30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناپاکی کی حَالَت میں بھی آنے کی تاکید فرمائی، یہی نہیں بلکہ اوڑھنی کے نہ ہونے پر بھی انہیں مَعْذُور نہ جانا اور حاضِری کی سَخْت تاکید فرمائی۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم نو عمر لڑکیوں، حیض والیوں اور پردے والیوں کو حُکْم دیا کہ عیدَین پر (نَماز کے لیے) گھر سے نکلیں مگر حیض والیاں نَماز میں شامِل نہ ہوں،بلکہ بھلائی کے کاموں اور مسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں۔ میں نے عَرْض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے بعض کے پاس تو جِلْبَاب (برقع یا بڑی چادر) نہیں ۔تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی جِلْبَاب (بڑی چادر کا کچھ حِصّہ) اوڑھا لے۔[1]
حج اور عمرہ کے مَوْقَع پر بھی صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّبارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر رہیں اور یوں حج وغیرہ کے مُتَعَلِّق بھی بَہُت سے اَہَم اور بُنْیَادِی مَسَائِل ہم تک انہی کے ذریعے پہنچے۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا عورتوں پر بھی جِہاد فَرْض ہے؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشَاد فرمایا: ہاں!مگر ان پر جو جِہاد فَرْض ہے اس میں قِتال نہیں اور وہ حج و عمرہ ہے۔[2]اسی طرح صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے بعض صورتوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بات کی صَراحَت بھی حاصِل کر لی کہ مَردوں کی طرح وہ بھی نیکی و خیر کے بعض کام کر سکتی ہیں مَثَلًا مَعْذُور[3] اور فوت شدہ[4] کی طرف سے وہ بھی حج ادا کر سکتی ہیں۔
اَلْغَرَضْ زِنْدَگی کے کئی شعبوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خواتین کو شِرْکَت کے مَوَاقِع فَرَاہَم کیے اور ان کی نہ صِرف حَوْصَلہ اَفزائی فرمائی، بلکہ عِبادات سے لے کر سماجی اور مُعَاشَرْتی تمام مَسَائِل و مَراحِل میں ان کی خصوصی تَرْبِیَت کا اِہتِمام بھی فرمایا، یہاں تک کہ دورِ نبوی میں چند مَوَاقِع ایسے بھی آئے جب صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی عِلْمی فراست کو ہر ایک نے تسلیم کیا۔ چُنَانْچِہ مَرْوِی ہے کہ حَجَّةُ الْوَدَاع کے مَوْقَع پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس مسئلہ میں تشویش کا شِکار ہو گئے کہ عَرَفہ (یعنی نو ذو الحجۃ الحرام) کے دن روزہ رکھا جائے گا یا نہیں؟ تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ فَضْل بِنْتِ حارِث رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس مَوْقَع پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس اِخْتِلاف کو کچھ یوں دُور فرمایا کہ دودھ کا ایک پیالہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ اَقْدَس میں بھیجا جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے ہی نوش فرما لیا۔[5] اور یوں صحابہ کرام کی تشویش دور ہو گئی۔ اسی طرح ایک دن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صَحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سوال کیا: عورت کیلئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ تو کسی صحابی کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سیدہ خاتونِ جنّت حضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس آئے اور ان سے اس سوال کا جواب پوچھا تو انہوں نے کچھ یوں جواب اِرشَاد فرمایا: عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ نہ وہ کسی مَرد کو دیکھے اور نہ کوئی مَرد اسے دیکھے۔ لِہٰذا حضرت سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بارگاہِ رِسَالَت میں جب یہ جواب عَرْض کیا تو سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا: (اے علی!) یہ جواب تمہیں کس نے بتایا؟ عَرْض کی: آپ کی شہزادی فاطمہ (رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) نے۔ تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: فاطمہ نے سچ کہا ہے، فاطمہ تو میرے بَدَن کا ٹکڑا ہے۔ [6]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حُصُولِ عِلْم کی دوسری صُورَت سے مُراد یہ ہے کہ اُسْتَاذ خود چل کر شاگرد کے ہاں جائے اور اسے عِلْم کی دولت سے مالا مال کرے۔ جب ہم اس تَناظُر میں مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حَیاتِ طیبہ پر نَظَر ڈالتے ہیں تو ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بَہُت سی صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے گھروں میں بھی تشریف لے جایا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان خاص مَوَاقِع کی تفصیلات خاص اسی گھر کی میزبان خواتین سے آج ہم تک پہنچی ہیں۔ ذیل میں اس کی پانچ۵ مثالیں پیشِ خِدْمَت ہیں:
(1) …ایک مرتبہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سائب یا اُمِّ مسیّب کے ہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ آپ پر کپکپی طاری ہے۔حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا: اے اُمِّ سائب یا اُمِّ مسیّب! کیوں کپکپا رہی ہو؟ عَرْض کی: بُخار کی وجہ سے۔ پھر فوراً کہنے لگیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں بَرَکَت نہ عَطا فرمائے تو ان کے اس جملے پر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: بُخار کو بُرا مت کہو! یہ تو ابنِ آدم کی خطاؤں کو یوں دُور کرتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع