30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاضِر ہو کر اشکبار آنکھوں سے التجائیں کر رہی ہوں گی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم اپنے جگر پارے آپ کے قدموں پر نثار کرنے کیلئے لائی ہیں،آقا! ہمارے اَرمانوں کی حقیر قربانیاں قَبول فرما لیجئے، سرکار! عمر بھر کی محنت وُصُول ہو جائے گی۔اتنا کہہ کر ماں ایکبار پھر رونے لگی اور بَھرّائی ہوئی آواز میں کہا: کاش! میری گود میں بھی کوئی جوان بیٹا ہوتا اور میں بھی اپنا نذرانۂ شوق لے کر آقا کی بارگاہ میں حاضِر ہو جاتی۔ مَدَنی مُنّا ماں کو پھر روتا دیکھ کر مچل گیا اور اپنی ماں کوچُپ کرواتے ہوئے جوشِ ایمانی کے جذبے کے ساتھ کہنے لگا: میری پیاری ماں! مَت رو،مجھی کو پیش کر دینا۔ ماں بولی: بیٹا!تم ابھی کمسن ہو، میدانِ کار زار میں دشمنانِ خونخوار سے پالا پڑتا ہے، تم تلوار کی کاٹ بَرْدَاشْت نہیں کرسکو گے۔ مَدَنی مُنّے کی ضِد کے سامنے بِالآخِر ماں کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ نَمازِ فَجْر کے بعد مَسْجِدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے باہَر میدان میں مُجاہِدین کا ہُجوم ہو گیا۔ ان سے فارِغ ہو کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپَس تشریف لا ہی رہے تھے کہ ایک پردہ پوش خاتون پر نظر پڑی جو اپنے چھ۶ سالہ مَدَنی مُنّے کو لیے ایک طرف کھڑی تھی۔ شاہِ شیریں مَقا ل،صاحِبِ جُود و نَوال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت ِسیِّدُنا بِلال رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آمد کا سَبَب دَرْیَافْت کرنے کیلئے بھیجا۔ سیِّدُنا بِلال رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قریب جا کر نِگاہیں جھکائے آنے کی وجہ دَرْیَافْت کی۔ خاتون نے بَھرّائی ہوئی آواز میں جواب دیا: آج رات کے پچھلے پَہر آپ اِعْلَان کرتے ہوئے میرے غریب خانے کے قریب سے گزرے تھے، اِعْلَان سُن کر میرا دِل تڑپ اُٹھا۔ آہ! میرے گھر میں کوئی نوجوان نہیں تھا جس کا نذرانۂ شوق لے کر حاضِر ہوتی فَقَط میری گود میں یِہی ایک چھ۶ سالہ یتیم بچّہ ہے جس کے والِد گزَشْتَہ سال غَزوۂ بدر میں جامِ شَہادَت نوش کر چکے ہیں میری زِنْدَگی بھر کی پونجی یہی ایک بچّہ ہے، جسے سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر نثار کرنے کیلئے لائی ہوں۔ حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پیار سے مَدَنی مُنّے کو گود میں اُٹھا لیا اور بارگاہِ رِسَالَت میں پیش کرتے ہوئے سارا ماجرا عَرْض کیا۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مَدَنی مُنّے پر بَہُت شَفْقَت فرمائی۔ مگر کمسِنی کے سَبَب میدانِ جِہاد میں جانے کی اِجازَت نہ دی۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اِسْلَام نے عِلْم حاصِل کرنے کو ہر چیز پر ترجیح دی ہے اور اِسْلَام قطعاً یہ اِجازَت نہیں د یتا کہ کوئی بھی مسلمان خود کو عِلْم سے مَحْرُوم رکھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سا عِلْم ہے جس کا حاصِل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فَرْض قرار دیا گیا ہے اور اگر اس کے حُصُول میں چین جیسے دُور دراز ملک میں جانے کی مَشَقَّت اور تکلیف بھی اُٹھانا پڑے تو ضَرور اُٹھائے مگر عِلْم حاصِل کرے۔[2]اس ضِمْن میں شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت، بانیِ دعوتِ اِسْلَامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں: (فَرْض عِلْم سے) اسکول کالج کی دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضَروری دینی عِلْم مُراد ہے۔لہٰذا سب سے پہلے بنیادی عقائد کا سیکھنا فَرْض ہے، اس کے بعد نَماز کے فرائض و شرائط و مُفْسِدَات،پھر رَمضانُ المبارَک کی تشریف آوری پر فَرْض ہونے کی صُورَت میں روزوں کے ضَروری مَسَائِل، جس پر زکوٰۃ فَرْض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مَسائل، اسی طرح حج فَرْض ہونے کی صُورَت میں حج کے، نِکاح کرنا چاہے تو اس کے،تاجِر کو خرید و فَرَوخْت کے،نوکری کرنے والے کو نوکری کے،نوکر رکھنے والے کو اِجارے کے،و علٰی ھٰذا الْقیاس (یعنی اوراسی پر قِیاس کرتے ہوئے) ہر مسلمان عاقِل و بالِغ مَرد و عورت پر اُس کی موجودہ حَالَت کے مُطابِق مسئلے سیکھنا فَرْضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کے لئے مَسَائِلِ حَلال و حَرام بھی سیکھنا فَرْض ہے۔ نیز مَسَائِلِ قلب (باطِنی مَسَائِل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ (باطِنی مسائل) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلًا تکبُّر، ریاکاری،حَسَد وغیرہا اور ان کا علاج سیکھنا ہر مسلمان پر اَہَم فرائض سے ہے۔مُہْلِکات یعنی ہَلاکَت میں ڈالنے والی چیزوں جیسا کے جھوٹ، غیبت،چغلی، بُہْتَان وغیرہ کے بارے میں ضَروری مَعْلُومَات حاصِل کرنا بھی فَرْض ہے تاکہ ان گنا ہوں سے بچا جا سکے۔ [3]
علم سیکھنے میں آج کی عورت کا حال
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!عِلْمِ دین سیکھنا کسی خاص گروہ یا طبقے کا کام نہیں، بلکہ ہر ایک پر اپنی ضَرورت کے مُطابِق عِلْم سیکھنا فَرْض ہے۔ مگر اَفْسَوس! آج ہماری اَکْثَرِیَّت عِلْم سے دُور دِکھائی دیتی ہے۔ عرصۂ دَراز تک نَماز پڑھنے والیوں کو وُضو تک کا دُرُسْت طریقہ مَعْلُوم نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ اس کے فرائض وواجبات سے آگاہی ہو۔ کثیر اِسلامی بہنیں رمضان کے روزے، حج و زکوٰۃ کے ضَروری مَسَائِل سے ناآشنا ہیں۔ اسی طرح حَسَد، بُغْض و کینہ، تکبُّر، غیبت، چُغْلِی، بُہْتَان،شُماتَت جیسے کئی ایسے اُمُور ہیں جن کا جاننا فَرْض ہے۔ لیکن ایک تعداد ہے جنہیں ان کی تعریف تک نہیں آتی بلکہ انہیں تو یہ بھی مَعْلُوم نہیں کہ یہ وہ باتیں ہیں جن کا عِلْم حاصِل کرنا فَرْض ہے۔ لِہٰذا عِلْمِ دِین سیکھ کر ان تمام اُمُور سے بچنا بے حد ضَروری ہے، مگر اَفْسَوس صد اَفْسَوس!ہم عِلْمِ دِین سیکھنے سے دُور ہیں۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو جب بھی کوئی دینی یا دُنْیَاوِی الجھن در پیش ہوتی فوراً بارگاہِ نبوی میں خود حاضِر ہو کر یا کسی کے ذریعے اس کا حل مَعْلُوم کر لیتیں اور دینی مَسَائِل سیکھنے میں کبھی حَیا کو آڑے نہ آنے دیتیں، جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے اَنصاری خواتین کی تعریف کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع