حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کے پوتے حضرت سَیِّدُنا قاسم بن محمد رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میری زوجہ فوت ہو گئیں تو کبار تابعین کرام میں سے حضرت سَیِّدُنا محمد بن کعب قرظی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ میرے پاس تشریف لائے اور تَعْزِیَت کرتے ہوئے فرمانے لگے: بنی اسرائیل میں ایک عالم ایسے تھے جو فقیہ ہی نہ تھے بلکہ عابد و مجتہد تھے، انہیں اپنی بیوی سے حد درجہ مَحبَّت تھی، اچانک ان کی بیوی فوت ہو گئی تو انہیں نہایت دکھ ہوا، اسی افسوس میں انہوں نے گھر کا دروازہ بند کر لیا اور لوگوں سے ملنا جلنا تک چھوڑ دیا، یہاں تک کہ کوئی بھی ان سے مل نہ سکتا تھا، ایک عورت کو یہ سب کچھ معلوم ہوا تو وہ ان کے ہاں آئی اور کہنے لگی کہ مجھے ایک ایسا مسئلہ درپیش ہے جو میں صرف انہی سے پوچھنا چاہتی ہوں اور ایسا تبھی ممکن ہے کہ وہ مجھ سے ملاقات کریں۔ لوگوں نے خوب سمجھایا مگر وہ نہ مانی، آخر دیگر لوگ چلے گئے لیکن وہ وہیں بیٹھ گئی کہ جب تک مل کر مسئلہ نہ پوچھ لے گی یہاں سے نہ جائے گی، بالآخر کسی نے اندر جا کر ان عالم صاحب کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا تو انہوں نے اس عورت کو اندر آنے کی اِجازَت دیدی، اس عورت نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: مجھے ایک ایسا مسئلہ درپیش تھا جس کا جواب میں صرف آپ سے ہی پوچھنا چاہتی تھی۔ لِہٰذا انہوں نے پوچھا: وہ مسئلہ کیا ہے؟ تو وہ بولی: میں نے اپنی پڑوسن سے کچھ زیور ادھار لیا تھا، وہ کافی عرصے سے میرے پاس ہے، میں خود بھی اسے پہنتی رہی اور دوسروں کو بھی استعمال کے لئے دیدیتی، اب میری پڑوسن مجھ سے وہ زیور واپس مانگ رہی ہے تو کیا میں اسے واپس دیدوں؟ وہ عالم بولے: بخدا! ضرور واپس دیدو۔ وہ پھر بولی: مگر وہ زیور ایک طویل عرصے سے میرے پاس ہے۔تو وہ بولے: پھر تو تجھے ضرور ان کی امانت انہیں واپس لوٹا دینا چاہئے کہ جب انہوں نے ایک عرصہ تک تجھے ادھار دے رکھی تھی۔ اب وہ عورت بولی: اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے! تو پھر آپ اس بات پر افسردہ کیوں ہیں جو چیز اللہ پاک نے آپ کو عاریتاً دیکر واپس لے لی ہے، حالانکہ وہ یہ حق رکھتا ہے کہ اپنی چیز واپس لے لے۔ چنانچہ اس عورت کی نصیحت بھری بات کر ان کی آنکھوں پر پڑا ہوا پردہ ہٹ گیا اور ہاتھوں ہاتھ ان کے دل کی دنیا بھی بدل گئی اور وہ پہلے کی طرح ہر خاص و عام کو اپنے علم کی دولت سے مالا مال کرنے لگے۔
اللہ پاک کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے کہ کس طرح ایک عالم اپنی زوجہ کی دنیا سے رخصتی کے سَبَب تاریک الدنیا ہو گئے مگر اللہ پاک نے ان پر کرم فرمایا اور ایک عورت نے کس طرح انہیں صَبْر کی تلقین کی۔ بلاشبہ بعض اَوقات بعض افراد کے فوت ہو جانے پر صبر کا دامن تھامے رہنا انتہائی مشکل کام ہے، مگر یاد رکھئے یہ ناممکن نہیں جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا انس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فرماتے ہیں: حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کے بطن سے حضرت سَیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کا ایک بچہ فوت ہو گیا۔حضرت اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے اپنے گھر والوں سے کہا:حضرت سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو ان کے بچّے کے اِنْتِقَال کی خَبَر نہ دینا،میں خود انہیں بتاؤں گی۔جب حضرت سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ آئے تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے انہیں شام کا کھانا پیش کیا،انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا،پھر حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے پہلے سے زِیادَہ اچھا بناؤ سنگھار کیا۔حضرت سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے ان سے ازدواجی عَمَل کیا جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے دیکھا کہ وہ سیر ہو گئے اور اپنی فطری خواہش بھی پوری کر لی ہے تو بولیں:اے ابو طلحہ! یہ بتائیں کہ اگر کچھ لوگ کسی کو عارِیَت کے طور پر کوئی چیز دیں پھر وہ اپنی چیز واپس لے لیں تو کیا وہ ان کو مَنْع کر سکتے ہیں؟حضرت سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے کہا:نہیں۔حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے کہا: تو پھر آپ اپنے بیٹے کے مُتَعَلِّق یہی گمان کر لیں۔ (کہ وہ ہمارے پاس اللہ پاک کی اَمَانَت تھا جو اس نے واپس لے لی یعنی اس کا اِنْتِقَال ہو چکا ہے۔)
اِمام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اس رِوایَت کے راوی کا کہنا ہے: اس واقعہ کے بعد میں نے ان کی اولاد میں 7 لڑکے مَسْجِد میں قرآنِ پاک کی تِلاوَت کرتے دیکھے۔ شیخ الحدیث حضرت علّامہ عبدا لمصطفٰے اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ اس رِوایَت کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:اسی رات میں حضرت بی بی اُمِّ سُلَیم(رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا) کے حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا اور ان عبداللہ کے بیٹوں میں بڑے بڑے علما پیدا ہوئے۔
مُشکِلوں میں دے صبر کی توفیق اپنے غم میں فَقَط گھلا یارب
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اللہ پاک اور اس کے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا سے دوری بھی صبر کے حُصُول میں ایک بڑی رُکاوَٹ ہے، کیونکہ جو کام اللہ پاک اور اسکے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کے لئے کیا جائے تو اس پر اجر و ثواب کی اُمِّید بھی ان سے ہی رکھنی چاہئے، مگر افسوس! آج کے پر فتن دور میں ہماری اَکْثَرِیَّت کی حَالَت یہ ہے کہ ہم نیکی کا کام تو کرتی ہیں مگر مَقْصُود رضائے خداوندی کا حُصُول نہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ ہماری تعریف کریں اور ہمیں نیکو کار سمجھیں، حالانکہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُما فر ماتے ہیں کہ اللہ پاک نے سب سے پہلی چیز لَوحِ مَحْفُوظ میں یہ لکھی کہ میں اللہ پاک ہوں میرے سوا کوئی عِبَادَت کا مُسْتَحِق نہیں!محمد (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)میرے رسول ہیں۔جس نے میرے فیصلے کو تسلیم کرلیا اور میری نازِل کی ہوئی مُصِیْبَت پر صَبْر کیا اور میری نعمتوں کا شُکْر ادا کیا تو میں نے اس کو صِدّیق لکھا ہے اور اس کو صِدِّیْقِین کے ساتھ اٹھا ؤں گا اور جس نے میرے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور میری نازِل کی ہوئی مُصِیْبَت پر صَبْر نہیں کیا اور میری نعمتوں کا شُکْر ادا نہیں کیا وہ میرے سوا جسے چاہے اپنا مَعْبُود بنالے۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ہماری بزرگ خواتین کی سیرت کے مُطَالَعَہ سے مَعْلُوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اللہ پاک اور اس کے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کو پیشِ نَظَر رکھا اور اس مُعَامَلے میں خواہ کتنی بھی بڑی مُصِیْبَت کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے ہِمَّت ہاری نہ اس کی پروا کی۔
غزوۂ اُحُد میں جب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا حضرتِ سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو شہید کیا گیا اور کافروں نے اِن کے ناک، کان کاٹ کر اور آنکھیں نَکال کر شِکَمْ چاک کر دیا تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا زبیررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے فرمایا: میری پھوپھی حضرت صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کو میرے چچا کی لاش پر مت آنے دینا ورنہ وہ اپنے بھائی کی لاش کا یہ حال دیکھ کر رنج و غم میں ڈوب جائیں گی،جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اپنے بھائی کو دیکھنے آئیں، تو حضرتِ سیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے کہا:امی جان!رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم آپ کو واپس جانے کا فرما رہے ہیں۔آپ نے کہا کہ مجھے خَبَر ملی ہے کہ میرے بھائی کا مُثْلَہ کیا (یعنی کان اور ناک کو کاٹ دیا) گیا ہے۔یہ اللہ پاک کے راستے میں ہوا ہے ہمیں اس سے راضی رہنا چاہے۔ میں ضرور ضرور اس پر صَبْر کروں گی اِنْ شَآءَ اللہ۔ حضرت سَیِّدُنا زبیر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خَبَر دی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ان کو جانے دو حضرت سَیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ان کے پاس آئیں اور مَغْفِرَت کی دُعا کی۔
حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ ایک انصاری صحابیہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کے باپ، بھائی اور شوہر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ غزوہ اُحُد میں شریک ہوئے۔جب اِنہیں اُن کی شَہادَت کے بارے میں بتایا گیا تو اِنہوں نے پوچھا: رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں؟اِن سے کہا گیا کہ اے اُمِّ فلاں!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ خَیْرِیَّت سے ہیں جیسا کہ آپ پسند کرتی ہیں۔ اِس انصاری صحابیہ نے کہا:مجھے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کروا دو۔حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے فرمایا: صحابیہ کی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف رَہنمائی کی گئی یہاں تک کہ انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیَارَت کی اور کہا:کُلُّ مُصِیْبة بَعْدَكَ جَلَلْ یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہوتے ہوئے ہر مُصِیْبت ہیچ ہے۔
بڑھ کر اُس نے رُخِ اَنْوَر کو جو دیکھا تو کہا!
تو سَلامَت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رَنْج و اَلَم
میں بھی اور باپ بھی شوہَر بھی بَرادَر بھی فِدا
اے شہہ دیں!تِرے ہوتے کیا چیز ہیں ہم
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!آپ نے اِس انصاری صحابیہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا صَبْر مُلاحَظَہ کیا۔ اللہ اکبر!ایسی شیر دل اور بہادر صحابیہ کے صَبْر کا کیا کہنا ؟شوہر،باپ،بھائی،تینوں کے شہید ہونے سے دل پر صدمات کے تین تین پہاڑ گر پڑے لیکن صَبْر و رضا کی پیکر اس نیک سیرت صحابیہ کی کیسی مَدَنی سوچ تھی کہ زبان پر حَرْف شِکایَت لانا تو دَرْکِنار چہرے پر غم کے اثرات بھی نہ تھے۔اس لئے جب ہمارا بھی کوئی پیارا اِنْتِقَال کر جائے تو ہمیں بھی جَزَع فَزَع کرنے،گال پیٹنے،شِکوَہ شِکایَت کرنے اور غم کا اِظْہَار کرنے کے بجائے اُخْرَوِی اِنْعَامَات کو پیش نَظَر رکھتے ہوئے صَبْر کا دامَن تھامے اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا چاہئے اور دیگر گھر والوں کو بھی صَبْر کی ترغیب دِلانی چاہئے۔آئیے! اب ایک ایسی حِکَایَت مُلَاحَظہ کرتی ہیں جس میں ایک صحابیہ نے محض اس لئے اپنے بچوں کی موت کی خبر کو چھپا لیا کہ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ ان کے گھر تشریف لائے ہوئے سرورِ کون و مکان صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پریشان ہوں۔
مشہور عاشِقِ رسول حضرت عَلاَّمہ عبد الرحمٰن جامی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادَت مُبارَکہ تھی کہ اگر کوئی دَعْوَت پکاتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَدّ نہ فرماتے۔ ایک دن آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرت جابِر نے دَعْوَت دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: فلاں دن آنا،جب مُقَرَّرہ دن آیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ہی حضرت جابِر کے گھر تشریف لے گئے، انہوں نے سرکارِ والا تبار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے گھر دیکھا تو بہت مسرور ہوئے اور خوشی کے عالم میں مشک آمیز پانی کا چھڑکاؤ کیا اور سرکارِ ذی وقار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اندر تشریف لانے کے لئے عَرْض کی، اس کے بعد حضرت جابِر نے ایک بکری ذَبْح کی اور اسے پکانے کی ترکیب کرنے لگے، جب آپ چلے گئے تو آپ کے دونوں بچّے چھری لے کر چھت پر جاپہنچے،بڑے نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا:آؤ میں بھی تمہارے ساتھ ایسا کروں جیساکہ ہمارے والِد صاحِب نے اس بکری کے ساتھ کیا ہے۔ چُنَانْچِہ بڑے نے چھوٹے کو باندھا اور حَلَقْ پر چھری چلا دی اور سر جُدا کرکے ہاتھوں میں اُٹھا لیا!جونہی ان کی امّی جان نے یہ مَنْظَر دیکھا تو اس کےپیچھے دوڑیں، وہ ڈر کر بھاگا اور چھت سے گرا اور فوت ہوگیا۔اس صابرہ خاتون نے چیخ و پکار اور کسی قِسم کا واویلا نہ کیاکہ کہیں عظیم الشان مہمان،سلطانِ دوجہان،رَحْمَتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر یشان نہ ہوجائیں، نہایت صَبْر و اِسْتِقْلَال سے دونوں کی ننھی لاشوں کو اندر لاکر ان پر کپڑا اوڑھادیا اور کسی کو خبر نہ دی یہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنا جا بِر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو بھی نہ بتایا۔ دل اگرچہ صَدْمَہ سے خون کے آنسو رو رہا تھا مگر چہرے کو تروتازہ و شگفتہ رکھا اور کھانا وغیرہ پکایا۔
سرکارنامدار،مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اورکھانا آپ کے آگے رکھا گیا۔اسی وَقْت جبرائیل امین عَلَیْہِ الصَلاَۃُ وَالسَّلاَم نے حاضِر ہوکر عَرْض کی : یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ فرماتا ہے کہ جابر سے فرمائیے، اپنے فرزندوں کو لائے تاکہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کھانا کھانے کا شَرَف حاصِل کریں۔ سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے فرمایا:اپنے فرزندوں کو لاؤ!وہ فوراً باہر آئے اور زوجہ سے پوچھا،فرزند کہاں ہیں؟اس نے کہا کہ حضور پرنور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں عَرْض کیجئے کہ وہ مَوجُود نہیں ہیں۔ سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اللہ پاک کا فرمان آیا ہے کہ ان کوجلد بلاؤ!غم کی ماری ماں اب زیادہ نہ چھپا سکی اور بولی:اے جابِر !اب میں ان کو نہیں لاسکتی۔ حضرت سَیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے اندر لے جاکر سارا ماجرا سنایا اور کپڑا اٹھا کر بچّوں کو دکھا دیا۔اس خَبَرِ اندوہناک نے انہیں بھی نڈھال کر دیا، بَہَرحَال انہوں نے بموجب حُکْمِ سرکار دونوں بچوں کی لاشوں کو لا کر حضور ِانور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں رکھ دیا۔اللہ پاک نے جبرائیل امین عَلَیْہِ الصَلاَۃُ وَالسَّلاَم کو بھیجا اور فرمایا:اے جبرائیل! میرے محبوب عَلَیْہِ الصَلاَۃُ وَالسَّلاَم سے کہو،اللہ پاک فرماتا ہے،اے پیارے حبیب! تم دُعا کرو ہم ان کو زندہ کر دیں گے۔حُضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُعا فرمائی اور اللہ پاک کے حُکْم سے دونوں بچّے اسی وَقْت زندہ ہو گئے۔
قَلْبِ مُردہ کو مرے اب تو جِلا دو آقا جام اُلفت کا مجھے اپنی پلا دو آقا
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھاآپ نے!کس طرح ایک ماں نے اپنے بچّوں کی جدائی کا غم اپنے مَن میں چھپائے رکھا اور چیخ و پکار اور کسی قسم کا واویلا کرنے کے بجائے صَبْر و اِسْتِقْلَال کا دامَن تھامے چہرے کو تروتازہ اور ہشَّاش بشَّاش رکھا تو دُکھی دلوں کے چین، سرورِ کونین صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے رب کے اِذْن سے اسی دنیا میں ان کے دکھوں کا مداوا بھی کر دیا۔
بنادو صبر و رضا کا پیکربنوں خوش اخلاق ایسا سرور رہے سدا نرم ہی طبیعت نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صبر میں رکاوٹ کا ایک سبب اس بات سے بے خبری بھی ہے کہ ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتیں کہ ہم پر آنے والی مُصِیْبَت یا بیماری وغیرہ اللہ پاک کی طرف سے آزمائش ہو سکتی ہے، کیونکہ بیماری، ناداری، غُرْبَت اور مُصِیْبَت وغیرہ سب اللہ پاک کی طرف سے آنے والی آزمائشیں ہیں جو اللہ پاک اپنی بندیوں پر بطورِ عَذاب نہیں بلکہ بطورِ آزمائش نازل فرماتا ہے۔لِہٰذا یاد رکھئے! ہر شے اور ہر نیک عَمَل اگرچہ اللہ ہی کے لیے ہے مگر اللہ پاک کسی کی اس وَقْت تک تعریف نہیں فرماتا جب تک کہ اسے آزمائش میں مُبْتَلا نہ کر دے، اگر وہ صَبْر کرے اور اس آزمائش سے صحیح سالِم نِکَل آئے تو اس کی تعریف و توصیف فرماتا ہے ورنہ اس کے جھوٹ اور دعوے کی قَلْعِی کھول دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ سے عَرْض کی گئی:سب سے اَفضل عَمَل کون سا ہے؟ اِرشَاد فرمایا:آزمائش کے وَقْت صَبْر کرنا۔ اس کے علاوہ کئی روایات بھی آزمائش پر صبر کی ترغیب دلاتی ہیں، جیسا کہ ایک رِوایَت میں ہے: بڑا ثواب بڑی مُصِیْبَت کے ساتھ ہے اور جب اللہ پاک کسی قوم سے مَحبَّت فرماتا ہے تو اسے آزمائش میں مُبْتَلا کرتا ہے، جو اس پر راضی ہو اس کے لئے اللہ پاک کی رضا اور جو ناراض ہو اس کے لئے ناراضی ہے۔ نیز ایک رِوایَت میں ہے: آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مُطابِق ہوتی ہے، اگر دین میں مَضْبُوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اس کے دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ نیز قرآنِ کریم میں بھی اِرشَاد ہوتا ہے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ(۳) (پ ۲۰، العنکبوت:۲، ۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے اور اُن کی آزمائش نہ ہو گی اور بے شک ہم نے اُن سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَعْلُوم ہوا مسلمانوں کا ان کی ایمانی قوت کے مطابق اِمْتِحَان لینا اللہ پاک کا قانون ہے ۔نیز اس سے مَعْلُوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مصلحتوں کے پیشِ نَظَر اللہ پاک کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مُبْتَلا فرماتا ہے ،لہٰذا اس کے برخلاف ہونے کی توقّع رکھنا جائز نہیں اور یاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سَخْت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں ،لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں ا ور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دِین پر اِسْتِقَامَت کے ساتھ قائم رہے، یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگوں کی طرح صبر و ہِمَّت سے کام لیں اور اپنے دین کے اَحکامات پر مضبوطی سے عَمَل کرتے رہیں ۔ اسی سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(۲۱۴) (پ ۲، البقرة: ۲۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی، پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اسکے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ایک روز نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کعبہ شریف کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حاضِرِ خِدْمَت ہو کر عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !(ہم پر مصائب کی حد ہوگئی) ،آپ اللہ پاک سے ہمارے لئے مدد کیوں طَلَب نہیں فرماتے اور اللہ پاک سے ہمارے لئے کیوں دعانہیں فرماتے؟ تاجدارِ رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: (یہ مصیبتیں صرف تم ہی برداشت نہیں کررہے ہو بلکہ) تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی شخص کے لئے گڑھا کھودا جاتا، پھراس گڑھے میں اسے کمر تک گاڑ دیتے ،پھرآری لا کر اس کے سر پر چلائی جاتی اور کاٹ کر اس کے 2 حصّے کر دئیے جاتے، بعض پر لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں جن سے ان کے گوشت اور ہڈیوں کو اکھیڑ کر رکھ دیا جاتا، اس کے باوُجُود وہ مومن اپنے دین پر ثابِت قدم رہے، اللہ پاک کی قسم!یہ دین مُکَمَّل ہو کر رہے گا،یہاں تک کہ اگر کوئی سوار صنعا سے حَضْرمَوت تک سَفَر کرے گا تو اسے اللہ پاک کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور نہ اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا خوف ہو گا،لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو۔
اللہ پاک ہمیں عافیت عطا فرمائے اور اگر مَصائب و آلام آئیں تو ان پر صبر کرنے اور دِیْنِ اسلام کے احکامات پر مضبوطی سے عَمَل پیرا ہونے کی توفیق عَطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!آئیے مُلَاحَظہ کرتی ہیں کہ ہماری بزرگ خواتین پر جب کبھی کوئی ایسی سَخْت آزمائش آئی تو ان کا طرزِ عَمَل کیا تھا؟ کیا انہوں نے جَزَع فَزَع سے کام لیا یا صبر کا دامَن تھامے رکھا؟ چُنَانْچِہ،
حضرتِ سیِّدُنا عطا بن ابی رباح رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا نے مجھ سے فرمایا:کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے عَرْض کی:کیوں نہیں۔فرمایا:یہ سیاہ رنگ کی عورت ہے۔ اس نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوکر عَرْض کی:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میں کھل جاتی ہوں(دوپٹہ وغیرہ اُتَر جاتا ہے اور خوف کرتی ہوں کہ کبھی بیہوشی میں ستر نہ کھل جائے)، لہٰذا میرے لئے دُعا فرمائیے۔ تو مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اگر تم صَبْر کرو تو تمہارے لئے جنت ہے اور اگر چاہو تو میں تمہارے لئے صِحَّت یابی کی دُعا کر دیتا ہوں ۔اس نے عَرْض کی :میں صَبْر کروں گی۔لیکن ستر نہ کھلنے کی دُعا فرما دیجئے۔ چُنَانْچِہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لئے دُعا فرمائی۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے!کیسے یہ عظیم صحابیہ بیماری پر صَبْر کرنے کو تندرستی پر ترجیح دے کر جنَّت کی حق دار بن گئیں۔ مگر افسوس! ایک ہم ہیں کہ ہلکے سے سر درد اور بخار میں گھر سر پر اٹھا لیتی ہیں، بسا اَوقات خود تو بیماری کی وجہ سے پریشان ہوتی ہی ہیں، گھر کے دیگر افراد کا سکون بھی غارت کر دیتی ہیں۔ حالانکہ ایسا کرنے سے بیماری دور نہیں ہوتی بلکہ بعض اَوقات دوسرے افراد اکتا جاتے ہیں کہ اس کی تو یہی عادت ہے اور وہ آپ کی پروا کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں یا پروا تو کرتے ہیں مگر جس قَدْر بیماری میں تَوَجُّہ دَرْکار ہوتی ہے وہ نہیں دیتے، بیماری میں بلاشبہ چڑ چڑا پن آ ہی جاتا ہے اور منہ سے اول فول باتیں نکل جاتی ہیں، مگر ہمیں ہمیشہ درج ذیل فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُطابِق اپنی بزرگ خواتین کی طرح صبر کا دامن تھامے رہنا چاہئے تا کہ بیماری پر ثواب کے ساتھ ساتھ دوسروں کو سر دردی سے بچانے کی وجہ سے مزید ثواب کی حق دار بن سکیں، وہ فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ ہیں:
حضرتِ سَیِّدَتُنا فا طمہ خُزَا عِیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا فرماتی ہیں کہ تاجدارِ رِسَالَت ، شہنشاہِ نُبوت، صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصار کی ایک عورت کی عِیادَت فرمائی اور اس سے پوچھا:کیسا مَحْسُوس کر رہی ہو؟ تو اس نے عَرْض کی:بہتر! مگر اس بُخار نے مجھے تھکا دیا ہے۔ تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:صَبْر کرو کیونکہ بُخار آدمی کے گناہوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طر ح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔
حضرتِ سَیِّدُنا جا بر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فرماتے ہیں:اللہ پاک کے مَـحْبُوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدَتُنا اُمّ سائب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کے پاس تشریف لائے تو ان سے پوچھا:تمہیں کیا ہوا؟کیوں کانپ رہی ہیں؟عرض کی:مجھے بُخار ہے،اللہ اس میں بَرَکَت نہ دے۔ تو اِرشَاد فرمایا:بُخار کو بُرا نہ کہو کیونکہ یہ آدمی کے گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُما سے مَرْوِی ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:مِعْرَاج کی رات میں نے ایک پاکیزہ خوشبو سونگھی تو میں نے کہا :اے جبرائیل!یہ خوشبو کیسی ہے ؟عَرْض کی : فِرْعَون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کرنے والی اور اس کے بچوں کی۔ میں نے کہا اس کا کیا مُعَامَلہ ہے ؟عرض کی : ایک دن یہ فِرْعَون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی اور اس کی زبان سے نکلا بِسْمِ الله۔فِرْعَون کی بیٹی نے کہا:میرا باپ؟ اس نے جواب دیا: نہیں! بلکہ اللہ پاک تو وہ ہے جو میرا،تیرا اور تیرے باپ کا بھی ربّ ہے۔فرعون کی بیٹی نے کہا:کیا میرے باپ کے عِلاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟اللہ پاک کی نیک بندی نے جواب دیا :ہاں۔ کہنے لگی:تو کیا میں اپنے باپ کو یہ بات بتا دوں؟کہا: ہاں بتادو۔ چنانچہ اس نے اپنے باپ(فرعون)کو اس کی خبر دی تو فرعون نے اس نیک بندی کو اپنے پاس بلایا۔جب یہ مومِنَہ خاتون اس کے دربار میں پہنچیں تو فرعون نے کہا:یَافُلَانَة!اَلَـكِ رَبٌّ غَیْرِیْ؟اے فلاں عورت!کیا میرے عِلاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : ہاں میرا اور تیرا رب اللہ پاک ہے ۔
فرعون اس نیک سیرت عور ت کی ایمان افروز گفتگو سن کر بہت غَضَب ناک ہوا اور تانبے کی دیگ میں تیل گرم کرنے کا حکم دیا۔جب تیل خوب کھولنے لگا تو اس کے بچوں کو اس میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ اس مومنہ خاتون کے چھوٹے بچوں کو باری باری اُبلتے ہوئے تیلمیں ڈالنا شروع کر دیا۔صابرہ عورت نے کہا:میری ایک آرزو ہے؟فِرْعَون نے کہا۔وہ کیا؟اس نے کہا:میں چاہتی ہوں کہ تم میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں ڈال کر ایک ہی جگہ ان کی تدفین کرو۔اس نے کہا:ٹھیک ہے تمہاری اس خواہش کو پورا کرنا ہمارے ذِمَّہ ہے۔ چُنَانْچِہ جب آخری دودھ پیتا بچہ رہ گیا تو گویا اس کی وجہ سے وہ مومِنَہ خاتون کچھ پیچھے ہٹیں۔اللہ پاک نے بچے کو قوّتِ گویائی (بولنے کی طَاقَت )عطا فرمائی اور اس نے پُکار کر کہا:یَا اُمَّه!اِقْتَحِمِیْ فَاِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ اے ماں!پروا نہ کر!بےشک دنیا کی تکلیف آخِرَت کے عذاب کے مُقَابَلے میں بہت آسان ہے۔ اس کے بعد اس مومنہ عورت کو بھی اس کے بچوں کے ساتھ اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا۔
ٹوٹے گو سر پہ کوہِ بَلا صَبر کر اے مُبلِّغ نہ تُو ڈگمگا صَبْر کر
لب پہ حَرفِ شِکایت نہ لا صَبر کر ہاں یِہی سُنّتِ شاہِ ابرار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے! ہم سے پہلی امتوں پر راہِ خُدا میں مصیبتوں کے کیسے کیسے پہاڑ ٹوٹے مگر قربان جائیں ان کی اِسْتِقَامَت پر !انہوں نے صبر سے کام لیا اور ہمارے لئے بھی مَشْعَلِ راہ بن گئے، آہ! ایک ہم ہیں کہ نیکی کی دعوت دیتے ہوئے راہِ خدا میں اگر کبھی تھوڑی سی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہِمَّت ہار جاتی ہیں، حالانکہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُکَمَّل زِنْدَگی ہمارے سامنے ہے،کافروں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ظلم و سِتَم کے پہاڑ توڑے، پتھر برسائے، راہ میں کانٹے بچھائے،جسمِ اَطْہر پر نجاسَتیں ڈالیں،ڈرایا،دھمکایا،بُرا بھلا کہا،قتل کی سازشیں کیں مگر کائنات کے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی کوئی ذاتی انتقامی کاروائی نہ کی، خود بھی صبر سے کام لیا اور رہتی دنیا تک اپنے ماننے والوں کو مصائب میں صبر کی تلقین اِرشَاد فرمائی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ڈھارس نشان ہے:جسے کوئی مُصِیْبَت پہنچے اسے چاہئے کہ اپنی مُصِیْبَت کے مقابلے میں میری مُصِیْبَت یاد کرے بے شک وہ سب مصیبتوں سے بڑھ کر ہے۔
ٹوٹے گو سر پہ کوہِ بَلا صَبر کر اے مُبلِّغ نہ تُو ڈگمگا صَبْر کر
لب پہ حَرفِ شِکایت نہ لا صَبر کر ہاں یِہی سُنّتِ شاہِ ابرار ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بسا اوقات زِنْدَگی میں ایسے واقعات کا بھی سامنا رہتا ہے کہ ہم جذبات سے مَغْلُوب ہو جاتی ہیں اور غیظ و غضب سے بھرپور دل چاہتا ہے کہ فوری طور پر اِنْتِقَام لیا جائے اور سامنے والے یا والی کو اپنی برتری دکھائی جائے ۔ممکن ہے اس سے ذہنی و قلبی سُکُون ملے اور مُـخْتَلِف خطرات سے نجات بھی؛ مگر اسلام نے جذبات میں آکر کسی فیصلے کی اِجازَت نہیں دی، تمام ایسے مواقع پر جہاں انسان عام طورپر بے قابو ہو جاتا ہے، شَریعَت نے اپنے آپ کو قابو میں رکھنے ، عقل وہوش سے کام لینے اور واقعات سے الگ ہوکر واقعات کے بارے میں سوچنے اور غور وفکر کرنے کی دَعْوَت دی ہے ، دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتی ہیں کہ صبر کرنے کو کہا ہے۔ یاد رکھئے! عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں:ہم اس شخص کا اِیمان کامِل نہیں سمجھتے تھے جسے راہِ خُدا میں کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس تکلیف کو برداشت کرے نہ اپنے ایمان (کی قوّت) کی بِنا پر اس پر صَبْر کرے۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَعْلُوم ہوا جن کا ایمان کامِل ہو وہ ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رہتے ہیں اور کبھی بے صبری کا مُظاہَرہ نہیں کرتے اور بلاشبہ یہ ان پر اللہ پاک کا خاص کرم بھی ہے، جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو دردا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے مروی ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ پاک نے حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے اِرشَاد فرمایا: اے عیسیٰ!میں تمہارے بعد ایسی اُمَّت پیدا کرنے والا ہوں کہ اگر انہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے گی تو اللہ پاک کی حَمد کریں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ چیز ملے گی تو ثواب طَلَب کرتے ہوئے صَبْر کریں گے۔ حالانکہ ان کے پاس عِلْم ہو گا نہ حِلْم۔عَرْض کی:الٰہی!انہیں یہ خوبی عِلْم و حِلْم کے بغیر کیونکر ملے گی؟فرمایا: میں انہیں اپنے عِلْم و حِلْم سے دوں گا۔ چُنَانْچِہ ،
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اگر زِنْدَگی میں کبھی کوئی ایسا مَوْقَع آ جائے جب آپ کا دل غم و غصے اور جذبات سے بھر جائے تو ٹھنڈے دماغ سے سوچئے اور کبھی بھی صَبْر کا دامَن ہاتھ سے نہ چھوڑئیے،آئیے صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ کی حیاتِ طیبہ سے اس حوالے سے کچھ مدنی پھول چنتی ہیں کہ انہوں نے اس مَوْقَع پر کیا کیا۔
حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ اپنی شَہادَت کے 10 دن قبل اپنی والدہ کی بیماری کی حَالَت میں ان کے پاس حاضِر ہوئے اور عَرْض کی اے امّی جان!آپ کی طبیعت کیسی ہے؟آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کی والدہ نے جواب دیا کہ ابھی میں اپنے آپ کو بیماری کی حَالَت میں پاتی ہوں،حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے کہا کہ مرنے میں عَافِـیَّت ہے بولیں:شاید تم میری موت کو پسند کرتے ہو۔لیکن جب تک دو باتوں میں سے ایک نہ ہو جائے میں موت کو پسند نہیں کروں گی،یا تو تم شہید ہو جاؤ اور میں صَبْر کروں یا دشمن کے مُقابلے میں کامیابی حاصِل کرو کہ میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔چُنانچِہ جب حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ شہید ہوگئے تو حُجَّاج نے اِن کو سولی پرلٹکا دیا،سَیِّدَتُنا اَسما رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بڑھاپے کے باوُجُود یہ مَنْظَر دیکھنے کیلئے آئیں اور جَزَع فَزَع کرنے کے بجائے حُجَّاج سے مُخاطِب ہو کر کہا:اس سَوار کیلئے ابھی وہ وَقْت نہیں آیا کہ اپنی سواری سے نیچے اترے؟تو حُجَّاج بولا: یہ منافِق تھا۔اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے فرمایا:اللہ پاک کی قسم ! وہ منافِق نہ تھا، وہ تو روزہ دار اور شب بیدار تھا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے ! حضرت سَیِّدَتُنا اسما بنت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا نے کس طرح بیٹے کی شہادت پر حُجَّاج کی بد اخلاقی کے باوُجُود صبر سے کام لیا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!جب اُمُّ الْمُومِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ طیِّبہ طاہرہ عفیفہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا پر اِفْتِرا بازی کی گئی اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی برأت کا اِعْلَان نہیں فرمایا تھا اُس وَقْت اُمُّ الْمُومِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا صَبْر قابلِ ذِکْر ہے کہ مُنافقین کا زور و شور سے اِس واقِعَہ کو بیان کرنا اور اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا خاموش رہنا آپ کے صَبْر ِ ِعظیم پر دَلَالَت کرتا ہے اور اس صَبْر عظیم پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کو اللہ پاک کی طرف سے اِنْعامِ عظیم حاصِل ہوا کہ اللہ پاک نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی عِفّتِ مُبارَکہ کے بارے میں ایک نہیں دو نہیں پوری دس آیات نازل فرمائیں اور اللہ پاک نے ایسے عَدَد کے ساتھ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی برأت نازِل فرمائی کہ جس عَدَد کے بارے میں خود اللہ پاک قرآنِ پاک میں اِرشَاد فر ما تا ہے کہ تِلْکَ عَشَرةٌ کَامِلةٌ۔کہ یہ 10 کا عَدَد کامِل ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی برأتِ کامِلہ کامِل عَدَد سے نازِل فرمائی آئیے اب اُسی واقِعَہ کو مُلاحَظَہ کرتی ہیں کہ جو واقِعَہ اِفْک کے نام سے مَعْرُوف ہے ۔