30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان ظالِموں نے عورتوں اور بچوں کو بھی مُعاف نہ کیا اور ان کے ساتھ ایسے ایسے ظالمانہ سُلُوک رَوا رکھے جن کی تصویر کشی سے قَلَم کا سینہ شَق ہو جاتا ہے۔آئیے!ذرا مُـخْتَصَر جائزہ لیتی ہیں کہ راہِ خُدا میں صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّپر کس طرح ظُلْم و سِتَم کے پہاڑ توڑے گئے اور انہوں نے ان مَظَالِم پر کیا طَرْزِ عَمَل اپنایا؟
ظُلْم و سِتَم کی ان آندھیوں کے آگے سینہ سِپَر ہوجانے والی ہستیوں میں حضرت سَیِّدَتُنا نَہدِیہ اور ان کی بیٹی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما بھی ہیں۔ یہ دونوں بَنُو عَبدُ الدَّار کی ایک عورت کی باندیاں تھیں جو انہیں سَخْت تکلیفیں دیا کرتی اور کہا کرتی کہ میں کبھی تمہیں آزاد نہ کروں گی اور یہی سُلُوک جاری رکھوں گی، اگر اس سے چھٹکارا چاہتی ہو تو توحید کا اِنْـکَار کر دو یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہارا ہم مَذْھَب کوئی شخص تمہیں خرید کے آزاد کر دے۔ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا صِدّیقِ اکبر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے پاس سے گزرے تو وہ عورت اس وَقْت بھی انہیں یہی کہہ رہی تھی،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اے اُمِّ فلاں! انہیں آزاد کر دو۔ وہ بولی: آپ نے ان دونوں کو بگاڑا ہے آپ ہی آزاد کریں۔چُنَانْچِہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں خرید کر آزاد کردیا۔[1]
حضرت سَیِّدَتُنا بی بی اُمّ عُبَیْس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے بھی دین کی خاطِر بَہُت مَظَالِم بَرْدَاشْت کئے۔یہ بنی زُہْرہ کی باندی تھیں اور ان کو بھی کافِروں نے بَہُت ستایا،بے حد ظُلْم و سِتَم کیا۔بِالْخُصُوص اَسْوَد بن عبدِ یَغُوث آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو سَخْت تکالیف پہنچاتا اور ظُلْم و سِتَم ڈھاتا۔[2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع