30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آخِرَت کے سَفَر کو اے بیدؔل توشہ تم لے چلو دُرُود شریف[1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
راہِ خدا میں پہلی جان کی قربانی
مَشْہُورصحابی حضرت سَیِّدُنا عمّار بن یاسِر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی والِدہ ماجِدہ حضرتِ سیِّدَتُنا سُـمَیّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا وہ شیر دِل خاتون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے شَجَرِ اِسْلَام کی جڑوں کو مَضْبُوط کیا۔ یوں انہیں جہاں اِسلام کی شہیدۂ اوّل ہونے کا اِعزاز حاصِل ہوا تو وہیں یہ شَرَف بھی ملا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا راہِ خُدا میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والی واحِدصحابیہ بن گئیں۔
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا شَجَرِ اِسْلام کے ثمرات سے فیض یاب ہونا ہی آپ کا جُرْم بن گیا اور کُفْر کے اندھوں نے ان پر ظُلْم و سِتَم کے وہ پہاڑ توڑے کہ اَلْاَمَان وَالْحَـفِیْظ۔ چُنَانْچِہ مَرْوِی ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اپنے بیٹے حضرت سَیِّدُنا عمّار رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور شوہر حضرت سَیِّدُنا یاسِر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت مکّہ مُکَرَّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کے تپتے صَحْرَا میں مَقامِ اَبْطَح پر اِیذائیں پاتے دیکھتے تو اِرشَاد فرماتے: اے آلِ یاسِر! صَبْر کرو! تمہارے لیے جنّت کا وعدہ ہے۔[2] اہلِ مکّہ بِالْخُصُوص دشمنِ اسلام ابو جَہْل نے کون سا سِتَم ہے جو ان پر نہ کیا، اسے بس اسی بات سے سمجھ لیجئے کہ
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو لوہے کی زِرہ پہنا کر سَخْت دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا۔[3]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ذرا تَصَوُّر کیجئے کہ جب دھوپ کی گرمی سے لوہے کا لِباس تپنے لگتا ہوگا تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع