30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خواتین کو بھی چَشْمِ تَصَوُّر سے دیکھئے جن میں سَرْوَرِ اَنۢبِیَا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیٹیاں بھی ہیں تو سوگوار مائیں اور پریشان حال بہنیں بھی۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کی گودیں خالی ہوچکی ہیں، جن کے سینے سے اولاد کی جُدائی کا زَخْم رِس رہا ہے، جن کی گود سے شِیرخوار بچہ بھی چھین لیا گیا ہے اور جن کے بھائیوں، بھتیجوں اور بھانجوں کی بے گور و کَفَن لاشیں سامنے پڑی ہوئی ہیں۔روتے روتے جن کی آنکھوں کا چشمہ سوکھ گیا ہے۔ عورت ذات کے دل کا آبگینہ یونہی نازُک ہوتا ہے ذرا سی ٹھیس جو بَرْدَاشْت نہیں کرسکتا آہ!!! اس پر آج پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ذرا اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ ہمارے یہاں ایک مَیّت ہوجاتی ہے تو گھر والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ غم گساروں کی بھیڑ اور چارہ گروں کی تلقینِ صَبْر کے باوُجُود آنسو نہیں تھمتے تو پھر کربلا کے میدان میں خاندانِ نبوّت کی ان سوگوارعورتوں پر کیا گزری ہوگی جن کے سامنے بیٹوں، شوہروں اور عزیزوں کی لاشوں کا اَنبار لگاہوا تھا،جو غمگساروں اور شریکِ حال ہمدردوں کے جُھرْمَٹ میں نہیں خونخوار دشمنوں اور سَفَّاک درندوں کے نرغے میں تھیں۔بِالْخُصُوص خاندانِ نبوّت کی ان شہزادیوں پر شامِ غریباں قِیامَت سے کم نہ تھی، ایک طرف یزیدی لشکر میں خوشیوں کا چراغاں تھا تو دوسری طرف حَرَم کے پاسبانوں کے ہاں اندھیرا تھا،ایک طرف فتح کے شادیانے تھے تو دوسری طرف فضا پر موت کے سناٹےتھے۔ زِنْدَگی کی یہ سوگوار اور اُداس رات کاٹے نہیں کٹ رہی تھی، رات بھر سسکیوں کی آواز آتی رہی،آہوں کا دھواں اٹھتا رہا اور رُوحوں کے قافلے اترتے رہے۔ آج پہلی رات تھی کہ خُدا کا گھر بسانے کے لئے اَہْلِ حَرَم نے سب کچھ لُٹا دیا تھا۔آہ!!! کلیجہ شَق کر دینے والے سارے اَسْبَاب اس رات میں جَمْع ہوگئے تھے۔بڑی مُشکِل سے صُبْح ہوئی،اُجالا پھیلا اور دِن چڑھنے پر اونٹنی کی ننگی پیٹھ پر گلشنِ نبوّت کے ان مُرجھائے ہوئے پھولوں کو رسیوں سے خوب جکڑ کر بٹھایا گیا کہ جُنْبِش (حَرَکَت) تک نہ کر سکیں۔ پھر اَہْلِ بَیت کا یہ لُٹَا پِٹَا قَافِلہ جس وَقْت کربلا کے میدان سے رُخْصَت ہوا، وہ قِیامَت خیز مَنْظَر کیسا ہو گا!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع