دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat Aur Shoq e Ilm e Deen | صحابیات اور شوق علم دین

book_icon
صحابیات اور شوق علم دین

وارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ عَلَیْہِمُ السَّلَام  تو صِرف عِلْم کا وارِث بناتے ہیں، تو جس نے اسے حاصِل کرلیا اس نے بڑا حِصّہ پالیا۔[1]جبکہ عُلَما کے عِلْمِ نبوَّت کے وَارِث ہونے کی وَضَاحَت قرآنِ کریم میں یوں فرمائی گئی ہے:  

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ- (پ۲۲، فاطر: ۳۲)       

ترجمۂ کنز الایمان: پھر ہم نے کِتاب کا وارِث کیااپنے چُنے ہوئے بندوں کو۔

ان آیاتِ کریمہ کی تشریح میں عِلْم کی اَہَمِیَّت کے اِظْہَار اور ایک مسلمان کو سچا اور پختہ مسلمان بنانے کے لئے رسولِ پاک عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:  طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَةٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔[2] عِلْم حاصِل کرنا ہر مسلمان  (مَرد اور عورت)  پر فَرْضِ عین ہے۔ ایک بار اِرشَاد فرمایا:  اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّیْنِ۔[3] عِلْم حاصِل کرو چاہے چین سے ہو۔جبکہ ایک قول میں ہے: اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلَی اللَّحْدِ[4] عِلْم حاصِل کرو پیدائش سے لے کر قَبْر میں جانے تک۔

تعلیم نسواں کیوں ضروری ہے؟  

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! یہ ایک مُسَلَّمَہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم یا مِلّت کو اس کی آئندہ نسلوں کی مذہبی و ثقافتی تَرْبِیَت کرنے اور اسے ایک مَخْصُوص قومی و مِلّی تَہْذِیب و تَمَدُّن اور کلچر  (Culture) سے بہرہ وَر کرنے میں اس قوم کی خواتین نے ہمیشہ بُنْیَادِی و اَساسی کِردار ادا کیا ہے۔کیونکہ ایک عورت ہر مُعَاشَرے میں بَطَورِ ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کے زِنْدَگی گزارتی ہے اور اپنی ذات سے وَابَسْتہ اَفراد پر کسی نہ کسی طرح ضَرور اَثَر انداز ہوتی ہے،[5]لِہٰذا اِسْلَام نے عورتوں کی اس بُنْیَادِی اَہَمِیَّت کے پیشِ نَظَر اس کی ہر حَیْثِـیَّت کے مُطابِق اس کے حُقُوق و فَرَائِض کا نہ صِرف تَعَیُّن کیا بلکہ اسے مُعَاشَرے کا ایک اَہَم اور مُفِید فرد بنانے کے لیے اس کی تعلیم و تَرْبِیَت پر بھی خُصُوصِی تَوَجُّہ دی۔ جیسا کہ ذیل میں مَوجُود فرامینِ مصطفےٰ سے ظاہِر ہے۔

علم سیکھو کے آٹھ حروف کی نسبت سے اسلامی بہنوں کی تعلیم و تربیت پر مبنی  (8) فرامینِ مصطفٰے

مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودَات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْلَامی بہنوں کی تعلیم وتَرْبِیَت کے حوالے سے جو مُـخْتَلِف مَوَاقِع پر فرامین اِرشَاد فرمائے، ان میں سے آٹھ۸ پیشِ خِدْمَت ہیں:

 (1) عورتوں کو چرخہ کاتنا سکھاؤ اور انہیں سورۂ نُور کی تعلیم دو۔ [6]

 (2) عِلْمِ دِین سیکھنے کی غَرَضْ سے آئے ہوئے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِرشَاد فرمایا:  جاؤ اپنے بیوی بچوں کو دِین کی باتیں سکھاؤ اور ان پر عَمَل کا حُکْم دو۔[7]

 (3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کو دو۲ ایسی آیات پر خَتْم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عَرْشی خزانے سے عَطا ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں خود سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کہ یہ دونوں نَماز، قرآن اور دُعا  (کا حِصّہ)  ہیں۔[8]

(4) باندیوں کے لیے اچھّی تعلیم و تَرْبِیَت کا اِہتِمام کر کے انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے شادی کرنے والوں کو دوہرے ثواب کا مُژْدَہ سنایا۔[9] اس رِوایَت کی شَرْح میں حضرت علّامہ مولانا بَدْرُ الدِّین عینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی تحریر فرماتے ہیں:  اچھّی تَرْبِیَت کرنے اور عِلْمِ دین سکھانے کا حُکْم صِرف باندی کے لیے خاص نہیں بلکہ اس حُکْم میں سب شامِل ہیں۔[10]

 (5)  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدَتُنا شِفا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے اِرشَاد فرمایاکہ وہ اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نملہ  (چیونٹی)  کا دم کیوں نہیں سکھاتی جیسے انہیں لکھنا سکھایا ہے۔[11] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن لفظِ نملہ کے معنیٰ کی وَضَاحَت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نملہ باریک دانے



[1]         ترمذی،  ابواب العلم،  باب ماجاء فی فضل الفقه...الخ، ص۶۳۱،  حدیث:۲۶۸۲

[2]         ابن ماجه،  المقدمة،  باب فضل العلماء...الخ، ص۴۹،  حدیث:۲۲۴

[3]         جامع صغیر،  حرف الهمزة،  ص ۷۲،  حدیث:۱۱۱۰، ۱۱۱۱

[4]         روح البیان، پ۱۵، الکھف، تحت الآیة:۶۶، ۵ / ۲۷۵

[5]        اس کی مثالیں دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِشَاعتی اِدارے مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کی مَطْبُوعَہ 144 صفحات پر مُشْتَمِل کتاب صحابیات اور نصیحتوں کے مدنی پھول میں مُلَاحَظہ کی جا سکتی ہیں۔

[6]        شعب الایمان،  ۱۹-باب فی تعظیم القرآن،  ذکر سورة الحج و سورة النور،  ۲ / ۴۷۷،  حدیث:۲۴۵۳

[7]         بخاری،  کتاب الادب،  باب رحمة الناس والبهائم،  ص۱۴۹۹،  حدیث:۶۰۰۸

[8]        شعب الایمان،  ۱۹-

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن