30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قافلے اِسطرح دنیا میں بَہُت کم جاتے ہیں جسطرح آج کے دن اَہْلِ حَرَم جاتے ہیں
قَافِلہ ہے مَدَنی لوگ ہیں اَولادِ علی ہاشمی خیل ہیں اور آلِ رَسولِ عربی
اَہْلِ بَیتِ نبوی ہیں یہ اَسِیرانِ بَلا سر و سامان ہے یاں بے سر و سامانی کا
آستین اَشک سے تَر جیب و گریبان سب چاک منہ پہ تھی گَردِ اَلَم آنکھیں تھیں خوں سے نمناک
دن کو راحَت نہ کسی وَقْت نہ شب کو آرام ساتھ خیمہ نہیں جس میں کہ ہو راتوں کو مَقام
غَمِ شبیر نہاں دل میں کیے جاتے تھے دَاغ غَم تحفۂ اَحباب لیے جاتے تھے
رنج تازہ بھی جو آتے تھے پئے جاتے تھے جانِ غم دیدہ کو گو صبر دئیے جاتے تھے
ضبط نالہ کریں تو سینہ پھٹا جاتا تھا نہ کریں گریہ تو دل غم سے جَلا جاتا تھا
کیا کہیں آکے وہ اس دَشْت میں کیا کھو کے چلے گھر سے آئے تھے یہاں کیا اور کیا ہو کے چلے[1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خاندانِ رِسَالَت کا یہ تاراج قَافِلہ جب مَقْتَل کے قریب سے گزرنے لگا تو خواتِینِ اَہْلِ بَیت بے تاب ہوگئیں۔ ضَبْط نہ ہو سکا تو آہ و فریاد کی صدا سے کربلا کی زمین ہِل گئی۔ سیِّدہ خاتونِ جنّت کی لاڈلی بیٹی حضرت زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا حال سب سے زیادہ رِقَّت انگیز تھا۔ کسی نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ان جذبات کو اَشعار کی شَکْل میں کچھ یوں نَقْل کرنے کی کوشِش فرمائی ہے:
سر میرے کوئی دوس نہ دیویں بہن تیری مجبور اے
کتھوں لیاواں کَفَن میں تیرا ایتھوں شہر مدینہ دور اے
تم سا کوئی غریب نہیں خَسْتَہ تن نہیں شہادت کے بعد گور نہیں اور کَفَن نہیں
ہائے ہائے پرائی بستی ہے اپنا وطن نہیں واقِف یہاں کسی سے یہ بیکس بہن نہیں
لا کر کَفَن پہناتی میں مَظْلُوم بھائی کو ہوتا اگر وَطَن تو میں دفناتی بھائی کو[2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع