30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھڑے ہو گئے، میں باہَر نکلی تو انہوں نے کہا: اےابو بکر کی بیٹی! تیرا باپ کدھر ہے؟ میں نےکہا: اللہ کی قَسم میں نہیں جانتی میرے والِدِ محترم کہاں ہیں۔ میرا اتنا کہنا تھا کہ ابو جَہْل نے اس زور سے میرے گالوں پر تھپڑ مارا کہ میرے کان کی بالی دُور جا گری۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بڑھاپے میں ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد اس کا سہارا بنے، لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس بندی نے عَین بڑھاپے کے عالَم میں بھی اپنے بیٹے کو دِین کی نامُوس پر قُربان ہونے کا دَرْس دیا اور اس نیک بخت بیٹے نے بھی ماں کا کہا سچ کر دِکھایا۔ چُنَانْچِہ مَرْوِی ہے کہ آپ کے شہزادے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی شَہادَت سے 10 دن قَبْل آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی عِیادَت کے لیے حاضِر ہوئے اور طبیعت کی ناسازی کے مُتَعَلِّق پوچھا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے یہ جواب دیا کہ ابھی بیمار ہی ہوں۔تو انہوں نے عَرْض کی:مرنے میں عَافِـیَّت ہے۔اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بولیں:شاید تم میری موت پسند کرتے ہو،لیکن جب تک دو باتوں میں سے ایک نہ ہو جائے میں مرنا نہیں چاہتی:یا تو تم شہید ہو جاؤ اور میں صَبْر کروں یا دشمن کے مُقابلے میں کامیابی حاصِل کرو کہ میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ چُنَانْچِہ جب حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (ظالِم و جابِر حکمران حجاج کا مُقَابَلَہ کرتے ہوئے) شہید ہو گئے اور حَجَّاج نے اِن کو سولی پرلٹکا دیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا شدید بڑھاپے کے باوُجُود حَجَّاج کے مَـجْبُور کر دینے پر[2] وہاں تشریف لائیں اور یہ مَنْظَر دیکھ کر اسے مخاطَب کرتے ہوئے فرمایا: کیا ابھی اس سوار کےاترنے کا وَقْت نہیں آیا؟ [3]
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع