دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat Aur Shoq e Ilm e Deen | صحابیات اور شوق علم دین

book_icon
صحابیات اور شوق علم دین

بچے کی اَوَّلِین درسگاہ ہے۔ حالانکہ قَبْل از اِسْلَام عورت کیا حَیْثِـیَّت رکھتی تھی، اس کی چند جھلکیاں مُلَاحَظہ فرمائیے:

عورت کی زبوں حالی

اِسْلَام سے قَبْل عورت ظُلْم و سِتَم کا شِکار تھی،اس کی کسی حَیْثِـیَّت کا کوئی لِـحَاظ نہ تھا، ماں ہو یا بیٹی، بہن ہو یا بیوی سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا۔ اس کی وَقْعَت اس کھلونے کی تھی جو مَردوں کی تسکینِ جان کا باعِث تھا، عربوں کے ہاں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تو برصغیر میں ہندوؤں کے ہاں بیوہ کو مَرد کی چِتا  (لکڑیوں کا وہ ڈھیر جس پر ہِندو مُردے کو جلاتے ہیں) میں زندہ ڈال دیا جاتا۔دیگر اَقوامِ عالَم میں بھی اسے پاؤں کی جوتی سے زیادہ اَہَمِیَّت حاصِل نہ تھی۔ بلکہ بعض اَوقات تو بطورِ مال مویشی اس کی خرید و فَرَوخْت کو بھی عیب نہ جانا جاتا، نان نفقہ کے عِوَض اس سے غلاموں جیسا سُلُوک کیا جاتا۔ یہ صِنْفِ نازُک تھی تو مَرد کی طرح ذی شُعُور مگر اسکے ساتھ برتاؤ انتہائی نازیبا ہوتا،اسے تمام فَسادات کی جَڑ اور اِنسان کی بدبختیوں کا سَر چشمہ گردانا جاتا۔ چوٹی کے نَامْوَر فلسفی اس کے اِنسان ہونے کو ہی مشکوک جانتے۔ ہزاروں برس سے ظُلْم و سِتَم کی ماری یہ دُکھیاری عورت ذات اپنی بے کسی و لاچاری پر روتی و بلبلاتی اور آنسو بہاتی رہی مگر اسے اپنے زخموں پر مَرْہَم رکھنے اور ظُلْم و اِسْتِبْدَاد کے پنجے سے نجات دِلانے والا کوئی مسیحا کہیں نہ ملا۔

اسلام میں عورت کامقام

آخِر کار جب رسولِ رَحْمَت،شافِعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خدا کی طرف سے دِیْنِ اِسْلَام لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قِسْمَت کا سِتارہ چمک اُٹھا اور اِسْلَام کی بَدَوْلَت ظُلْم و سِتَم کا شِکار عورتوں کا دَرَجَہ اس قَدْر بُلَند و بالا ہوا کہ عِبادات و مُعَامَلات بلکہ زِنْدَگی اور موت کے ہر مَرْحَلَے اور ہر موڑ پر عورتوں کے بھی حُقُوق مُقَرَّر کر دئیے گئے۔چُنَانْچِہ،

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَردوں کی طرح ان کے مَعَاشِی و مُعَاشَرْتی حُقُوق مُقَرَّر ہوئے تو وہ مالی حُقُوق حاصِل ہونے پر اپنے مہر کی رقم اور جائداد کی مالِک بنا دی گئیں، اَلْغَرَضْ وہ عورتیں جو مَردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مَردوں کے دِلوں کا سُکُون اور ان کے گھروں کی مالِکہ بن گئیں۔ عورتوں کو دَرَجات و مَرَاتِب کی اتنی بُلَند مَنْزِلُوں پر پہنچا دینا یہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ اِحْسَانِ عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زِنْدَگی کی آخِری سانس تک اس اِحْسَان کا شکریہ اَدا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عَظِیمُ الشَّان اِحْسَان کی شکر گزاری کے فَرْض سے سبک دوش نہیں ہو سکتیں۔[1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اسلام میں علم کی اہمیت

اِسْلَام دنیا كا وہ واحِد دین ہے جس کو یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس نے اپنے ہر ماننے والے کیلئے عِلْم حاصِل کرنا فَرْض قرار دیا،یہی وجہ ہے کہ کائناتِ عالَم کے سب سے پہلے اِنسان حضرت سَیِّدُنا آدَم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اَوّلاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عِلْم کی بدولت ہی تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی۔چُنَانْچِہ اِرشَاد ہوتاہے:

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا  (پ۱، البقرة: ۳۱)        

ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اَشیا کے نام سکھائے۔

اسی طرح سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غارِ حرا میں سب سے پہلی نازِل ہونے والی وَحِی بھی عِلْم کی اَہَمِیَّت کا بَیِّن ثُبُوت ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ (۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ (۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ (۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ (۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ (۵)

  (پ۳۰، العلق: ۱ تا۵)

ترجمۂ کنز الایمان: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا،آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،جس نے قلم سے لکھنا سکھایا،آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ان آیَاتِ مُبارَکہ میں جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رب اور خالِق ہونے کا ذِکْر ہے وہیں عُلُوم کی بعض اَہَم شاخوں یعنی عمرانیات،تخلیقات، حَیاتیات اور عِلْمِ اَخلاقیات کی طرف بھی اِشارہ ہے۔اَلْغَرَضْ ان آیاتِ کریمہ کے ہر ہر لَـفْظ سے عِلْم کی اَہَمِیَّت اُجاگَر ہو رہی ہے، نیز ان آیاتِ مُبارَکہ میں جہاں دو۲ بار عِلْم حاصِل کرنے کا حُکْم ہے وہیں اس اِحْسَان کا اِظْہَار بھی ہے کہ یہ اسی کا کَرَم ہے کہ اس نے انسان کو عِلْم عَطا فرمایا اور لکھنا بھی سکھایا۔نیز عِلْم حاصِل کرنے کا حُکْم دینے کے علاوہ قرآن نے کئی مَقامات پر عِلْم و اَہْلِ عِلْم کی عَظَمَت و فضیلت اور جَہَالَت کی سَخْت مَذمَّت بیان فرمائی۔ جیسا کہ ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:

هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-  (پ۲۳، الزمر: ۹)

ترجمۂ کنز الایمان: کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔

عُلَمائے کرام اَنۢبِیَائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وَارِث ہوتے ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: بے شک عُلَما ہی اَنۢبِیَا کے وَارِث ہیں، اَنۢبِیَاعَلَیْہِمُ السَّلَام  دِرْہَم ودینار کا



[1]         جنتی زیور،  ص۴۱تا۴۳ملتقطاً بتصرف

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن