30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَقْت غَش آگیا اور بے حال ہو کر زمین پر گر پڑے، سر زَخمی ہو گیا،خون کا فوارہ چھوٹنے لگا، یہ دیکھ کر حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بے تاب ہوگئیں،ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ کہنے لگیں:آلِ فاطِمہ میں ایک ہی عابِد کا خون مَحْفُوظ رہ گیا تھا، چلو اَچھّا ہوا کوفے کی زمین پر یہ قَرْض بھی اَدا ہوگیا۔
تاراج کارواں کی سوئے طیبہ روانگی
دُوسرے دن یہ کارواں (قَافِلہ) دمشق روانہ ہوا تو جس آبادی سے گزرتا کُہْرَام برپا ہو
جاتا۔آخِر کار دمشق پہنچے تو سب سے پہلے زَحْر بن قَیس نے یزید کو فتح کی خبر سنائی۔پہلے تو فتح کی خوشخبری سن کر یزید جھوم اٹھا لیکن اس ہَلاکَت آفریں اَقدام کا ہولناک اَنْجَام جب نَظَر کے سامنے آیا تو کانپ گیا باربار چھاتی پیٹتا تھا کہ ہائے اس واقعہ نے ہمیشہ کے لئے مجھے ننگِ اِسْلَام بنا دیا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!قاتِل کی پشیمانی مَقْتُول کی اَہَمِیَّت تو بڑھا سکتی ہے پر قَتْل کا الزام نہیں اٹھا سکتی۔ پھر یزید نے شام کے سرداروں سے مُشَاوَرَت کے بعد اگلے ہی دِن نعمان ابنِ بشیر کی سرکردگی (سرداری) میں مع 30 سواروں کے اَہْلِ بَیت کا یہ تاراج کارواں سُوئے طیبہ روانہ کر دیا۔پہاڑوں،صَحْرَاؤں اور ریگستانوں کو عُبُور کرتا ہوا یہ قَافِلہ مدینے کی طرف بڑھتا رہا،یہاں تک کہ جب حِجاز کی سَرْحَد شروع ہوئی تو اچانک سویا ہوا دَرْد جاگ اُٹھا، رَحْمَت و نُور کی شہزادیاں اپنے چمن کا موسم بہار یاد کرکے مچل گئیں کہ کربلا جاتے ہوئے انہی راہوں سے گزری تھیں، اس وَقْت اپنے تاجداروں اور ناز برداروں کی شَفْقَت و مہربانی کے سائے میں تھیں، ذرا چہرہ اُداس ہوا چارہ گروں کا ہُجُوم لگ گیا، پلکوں پہ ننھا سا قطرہ چمکا اور پیار کے ساگر میں طوفان اُمَنْڈنے لگا۔ اب اسی راہ سے لَوٹی ہیں تو قَدَموں کے نیچے کانٹے ہیں، تڑپ تڑپ کر قِیامَت بھی سر پہ اُٹھا لی تو کوئی تسکین دینے والا نہیں۔ لَبوں کی جُنْبِش (حَرَکَت) اور اَبْرو کے اِشاروں سے اَسیروں (قیدیوں) کی زنجیر توڑنے والے آج خود اَسِیْرِ کَرْب و بلا ہیں۔
آخِر جونہی مدینے کی آبادی چمکی، صَبْر کا پیمانہ چھلک اُٹھا، کلیجہ توڑ کر آہوں کا دھواں نکلا اور ساری فضا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع