30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں پھر بھی حُضُور بَہُت اِحْتِیاط فرماتے تھے۔[1]
صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے حُصُولِ عِلْم کی چوتھی صُورَت کچھ یوں بنی کہ مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی خِدْمَت میں اَکْثَر مَوجُود رہنے والے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ دینی اَحْکام اپنے گھر والوں بِالْخُصُوص خواتین کو بھی سکھایا کریں۔جیسا کہ گزَشْتَہ صفحات میں بیان ہو چکا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عِلْمِ دِین سیکھنے کی غَرَضْ سے آئے ہوئے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِرشَاد فرمایا: جاؤ اپنے بیوی بچوں کو دِین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عَمَل کا حُکْم دو۔[2] ایک رِوایَت میں فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کو دو۲ ایسی آیات پر خَتْم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عَرْشی خزانے سے عَطا ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں خود سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کہ یہ دونوں نَماز، قرآن اور دُعا (کا حِصّہ) ہیں۔[3]ایک رِوایَت میں اِرشَاد فرمایا: باندیوں کے لیے اچھّی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام کر کے انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے والوں کے لیے دوہرا ثواب ہے۔[4] ایک مرتبہ کسی صحابیہ[5]نے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی: اے اللہ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اپنی جان آپ کو ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ جواب کے انتظار میں کافی دیر کھڑی رہیں تو ایک صحابی اٹھے اور یوں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ کو ضَرورت نہ ہو تو ان کی مجھ سے شادی فرما دیجئے۔ دَرْیَافْت فرمایا: تمہارے پاس مہر میں دینے کے لیے کچھ ہے؟ عَرْض کی: سوائے اس تہبند کے کچھ نہیں۔ اِرشَاد فرمایا: تلاش تو کر! اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ انہوں نے جستجو کی مگر کچھ نہ پایا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: کیا تجھے قرآن آتا ہے؟ عَرْض کی: جی فلاں فلاں سورتیں آتی ہیں۔ اِرشَاد فرمایا: (ٹھیک ہے) جاؤ! میں نے تمہارا نِکاح اس سے کردیا اسے قرآن سکھاؤ[6]۔[7]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کی تعلیم و تَرْبِیَت کے لیے ہر اِعْتِبَار سے عَمَلی اَقدامات فرمائے،یہی وجہ ہے کہ دین کی تعلیمات سے کَمَا حَقُّہٗ آشنا ان صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے ایسے مردانِ حَق پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی ان اَوَّلِین درسگاہوں سے اِسْلَام کی حقانیت پر مَر مٹنے کا ایسا جذبۂ لا زوال پایا کہ اس کے ثمرات آج بھی ظاہِر ہیں۔ اِسْلَام کی یہی وہ پاکدامن بی بیاں تھیں جنہوں نے ہمیشہ کڑے وَقْت میں اِسْلَام کی ڈگمگاتی کشتی کو سہارا دینے والے بازو مہیا کئے۔ بلا شبہ اِسْلَام کے اس ہرے بھرے دَرَخْت کی جڑوں کو مَضْبُوط سے مَضْبُوط تر کرنے کی خاطِر ان پاک طینت بیبیوں نے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے جگر گوشوں کا خون دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ تاریخ کے اوراق صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے ایسے ان گنت واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں سے صِرف ایک واقعہ پیشِ خِدْمَت ہے:
رات کا پچھلاپہر تھا،سارے کا سارا مدینہ نُور میں ڈوبا ہوا تھا۔ اَہْلِ مدینہ رَحْمَت کی چادَر اَوڑھے مَحوِ خواب تھے، اتنے میں مُؤَذِّنِ رسول حضرتِ سیِّدُنا بِلال حبشی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پُر کیف صدا مدینۂ منوَّرہ کی گلیوں میں گونج اٹھی: آج نَمازِ فَجْر کے بعد مجاہِدین کی فوج ایک عظیم مُہِم پر روانہ ہورہی ہے۔ مدینۂ منوَّرہ کی مقدَّس بیبیاں اپنے شہزادوں کو جنَّت کا دولھا بنا کر فوراً دربارِ رِسَالَت میں حاضِر ہو جائیں۔
ایک بیوہ صحابیہ اپنے چھ۶ سالہ یتیم شہزادے کو پہلو میں لٹائے سو رہی تھیں۔ حضرتِ سیِّدُنا بِلال رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اِعْلَان سن کر چونک پڑیں! دِل کا زَخْم ہرا ہوگیا،یتیم بچّے کے والِدِ گرامی گُزَشتہ برس غزوۂ بدر میں شہید ہو چکے تھے۔ ایک بار پھر شَجرِ اِسْلَام کی آبیاری کیلئے خون کی ضَرورت درپیش تھی مگر ان کے پاس چھ۶ سالہ مَدَنی مُنّے کے عِلاوہ کوئی اور نہ تھا۔ سینے میں تھما ہوا طُوفان آنکھوں کے ذَرِیعے اُمنڈ آیا۔ آہوں اور سسکیوں کی آواز سے مَدَنی مُنّے کی آنکھ کُھل گئی، ماں کو روتا دیکھ کر بیقرار ہوکر کہنے لگا: ماں!کیوں رو تی ہو ؟ ماں مَدَنی مُنّے کو اپنے دل کا دَرْد کس طرح سمجھاتی! اس کے رونے کی آواز مزید تیز ہوگئی۔ ماں کی گِریہ و زاری کے تَأَثُّرسے مَدَنی مُنّا بھی رونے لگ گیا۔ ماں نے مَدَنی مُنّے کو بہلانا شروع کیا، مگر وہ ماں کا دَرْد جاننے کیلئے بَضِد تھا۔ آخِرکار ماں نے اپنے جذبات پر بکوشِش تمام قابو پاتے ہوئے کہا: بیٹا! ابھی ابھی حضرتِ سیِّدُنا بِلال رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِعْلَان کیا ہے، مجاہِدین کی فوج میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہو رہی ہے۔ آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے جاں نثار طَلَب فرمائے ہیں۔کتنی بخت بیدار ہیں وہ مائیں جو آج اپنے نوجوان شہزادوں کا نذرانہ لیے دربارِ رِسَالَت میں
[1] مِرْاٰۃ المناجیح، میت پر رونے کا باب، تیسری فصل، ۲ / ۵۱۶ ملتقطاً
[2] بخاری، کتاب الادب، باب رحمة الناس والبهائم، ص۱۴۹۹، حدیث:۶۰۰۸
[3] شعب الایمان، ۱۹-باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور والآیات، تخصیص خواتم سورة البقرة بالذكر، ۲ / ۴۶۱، حدیث:۲۴۰۳
[4] بخاری، کتاب العلم، باب تعلیم الرجل امته واھله، ص۹۹، حدیث:۹۷مفھومًا
[5] ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں: یہ صحابیہ میمونہ بنت حارث، زینب بنت خزیمہ، اُمِّ شریک بنتِ جابر یا خَولہ بنتِ حکیم میں سے کوئی ایک تھیں۔ (مرقاة، کتاب النکاح، باب الصداق، ۶ / ۳۲۶، تحت الحدیث:۳۲۰۲)
[6] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ مہر کی کوئی مِقْدَار مُقَرَّر نہیں مگر یہ غَلَط ہے، یہ حدیث اس کی تائید نہیں کرتی کیونکہ کسی امام کے نزدیک قرآن مہر نہیں بن سکتا، سب کے ہاں مہر مال ہونا چاہیے، ہاں مال کی ادنیٰ مِقْدَار میں اِخْتِلاف ہے اور یہاں قرآن پر نِکاح کیا گیا۔مَعْلُوم ہوا کہ مہر نکاح کا یہاں ذِکْر نہیں۔(مِرْاٰۃ المناجیح، مہرکا بیان، پہلی فصل۵ / ۶۷)اسی طرح بہارِ شریعت میں ہے: جو چیز مال مُتَقَوَّم نہیں وہ مَہر نہیں ہو سکتی اور مہر مثل واجب ہوگا، مثلاً مہر یہ ٹھہرا کہ شوہر عورت کو قرآنِ مجید یا عِلْمِ دین پڑھا دے گا یا حج و عمرہ کرا دے گا تو ان سب صورتوں میں مہرِ مثل واجب ہوگا۔ (بہار شریعت، مہرکا بیان، مسائل فقہیہ، ۲ / ۶۵)
[7] مشکاة المصابیح، کتاب النکاح، باب الصداق، الفصل الاول، ۱ / ۵۸۷، حدیث:۳۲۰۲ ملتقطًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع