دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat-o-Salihat Aur Sabar | صَحابیات وصالحات اور صَبْر

Syaedatuna Hajra Ka Sabar

book_icon
صَحابیات وصالحات اور صَبْر

حکایت15:سَیِّدَتُنا ہاجرہ کا صبر

صفا و مروہ مَکةُ المُکَرَّمة کے 2 پہاڑ ہیں جو کعبہ شریف کے  مقابل مشرقی جانِب واقع ہیں،حضرت سَیِّدَتُنا ہاجرہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا اور حضرت سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے ان دونوں پہاڑوں کے قریب اس مَقام پر جہاں زَمْزَمْ کا کنواں ہے حُکْمِ اِلٰہی سے رہائش اِخْتِیار فرمائی۔اس وقت یہاں سبزہ و پانی تھا نہ کوئی اور کھانے پینے کا سامان۔جو زادِ راہ پاس تھا وہ آخر کتنی دیر تک ساتھ دیتا، مگر صبر و رضا کی پیکر حضرت سَیِّدَتُنا ہاجرہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا اپنے رب کی رَحْمَت سے مایوس نہ تھیں، بلکہ انہیں قوی اُمِّید تھی کہ جس کے حُکْم پر انہیں یہاں چھوڑا گیا ہے وہ یقیناً ان کی دست گیری فرمائے گا اور بلاشبہ پھر ہوا بھی یونہی کہ جب حضرت سَیِّدُنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو پیاس لگی اور اس کی شِدَّت بہت زِیادَہ ہوگئی تو حضرت سَیِّدَتُنا ہاجرہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا بے تاب ہو کو کوہِ صفا پر تشریف لے  گئیں،وہاں پانی نہ پایا تو اُتر کر نیچےکے میدان میں دوڑتی ہوئی مَروہ تک پہنچیں،اس طرح 7 چکّر لگائے ۔ 
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اللہ پاک نے اِنَّ اللهَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ یعنی بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے،کا جَلْوَہ اس طرح ظاہِر فرمایا کہ غیب سے ایک چشمہ زَمْزَمْ نمودار کیا اور ان کے صَبْر  و اِخْلَاص کی بَرَکَت سے ان کے اِتِّبَاع میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والوں کو مقبولِ بارگاہ قرار دیا اور ان دونوں پہاڑوں کو قبولیتِ دُعا  کا مقام بنا دیا ۔چنانچہ ان پہاڑوں کی عَظَمَت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ-  (پ۲، البقرة:۱۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں۔
 تُو کمر بستہ رہا کر خدمتِ اِسلام پر
راہِ مولیٰ میں جو آفت آئے اس پر صبر کر 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

صبر پر مبنی مزید حکایات

حکایت16: بھوک و پیاس کی شدت پر صبرکا انعام

حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ شریک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا مکہ میں تھیں۔ ان کے دل میں اسلام کی عَظَمَت  پیدا ہوگئی اور اسلام لے آئیں۔ ان کا تَعَلّق قُرَیْش کے قبیلہ بنی عامر بن لُوَی سے ہے اور ابوعسکر دوسی کے نکاح میں تھیں ۔ قبولِ اسلام کے بعد خُفْیَہ طور پر قُرَیْش  کی عورتوں سے ملتیں اور انہیں اسلام کی دَعْوَت دے کر قبولِ اسلام کی ترغیب دلاتیں حتی کہ اَہْلِ مکہ پر ظاہِر  ہوگیا کہ یہ اِیمان  لاچکی ہیں۔ چُنَانْچِہ اَہْلِ مکہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہا کو پکڑ کر کہا:اگر ہمیں تمہارے قبیلہ کا لِـحَاظ  نہ ہوتا تو ہم تمہیں سَخْت  سزا دیتے لیکن اب ہم تمہیں مسلمانوں کی طرف لوٹا کر ہی دم لیں گے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہا بیان کرتی ہیں کہ اَہْلِ مکہ نے مجھے بغیر کجاوے کے اُونْٹ  پر سوار کیا کہ میرے نیچے کوئی کپڑا اور زین وغیرہ بھی نہ تھی۔تین دن تک مجھے اسی حَالَت میں چھوڑے رکھا نہ کچھ کھلاتے نہ پلاتے۔ مجھ پر تین دن ایسے گزرے کہ میں نے زمین پر چلنے والی کسی چیز کی آواز نہ سنی۔ اَہْلِ مکہ جب بھی کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو مجھے باندھ کر دُھوپ میں ڈال دیتے اور خود سائے میں جاکر بیٹھ جاتے اور مجھے کھانے پینے کو بھی کچھ نہ دیتے۔ میں اسی حَالَت  میں رہتی حتی کہ وہ وہاں سے کوچ کر جاتے ۔اسی دوران انہوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور مجھے باندھ کر دھوپ میں ڈال کر خود سائے میں چلے گئے۔اچانک میں نے اپنے سینہ پر کسی چیز کی ٹھنڈک مَحْسُوس  کی، دیکھا تو وہ پانی کا ایک ڈول تھا۔ میں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی پیا پھر اسے ہٹا لیا گیا اور وہ بلند ہوگیا،کچھ دیر بعد ڈول پھر آیا میں نے اس میں سے پیا اسے پھر اٹھا لیا گیا پھر اسی طرح آیا میں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی پیا اسے پھر اٹھا لیا گیا،کئی بار ایسا ہوا،پھر وہ ڈول میرے حوالے کر دیا گیا، میں نے سیر ہو کر پیا اور بَقِیَّہ  پانی اپنے جسم اور کپڑوں پر اُنڈیل لیا۔ جب وہ لوگ بیدار ہوئے اور مجھ پرپانی کا اَثَر مَحْسُوس کیا اور مجھے اچھی حَالَت میں دیکھا تو کہا:کیا تم نے کھل کر ہمارے مشکیزوں سے پانی پیا ہے؟ میں نے کہا:نہیں!بخدا! میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ میرے ساتھ یہ مُعَامَلہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا:اگر تم سچی ہو تو پھر تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔جب انہوں نے اپنے مشکیزوں کو دیکھا تو انہیں ایسے ہی پایا جیسے انہوں نے چھوڑے تھے تو وہ (مجھ پر) ڈھائے ہوئے ظلم پر اَفْسَوس کا اِظْہَار  کرنے لگے۔  

حکایت17: خالو، بھائی اور شوہر کی شہادت پر صبر

حضرتِ سیِّدُنامُصْعَبْ بن عمیررَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ کے دیگر 70 ساتھیوں كو جب اللہپاک نے شَہادَت  نصیب فرمائی پس حضرت سَیِّدَتُنا حَمْنہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا(زوجہ مُصْعَبْ بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ)آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے حاضِر ہوئیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اے حمنہ!اللہ  پا ک سے ثواب کی اُمِّید   رکھ  حضرت سَیِّدَتُنا حمنہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا نے عَرْض  کی:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کس بات پر؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تمہارے خالو حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ شہید ہو گئے ہیں۔یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡهِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا  اور کہا اللہ پاک اُسے بخشے اس پر اپنی رحمت  نازِل  فرمائے اُس کو شَہادَت  مُبارک ہو۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اے حَمْنہ!اللہ پاک سے ثواب کی اُمِّید  رکھ  حضرت سَیِّدَتُنا حَمْنہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَانے عَرْض  کی:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کس بات پر۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تمہارا بھائی شہید ہو گیا ہے۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡهِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا اور کہا اللہ پاک اُسے بخشے اس پر اپنی رحمت نازِل  فرمائے اس کو جَنّت مُبارک ہو۔پھرآپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے حَمْنہ!اللہ پاک سے ثواب کی اُمِّید  رکھ  حضرت سَیِّدَتُنا حَمْنہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا نے عَرْض  کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کس بات پر، آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تمہارا شوہر(مُصْعَبْ بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ)شہید ہو گیا ہے یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا نے شِدَّتِ غم سے کہا ہائے مُصِیْبَت!اور نڈھال ہو گئیں۔تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا عورت کے دل میں جو مَحبَّت اپنے شوہر کے لئے ہوتی ہے کسی اور کے لئے  ویسی مَحبَّت نہیں ہوتی۔سرکار صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب ان سے دَرْیَافْت  کیا کہ تمہیں کیا ہوا اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا نے عَرْض  کی:مجھے بچوں کی یتیمی نے پریشان کر دیا تھا اور عَرْض کیا:آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم پر نَظَر ِکرم فرما ئیں  پس آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِن کے لئے دُعا فرمائی۔ 

حکایت18: بیٹے کی موت پر صبر

 حضرتِ سیِّدُ نا انَس رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ فر ماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا حارِثہ بن سُراقہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ کی والدہ اُمِّ ربیع بِنْتِ برا رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَاحضور صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگا ہ میں حاضِر  ہوئیں اور عَرْض  کیا:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مجھے حارِثہ کے بارے میں بتائیں گے؟وہ غزوۂ بدر میں شہید ہوگئے تھے اور ان کو ایک نامعلوم تیر لگا تھا، اگر وہ جنَّت میں ہے تو میں صَبْر کرلوں گی اور اگر کہیں اور ہے تو میں اس کی حَالَت پر خوب روؤں گی۔تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اے حارِثہ کی ماں!وہ جَنَّت میں  ایک سرسبز و  شا داب باغ میں ہے اور فِردوسِ اعلیٰ میں پہنچ گیا ہے۔ 

حکایت19:ثواب کی لذت نے درد کو بھلا دیا

حضرت سَیِّدُنا فتح موصلی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی زوجہ پھسل گئیں تو ان کا ناخن ٹوٹ گیا،اس پر وہ ہنس پڑیں ،ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو دَرْد  نہیں ہو رہا؟ انہوں نے فرمایا: اس کے ثواب کی لذّت  نے میرے دل سے دَرْد  کی تلخی کو زائل کر دیا ہے۔  

حکایت20:ایک صالحہ عورت کا صبر

دورانِ طواف حضرت سَیِّدُنا شَیْخ ابوالحسن سراج رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی نَظَر  ایک عورت پر پڑی۔ وہ نہایت حسین و جمیل اور خوبرو تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے اپنے آپ سے کہا بخدا میں نے آج تک ایسا چہرہ نہیں دیکھا۔ شاید یہ اس کی خوشحالی  اور فِکْر  و غم کی آزادی کی وجہ سے ہو۔عورت نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  کی بات سن لی ، اس نے کہا: کیا کہہ رہے ہو؟وَاللہ میں غموں میں گِرِفتار اور فکروں سے زخمی ہوں اور کوئی میرے ساتھ میرا غم بانٹنے والا بھی نہیں۔شیخ نے کہا،تجھے کیا غم ہے؟عورت بولی میرے شوہر نے ایک بکری کو قربان کیا۔میرے دو چھوٹے بچّے کھیل رہے تھے۔ایک شِیر خوار (دودھ پیتا بچہ)گود میں تھا،میں کھانا پکانے میں مَصْرُوف تھی دونوں بچّوں میں سے بڑے نے چھوٹے سے کہا،آؤ میں  تمہیں بتاؤں ابا جان نے بکری کو کیسے ذَبْح کیاتھا۔ چھوٹے بچّے نے کہا: ہاں بتاؤ۔بڑے نے چھری ہاتھ میں لی، بھائی کو زمین پر لٹایا اور ذَبْح  کردیا۔بھائی کا خون اور تڑپنا دیکھ کر خود پہاڑ پر بھاگ گیا۔اس کا باپ اس کی تلاش میں گیا مگر اسے نہ پاسکا۔ کیونکہ اس بیٹے کو بھیڑئیے نے پھاڑ کھایا تھا۔میرا شوہر بھی پہاڑ سے زندہ واپس نہ آسکا۔پیاس کی  شِدَّت اور گرمی نے اس کی بھی جان لے لی،ذَبْح  شدہ بچّے کی آواز سن کر میں اسے دیکھنے گئی تو میرے شیر خوار بچّے نے جس کو میں چولہےکے پاس چھوڑ گئی تھی اس نے گرم ہانڈی اپنے اوپر اُنْڈَیْل لی اور جل کر فوت ہوگیا۔  میری ان تما م بچوں سے بڑی ایک بیٹی بھی تھی جس کی شادی ہوچکی تھی۔وہ اپنے شوہر کے گھر رہتی تھی ۔ ان واقعات کی خَبَر  اس کو پہنچی تو وہ صَدْمَہ بَرْدَاشْت  نہ کرسکی اور وہ بھی زمین پر تڑپ تڑپ کر فوت ہوگئی۔اب صِرف تنہا میں رہ گئی ہوں جو ان تما م غموں  کا بوجھ لئے چل رہی ہوں۔
حضرت سَیِّدُنا  شیخ ابو الحسن رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے سنا تو مُتَعَجِّب ہوئے اور پوچھا: آخر تم ان پر صَبْر کیسے کرتی ہو؟صابِرہ خاتون نے جواب دیا:جو بھی صَبْر اور بے صبری کو الگ الگ کر دے اسے دونوں کے درمیان نُمایَاں  راہ مل جائے گی۔خوشحالی ظاہِر  کر کے اگر صَبْر  کر لیا تو اس کا اَنْجَام  بہتر اور پھل میٹھا ہے اور اگر بے صبری میں مُبْتَلا رہا تو اس  کا کوئی اجر و عِوَض نہ پائے گا۔اس باکمال خاتون نے شیخ سے یہ بات کہی اور ان کے پاس سے چلی گئی۔ 

حکایت21:آگ سے حفاظت کی نوید

حضرتِ سَیِّدُنا  ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ فر ماتے ہیں:ایک عورت اپنے بچے کو لے کر  بارگاہ  رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوئی اورعَرْض  کی: اے اللہ  کے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے لئے دُعا  کیجئے کیونکہ میں اپنے 3 بچوں کو دفنا چکی ہوں۔دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد  فرمایا:کیا تُو 3 بچوں کو دفنا چکی ہے؟ اس نے عَرْض کی : جی ہاں  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرمایا:بے شک تو نے اپنے لئے آگ سے حِفَاظَت  کیلئے ایک مضبوط دیوار تیّار کرلی ہے۔ 
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے کہ مصائب و آلام پر صَبْر کرنے والوں کو اللہ  پاک کی طرف سے کیسے کیسے انعام  و اکرام  سے نواز ا جا تا ہے۔لِہٰذا اس حَدِیْثِ پاک اور اس کے وَضَاحَتی مَدَنی  پھولوں کو ہر اسلامی بہن بِالْخُصُوص  ان اسلامی بہنوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ  جن کے بچہ یا بچی پیدا ہوتے ہی یا بچپن میں اِنْتِقَال کر جائیں کہ چھوٹے بچوں کی وفات پہ صبر کرنے پر اجر عظیم کی بشارتیں ہیں۔

ایک بچے کے انتقال پر صبر کا انعام

تاجدارِ رِسالت،شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فر مایا:جس مسلمان جوڑے کے 3 بچے اِنْتِقَال کر جائیں اللہ پاک ان بچوں پر فَضْل  و رحمت کرتے ہوئے ان کے والدین کو جَنَّت میں داخِل فر مائے گا۔صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض  کی: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اور 2 بچے؟ فرمایا: اور 2 بچے بھی۔پھر عَرْض کی:اور ایک؟ فرمایا: ایک بھی۔پھر فرمایا:اس ذاتِ پاک کی قسم!جس کے قبضہ قُدْرَت  میں میری جان ہے  جس عورت کا کچا بچہ فوت ہوجائے(یعنی 4 ماہ یا اس سے زائد کا حَمْل ضائع ہو جائے) اور وہ اس پر صَبْر  کرے تو وہ بچہ اپنی  ماں کو ناڑو (یعنی ناف) کے ذَرِیعے  کھینچتا ہوا جَنَّت میں لے جائے گا۔ 
اسی طرح ایک رِوایَت  میں ہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد  فرمایا:میری اُمَّت میں سے جس کے 2 بچے پیشوائی کرنے والے ہونگے(یعنی فوت ہوچکے ہوں گے)اللہ  پاک ان کے سَبَب اسے جَنَّت میں داخِل فر مائے گا۔اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے عَرْض کی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اور جس کا ایک بچہ پیشوائی کے لئے گیا ہو تو؟فرمایا:وہ ایک بچہ بھی اس کی پیشوائی کرے گا۔عَرْض کی:آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت میں  جس کی پیشوائی کے لئے کوئی نہ ہو تو؟فرمایا:ایسوں کی پیشوائی میں کروں گا اور وہ میرے جیسا پیشوا ہر گز کسی کو نہ پا سکیں گے۔ 
جس کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!چھوٹے بچوں کی وفات پر صبر کرنا نوجوان بیٹوں کی موت پر صَبْر کرنے سے قدرے آسان ہے، مذکورہ فضائل چھوٹے بچوں کی وفات پر صبر کے مُتَعَلِّق ہیں، جبکہ نوجوان بیٹے  کی موت پر صبر کے متعلق مروی ہے کہ اللہ پاک کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جب کسی کا لڑکا مر جاتا ہے تو اللہ پاک فرشتوں سے اِسْتِفْسَار فرماتا ہے:تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی ہے۔ وہ عرض کرتے ہیں:جی ہاں۔پھر اِرشَاد فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا۔وہ پھر اِقْرَار کرتے ہیں تو اِرشَاد فرماتا ہے:(اس مُصِیْبَت پر)میرے بندے نے کیا کہا؟فرشتے عَرْض کرتے ہیں:اس نے تیری حَمد بیان کی اور اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡهِ رٰجِعُوۡنَ  پڑھا تو اللہ پاک فرماتا ہے: میرے اس بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بَیْتُ الْـحَمْد رکھو۔ 

حکایت20:22 بچوں کی وفات پر صبر کرنے والی

    مثنوی شریف میں ہے:ایک عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوتی، مگر بچہ چند ماہ کا ہی ہوتا کہ مرجاتا۔عورت روئی کہ اے خداوند!میں نو۹ماه تک حَمْل کی مُصِیْبَت جھیلتی ہوں اور صرف تین۳ چار۴ ماہ اپنے بچے سے خوشی حاصِل کرتی ہوں۔اس عورت کے لگاتار 20 بچّے اسی طرح مرے تو ان مَصَائِب نے اس کے لئے مجاہدوں کا کام کیا اور اس پر اسرارِ غیب نمودار ہونے لگے۔ایک رات خواب میں اس نے جَنَّت دیکھی۔
حَدِیْثِ قُدْسِی میں ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیزیں تیّار کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سُنا اور نہ وہ  کسی کے دل میں گزریں۔اللہ  پاک نے جس طرح اپنے نور کو چراغ مَحْض اِنسانوں کے فہم کے لئے فرما دیا ہے اسی طرح جَنَّت کا بھی ذِکْر ہے در اصل جَنَّت کی  حقیقت انسانی فہم سے بالا تر ہے۔وہ عورت اس (جَنَّت)کو دیکھ کر اس کی تَجَلّی سے مست ہو گئی۔اس نے ایک مَـحَل پر اپنا نام لکھا ہوا دیکھا۔اس کو بتایا گیا کہ یہ نِعْمَت تمہیں دینے کے لئے بنائی گئی تھی لیکن تم عِبَادَت میں ذرا کاہل تھیں۔اللہ پاک نے تمہارے لئے یہ مصیبتیں مُقَدَّر کر دیں تا کہ وہ عِبَادَت  کے قائم مَقام بن جائیں۔جب تک اسرارِ غیبی کی دیکھنے والی آنکھیں مُیَسَّر نہ آ جائیں انسان انسان نہیں بنتا۔جس قَدْر مَصَائِب ہیں ان میں حکمتیں ہیں اور وہ مَصَائِب بسا اَوقات انسان کے فائدے کے لئے نازِل کئے جاتے ہیں۔ اس کو یوں  سمجھو کہ  کسی شخص میں خون کی زِیادَتی تھی لیکن وہ فصد نہیں کھلوا رہا تھا۔ قُدْرَت نے اس کی نکسیر جاری کر دی جس سے وہ بخار سے بچ گیا۔ہر پھل میں مغز ہوتا ہے جو چھلکے سے افضل ہےاسی طرح انسان میں مغز ہے جو رُوْح ہے۔اور چھلکا اس کا جِسْم ہے اگر انسان آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد ہے تو اس کو اپنے باپ کی طرح روح کا مُربّی اور طالِب بننا چاہئے۔حِفَاظَت کی چیز رُوْح  ہے جِسْم  نہیں۔ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن