود بھی پڑھئے اور خیرخواہی کی نِیَّت سے دوسری اسلامی بہنوں کو بھی تحفۃً پیش کیجئے۔

پردے میں احتیاط کی مثالیں

پردے کے مذکورہ دَرَجات ہی نہیں بلکہ بزرگ خواتین سے اس سلسلے میں کئی ایسی اِحتیاطیں بھی منقول ہیں جن پر بلاشبہ تاریخِ عالَم اَنگشت بدنداں (حیران)ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے ذیل میں دو۲ باتیں پیشِ خدمت ہیں:

حالتِ احرام میں بھی پردہ

اِحرام میں منہ چُھپانا عورت کے لیے بھی اسی طرح حرام ہے جیسا کہ مرد کیلئے حرام ہے۔ مگر اس حوالے سے صحابیات کی زندگیوں کے جو سنہری گوشے تاریخ میں درج ہیں وہ اپنی مِثال آپ ہیں۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قافلے ہمارے پاس سے گزرتے جبکہ ہم اللہ پاک کے مَحبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ اِحرام باندھے ہوئے تھیں، جب وہ لوگ ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی جِلْبَاب (برقع نما بڑی چادر) سر سے نیچے لٹکا لیتی (اس اِحتیاط سے کہ منہ پر نہ لگے)اور جب وہ آگے گزر جاتے تو ہٹا دیتی۔22 عورتوں کے لیے اگرچہ اِحرام میں منہ چھپانا حرام ہے مگر اجنبی لوگوں سے اس طرح پردہ کرنا کہ وہ انہیں دیکھ نہ پائیں تقویٰ و طہارت کی اعلیٰ مثال ہے۔ جیسا کہ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ نے مِراٰۃُ المناجیح میں اُمُّ الْمُومِنِین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کی جو شرح بیان کی ہے، اگر اسے سامنے رکھ کر آپ کے اس قول کو مُلاحَظہ کیا جائے تو صُورَت کچھ یوں بنے گی: گویا آپ نے یہ فرمایا کہ ویسے تو ہم اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے چہرے کھلے رکھتی تھیں مگر جب دیگر لوگوں کے قافلے ہم پر گزرتے تو چونکہ ان میں مرد بھی ہوتے تھے،اس لیے ہم ان سے پردہ کرنے کی کوشش کرتی تھیں یعنی جب وہ ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر سے چہرے پر چادر ڈال لیتی مگر اس طرح کہ چادر کا یہ حِصّہ چہرے سے مَس (یعنی ٹَچ)نہ کرے بلکہ اس سے علیحدہ رہے کہ اس میں پردہ بھی ہو جاتا اور نِقاب چہرے سے مَس بھی نہ ہوتا۔ پھر جب وہ آگے بڑھ جاتے تو ہم منہ سے چادر ہٹا لیتی تھیں کیونکہ اب کوئی نامحرم مرد نہ رہتا تھا جس سے پردہ ہو۔مزید مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ثابِت نہیں ہوتا کہ وہ حضرات اپنے مدینہ والے (یعنی اپنے شہر کے )مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں،جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا،پردہ ہر اس مرد سے واجِب ہے جس سے نکاح دُرُسْت ہو،خواہ مدینہ (یعنی اپنے شہر یا گاؤں) کا ہو یا باہَر کا۔23

جہانِ فانی سے کوچ کر جانے والوں سے پردہ

آج کے اس پُر فِتَن اور نفسانفسی کے دَور میں جہاں ہر طرف عزتوں کے سوداگر موجود ہیں ہائے افسوس! ہم سے زندہ وغیرمحرم مَردوں سے پردے کا کما حقہ اہتمام ممکن نہیں رہا اور ایک صحابیات طیبات تھیں جنہوں نے عزّتوں کے مُحافِظوں کی مَوجُودَگی میں زندہ لوگ تو ایک طرف جہانِ فانی سے کوچ کر جانے والوں سے بھی پردے کا اہتمام کر کے تاریخ کے سنہری اَورَاق میں رنگ بھر دئیے۔ چنانچہ اُمُّ الْمُومِنِین عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب میں اپنے اس گھر میں داخِل ہوتی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور میرے والِد مدفون ہیں تو اس خیال سے اپنی اوڑھنی نہ لیتی کہ یہاں تو میرے شوہر اور والِد ہیں، مگر جب سے عُمَر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں دفن ہوئے تو خدا کی قسم! میں ان سے شَرْم کے باعِث با پردہ حاضِر ہوتی ہوں۔24

شرحِ حدِیث

حکیم ُالاُمَّت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی جب تک میرے حُجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صِدِّیق مدفون رہے تب تک تو میں سَر کھولے یا ڈھکے ہر طرح حُجرے شریف میں چلی جاتی تھی کیونکہ نہ خاوند سے حِجاب ہوتا ہے نہ والِد سے، (مگر) جب سے حضرتِ عُمَر میرے حُجرے میں دَفن ہو گئے تب سے میں بغیر چادر اَوڑھے اور پردہ کا پورا اہتمام کئے بغیر حجرے شریف میں نہ گئی کہ حضرتِ عُمَر سے شَرْم و حَیا کرتی ہوں۔ اس حدیث سے بہت مسائل مَعلوم ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ مَیّت کا بعدِ وفات بھی احترام چاہئے۔ فقہا فرماتے ہیں کہ مَیّت کا ایسا ہی احترام کرے جیسا کہ اس کی زندگی میں کرتا تھا۔ دُوسرے یہ کہ بزرگوں کی قُبور کا بھی احترام اور ان سے بھی شَرْم و حَیا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ مَیّت قبر کے اندر سے باہَر والوں کو دیکھتا اور انہیں جانتا پہچانتا ہے۔ دیکھو! حضرتِ عُمَر ( رضی اللہ عنہ )سے عائشہ صِدِّیقہ( رضی اللہ عنہا )ان کی وفات کے بعد شرم و حَیا فرما رہی ہیں اور اگر آپ باہَر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حَیا فرمانے کے کیا معنیٰ۔ چوتھے یہ کہ قبر کی مٹّی، تختے وغیرہ تو مَیّت کی آنکھوں کے لیے حِجاب نہیں بن سکتے مگر زائر (یعنی زِیارَت کرنے والے) کے جسم کا لباس ان کے لیے آڑ ہے، لہٰذا مَیّت کو زائر(زیارت کرنے والا) ننگا نہیں دکھائی دیتا ورنہ حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ ( رضی اللہ عنہا ) کا چادر اَوڑھ کر وہاں جانے کے کیا معنیٰ تھے، یہ قانونِ قدرت ہے۔ لہٰذا حدیث پر یہ اِعتراض نہیں کہ جب حضرتِ عُمَر ( رضی اللہ عنہ )قبر کے اندر سے زائر کو دیکھ رہے ہیں تو زائر کے کپڑوں کے اندر کا جسم بھی انہیں نظر آ رہا ہے۔25

فروغ و حفاظتِ حجاب میں صحابیات کا کردار

بلاشبہ صحابیات پردے کا حد درجہ اہتمام کرتی تھیں اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ یہ وہ پاک ہستیاں تھیں جنہوں نے آقائے دو۲جَہان، رَحْمَتِ عَالَمِیَّان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دربارِ گوہر بار سے جو کچھ سیکھا اُس پر عَمَل پیرا ہونا نہ صِرف خود پر لازِم کر لیا بلکہ دوسروں کے لیے بھی لازِم جانا تاکہ ان کی زندگیاں بھی اَحْکامِ خدا و رسول پر عَمَل کرنے سے مینارۂ نور بن جائیں۔ مثلاً ایک مرتبہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت سراپا غیرت میں ان کے بھائی حضرت عبدُ الرَّحمٰن رضی اللہ عنہ کی بیٹی حفصہ حاضِر ہوئیں،انہوں نے بارِیک دوپٹّا اَوڑھ رکھا تھا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس دوپٹّے کو پھاڑ دیا اور انہیں موٹا دوپٹّا اوڑھا دیا۔26 مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: یعنی اس دوپٹّہ کو پھاڑ کر دو۲ رُومال بنا دئیے تاکہ اوڑھنے کے قابِل نہ رہے،رُومال کے کام آئے، لہٰذا اس پر یہ اِعْتِراض نہیں کہ آپ نے یہ مال ضائع کیوں فرما دیا۔ مزید فرماتے ہیں: یہ ہے عملی تبلیغ اور بچیوں کی صحیح تربیّت و تعلیم اس دوپٹّہ سے سر کے بال چمک رہے تھے، سِتْر حاصِل نہ تھا اس لیے یہ عَمَل فرمایا۔27
1بیضاوی، 3/237 2در منثور، 6/599 3مدارج النبوت، الجزء الثانی، ص461 4اخبار الاخیار، ص294 5حدائق بخشش، ص158 6مسلم، ص317، حدیث:890 7ابو داود، ص645، حدیث : 4101، مفہوماً 8فتاویٰ رضویہ، 22 /217 9کنز العمال، الجزء 13، 7/232، حدیث:37416 10در مختار، ص58 11فتاویٰ ہنديہ، 1/65 12بہا رِشريعت، 1/480 13ابو داود، ص 647، حدیث: 4116 14ردالمحتار، 2/103 15بہارِشريعت، 1/480 16وقا ر الفتاویٰ، 3/151 17پردے کے بارے میں سوال جواب، ص 50 ملتقطاً 18ابن ماجہ، ص256، حدیث: 1597 پردے کے بارے میں سوال جواب، ص52 ملتقطاً 19بخاری، ص1431، حدیث:5641 20ابو داود، ص397، حدیث:2488 ملتقطاً 21بخاری، ص1433، حدیث:5652 22ابو داود، ص297، حدیث:1833 23مراٰۃ المناجیح، 4/ 188-189بتغیر 24مسند امام احمد، 10/457، حدیث:26408 25مراٰۃ المناجیح، 2/527 26موطا امام مالك، ص485، حدیث:1739 27مراٰۃ المناجیح، 6/124

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن