30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح جب حضرتِ سیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے مدینہ شریف کی طرف ہجرت کا پختہ اِرَادہ کیا تو اونٹ پر کَجاوہ باندھ کر اپنی زوجہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور اپنے بیٹے حضرت سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ کو بھی کَجاوے میں بٹھا لیا۔ ابھی وہ اونٹ کی نَکیل پکڑ کر چلے ہی تھے کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے میکے والوں یعنی بنو مُغِیرَہ نے انہیں دیکھ لیا۔ چُنَانْچِہ وہ کہنے لگے: تمہیں تو ہم نہیں روک سکتے لیکن ہمارے خاندان کی اس لڑکی کے بارے میں تم کیا چاہتے ہو؟ ہم کیوں اسے تمہارے پاس چھوڑ دیں کہ تم اسے شہر بہ شہر لئے پھرو؟ یہ کہہ کر انہوں نے اونٹ کی نَکیل ان سے چھینی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ان سے علیحدہ کر دیا۔ اس پر حضرت سَیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے خاندان یعنی بنو عَبْدُ الْاَسَد کے لوگوں کو طیش آ گیا اور انہوں نے غَضَب ناک ہو کر کہا: بخدا! جبکہ تم نے اُمِّ سلمہ کو اس کے شوہَر سے علیحدہ کر دیا ہے جو ہمارے خاندان میں سے ہیں تو ہم ہرگز ہرگز ابوسلمہ کے بیٹے سلمہ کو اس کے پاس نہیں رہنے دیں گے کیونکہ وہ بچّہ ہمارے خاندان کا ہے۔ پھر اسی تُو تکار میں بنی عَبْدِ الْاَسَد والے حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ کے بیٹے کو لے کر چل دیئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بنو مُغِیرَہ کے لوگوں نے اپنے پاس روک لیا۔ حضرت ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ چونکہ حکْمِ خدا و رسول پر لَـبَّیْك کہتے ہوئے ہجرت کا پختہ ارادہ فرما چکے تھے، چُنَانْچِہ انہوں نے اپنے بیٹے اور بیوی کا مُعَامَلہ سُپُردِ خدا کیا اور بیوی اور بچے دونوں کو چھوڑ کر تنہا سوئے مدینہ چل پڑے۔ ادھر حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا شوہر اور بچے کی جُدائی پر ہر صُبْح وادیِ مکّہ کے باہر بیٹھ کر روتی رہتیں۔ اسی طرح تقریباً ایک سال کا عرصہ گزَر گیا۔ ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا ایک چچا زاد بھائی آپ کے پاس سے گزرا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے دل میں آپ کے لیے نرم گوشہ پیدا فرمایا۔ لِہٰذا اس نے بنو مُغِیرَہ کو سمجھایا کہ تم نے اس مسکینہ کو اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے اور اسے کیوں نہیں جانے دیتے...!! بالآخر بنو مُغِیرَہ نے اس پر رَضا مند ہوتے ہوئے حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے کہا: اگر چاہو تو اپنے شوہَر کے پاس چلی جاؤ۔ پھر حضرت ابوسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ کے خاندان والوں نے بچے کو حضرتِ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع