30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی میل کو دور کرتی ہے۔ [1]
(2) …حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے شوہر حضرت سَیِّدُنا ابو سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کے بعد سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَعْزِیَت کیلئے آپ کے پاس تشریف لائے تو اُس وَقْت آپ نے اپنے چہرے پرمُصَبَّر (ایلوا) کا لیپ کیا ہوا تھا، سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ دیکھ کر دَرْیَافْت فرمایا: اُمِّ سَلَمَہ یہ کیا ہے؟ تو گویا آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِدَّت میں چونکہ خوشبو لگانا مَنْع ہے اور ایلوے میں خوشبو نہیں ہوتی، اس وجہ سے میں نے اس کا لیپ کرلیا۔اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشَاد فرمایا: اس سے چہرے میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے، اگر لگانا ہی ہے تو رات میں لگا لیا کرو اور دن میں صاف کر دیا کرو۔ (یعنی عِدَّت میں صِرف خوشبو ہی مَـمْنُوع نہیں بلکہ زِیْنَت بھی مَـمْنُوع ہے، ایلوا خوشبودار تو نہیں مگر چہرے کا رنگ نِکھار دیتا ہے اسے رنگین بھی کردیتا ہے،لہٰذا زِیْنَت ہونے کی وجہ سے اس کا لیپ مَـمْنُوع ہے، اگر لیپ کی ضَرورت ہی ہو تو رات میں لگا لیا کرو کہ وہ وَقْت زِیْنَت کا نہیں اور دن میں دھو ڈالا کرو۔) پھر اِرشَاد فرمایا: خوشبو اور مہندی سے بھی بال نہ سنوارو۔ (یعنی زمانۂ عِدَّت میں خوشبودار تیل بدن کے کسی حِصّہ خصوصًا سر میں اِسْتِعمال نہ کرو اور ہاتھ پاؤں اور سر میں مہندی نہ لگاؤ کہ مہندی میں بھینی خوشبو بھی ہے رَنگت بھی۔) عَرْض کی: کنگھا کرنے کے لیے کیا چیز سر پر لگاؤں؟ (یعنی عورت کو سر دھونے کنگھی کرنے کی ضَرورت ہوتی ہے جب یہ چیزیں مَـمْنُوع ہوگئیں تو یہ ضَرورت کیسے پوری کروں؟ ) فرمایا: بیری کے پتّے سر پر تھوپ لیا کرو پھر کنگھا کرو۔[2]
(3) …سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسا اَوقات حضرت سَیِّدَتُنا شفا بنت عبداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر قیلولہ فرمایا کرتے تھے، چُنَانْچِہ انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے ایک بِسْتَر اور چادَر کو مَخْصُوص کر رکھا تھا کہ جب کبھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوپہر میں ان کے گھر قیلولہ فرماتے تو یہی بِسْتَر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے بچھایا کرتیں۔ یہ بستر ہمیشہ آپ کے پاس رہا یہاں تک کہ جب مَروان بن حکم کا دور آیا تو اس نے لے لیا۔[3]
(4) …فتح مکہ کے دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سگی بہن حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مکان پر غسل فرمایا،پھر نَمازِ چاشت ادا فرمائی۔[4]تو اس کی تفصیلات اسی طرح ایک مرتبہ ان کے ہاں تشریف لائے تو دَرْیَافْت فرمایا: کچھ (کھانےکو) ہے؟ عَرْض کی: سوکھی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔ اِرشَاد فرمایا: لے آؤ! جس گھر میں سرکہ ہے، اس گھر والے سالَن کے مُحتَاج نہیں۔[5]
(5) …حضرت سَیِّدُنا حمزہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا خولہ بنت قیس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں تشریف لائےتو میں نے کھانا تیّار کیا،تَناوُل فرمانے کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: کیا میں گناہوں کو مِٹانے والی چیز کی طرف تمہاری رَہْنُمائی نہ کروں؟ عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِرشَاد فرمائیے۔فرمایا: مشقتوں کے باوُجُود پورا وُضو کرنا (یعنی سردی یا بیماری وغیرہ کی حالت میں جب وضو مُکَمَّل کرنا بھاری ہو تب مُکَمَّل کرنا[6]) ،مَسْجِد میں کَثْرَت سے جانا، ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا اِنتِظار کرنا گناہوں کو مِٹاتا ہے۔[7]
حُصُولِ عِلْم کی اس تیسری صُورَت سے مُراد یہ ہے کہ اُسْتَاذ شاگرد کو اپنے پاس بلائے نہ اس کے ہاں جائے، بلکہ کسی خاص جگہ کا تَعَیُّن کر کے وہاں عِلْم کی مَـحْفِل سجائے۔ اس اِعْتِبَار سے بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام فرمایا۔ جیسا کہ اِبْتِدَا میں بیان ہو چکا ہے کہ ایک صحابیہ نے بارگاہِ نبوّت میں حاضِر ہو کر جب یہ عَرْض کی کہ ہم کو مَردوں کی طرح حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں حاضِری کا اتنا مَوْقَع نہیں ملتا،لہٰذا ایک دِن ہم کوبھی عَطا فرمائیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں مَخْصُوص جگہ پر مَخْصُوص دن جَمْع ہونے کا حُکْم اِرشَاد فرمایا۔[8]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے مراٰۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: تبلیغ وغیرہ کے لیے دِن مُقَرَّر کرنا بِالْکُل جائز بلکہ سنّت ہے۔آج مدرسوں میں تعلیم،تعطیل،اِمْتِحَان کے لیے دن مُقَرَّر ہوتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ اسی طرح مِیلاد شریف،گیارھویں شریف،عُرْسِ بزرگان کے لیے دن مُقَرَّر کرنا جائز ہے کہ ان سب میں دین کی تبلیغ ہوتی ہے اور تبلیغ کیلئے دن کا تَعَیُّن دُرُسْت ہے۔حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کسی عورت پر پردہ فَرْض نہ تھا کہ حُضُور اُمَّت کیلئے مِثْلِ والِد کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع