30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثُمَامَہ٭آمِنَہ بِنْت رُقَيْش اور ٭ سَخْبَـرَة بِنْت تَمِيم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکی مَذْکُورہ بالا قُربانیوں سے ہمیں دَرْس حاصِل کرنا چاہیے،آج دنیا کے اَکْثَر خِطّوں میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو اس قَدْر آسانیاں مُیَسَّر ہیں کہ دِیْنِ اِسْلَام ان میں سے کسی سے گھر بار چھوڑنے کا تقاضا کرتا ہے نہ کسی سے خون کا نذرانہ مانگتا ہے، آج کسی کو دین کیلئے بہن بھائیوں اور دیگر اَعِزّا و اَقْرِبا کی ہمیشہ کے لیے جُدائی بَرْدَاشْت کرنے کی حاجَت ہے نہ دِین کی خاطِر ہجرت کر کے دِیار غیر کی صُعُوبتیں (تکلیفیں) جھیلنے کی کوئی ضَرورت۔لیکن اگر کبھی کوئی ایسا وَقْت آ جائے تو مسلمان قوم کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکی دین کی خاطِر دی گئی قُربانیوں کو پیشِ نَظَر رکھتے ہوئے ڈَٹ کر ان کا مُقَابَلَہ
کرنا چاہئے اور اگر جان بھی قُربان کرنا پڑے تو کبھی ماتھے پر پسینہ نہ آنا چاہئے۔
البتہ! آج دین کی کیا حَالَت ہے، اس کی کسی نے کیا ہی خُوب مَنْظَر کشی ہے:
اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وَقْتِ دُعا ہے اُمّت پہ تِری آ کے عَجَب وَقْت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وَطَن سے پردیس میں وہ آج غریب الغُربا ہے
جس دین کے مَدْعُوْ تھے کبھی قیصر و کسریٰ خود آج وہ مہمان سرائے فُقرا ہے
وہ دین ہوئی بَزمِ جَہاں جس سے فَروزاں اب اس کی مَجالِس میں نہ بتی نہ دِیا ہے
جو کچھ ہےوہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتُوت شِکوہ ہے زمانے کا نہ قِسْمَت کا گلہ ہے
دیکھیں ہیں یہ دِن اپنی ہی غَفْلَت کی بدولت سچ ہے کہ بُرے کام کا اَنْجَام بُرا ہے
فریاد اے کشتیِ اُمّت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع