30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: فکر نہ کر!اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّتیرا خاوند صحیح سالِم واپَس آئے گا اور تو لڑکا جنے گی۔[1]
دم کرنے و کروانے کے متعلق سوال
(1) … حضرت سَیِّدَتُنا شفا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا زمانۂ جَاھِلیَّت میں نملہ [2] کا دم کیا کرتی تھیں۔ چُنَانْچِہ جب انہوں نے بارگاہِ رِسَالَت میں اس دم کی اِجازَت حاصِل کرنے کے لیے عَرْض کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اسے خود بھی کیا کرو اور (حضرت سَیِّدَتُنا) حفصہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) کو بھی سکھا دو۔[3]
(2) …حضرت سَیِّدَتُنا اسما بنت عُمیسرَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جعفر کی اولاد کو نَظَر بَہُت جَلْدی لگ جاتی ہے۔تو کیا میں ان کودم کردوں؟ فرمایا: ہاں۔کیونکہ اگر تقدیر پر کوئی چیز سَبْقَت کرنے والی ہوتی تو وہ نَظَر ہوتی۔[4]
میت پر رونے و بَین کرنے کے متعلق سوال
(1) …حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ بنت یزید رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ اَقْدَس میں عَرْض کی: کوئی ایسا عَمَل بتائیے! جس میں آپ کی نافرمانی نہ ہو۔ اِرشَاد فرمایا: نوحہ[5] مت کرو۔اس پر میں نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں قبیلے والوں نے میرے چچا کی وفات پر نوحہ کرنے میں میری مَدَد کی تھی اب میرے لیے ان کا بدلا ادا کرنا ضَروری ہے (اب میں کیا کروں؟ ) ۔ پہلے تو حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مَنْع فرما دیا، پھر میرے اِصْرَار پر اِجازَت عَطا فرما دی۔ لیکن اس کے بعد میں نے کبھی کسی مَیَّت پر نوحہ نہ کیا۔ [6]
(1) … حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے تاجدارِ رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دَرْیَافْت کیا: ہم مرنے کے بعد ایک دوسرے سے مُلَاقَات کریں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ اِرشَاد فرمایا: رُوح پرندے کی صُورَت میں (جنتی) درختوں سے لٹکتی رہے گی اور جب قِیامَت قائم ہوگی تو ہر روح اپنے جِسْم میں داخِل ہو جائے گی۔[7] ایسی ہی ایک رِوایَت حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ قَیس اَنصاریہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے بھی مَرْوِی ہے۔[8]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے مذکورہ تمام سوالات کا جائزہ لیں تو یہ 17 موضوعات پر کل 35 سوالات بنتے ہیں۔ یاد رکھئے! یہاں صِرف نمونے کے طور پر چند سوالات پیش کیے گئے ہیں، صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے پوچھے گئے تمام سوالات کا اِحاطَہ نہیں کیا گیا۔چُنَانْچِہ اگر آپ بھی عِلْم حاصِل کرنا چاہتی ہیں تو اَہْلِ عِلْم سے سوالات پوچھا کریں کہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَروی ہے: عِلْم خزانہ ہے اور سُوال اس کی چابی ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے سُوال کیا کرو کیونکہ اس (یعنی سوال کرنے کی صُورَت) میں چار۴ اَفراد کو ثواب دیا جاتا ہے۔سُوال کرنے والے کو،جواب دینے والے کو، سننے والے اور ان سے مَحبَّت کرنے والے کو۔[9] اس کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ دعوتِ اِسْلَامی کے مہکے مہکے مدنی مَاحَول سے وَابَسْتہ ہو جائیے، یہاں آپ کو نیکیاں کرنے کا ذہن ہی نہیں ملے گا بلکہ قدم قدم پر عِلْم کے موتی چننے کو بھی ملیں گے۔اس مَدَنی ماحول کی برکتوں کے بھی کیا کہنے! اس نے ہزاروں نہیں لاکھوں لاکھ اِسْلَامی بہنوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ چُنَانْچِہ،
جَامِعَةُ الْمَدِیْنَه میں داخلہ لے لیا
بابُ المدینہ (کراچی) میں قائم جَامِعَةُ الْـمَدِیْنَه للبنات میں زیرِ تعلیم ایک اِسْلَامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے : اعلیٰ دُنْیَاوِی تعلیم حاصِل کرنے کا مجھے جُنُون کی حد تک شوق تھا۔
[1] کنزالعمال، کتاب المعیشة والعادات، التعبير، المجلد الثامن، ۱۵ / ۲۲۱، حدیث:۴۲۰۱۴
[2] نملہ باریک دانے ہوتے ہیں جو بیمار کی پسلیوں پر نمودار ہوتے ہیں جس سے مریض کو بہت سخت تکلیف ہوتی ہے اسے تمام جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوتی ہیں اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔(مِرْاٰۃ المناجیح، داؤں اور دعاؤں کا بیان، ددسری فصل، ۶ / ۲۴۲)
[3] اسد الغابه، کتاب النساء، حرف الشین، ۷۰۴۵-الشفا بنت عبد الله، ۷ / ۱۶۲مفهومًا
[4] ترمذی، کتاب الطب، باب ماجاء فی الرقیة من العین، ص۴۹۷، حدیث:۲۰۵۹
[5] نوحہ یعنی میِّت کے اَوصاف(خوبیاں)مُبالَغہ کے ساتھ (خوب بڑھا چڑھا کر) بیان کر کے آواز سے رونا جس کو بَین(بھی) کہتے ہیں بالاِجماع حَرام ہے۔یوہیں واوَیلا، وامُصیبتاہ (یعنی ہائے مصیبت) کہہ کر چلّانا۔گَرِبیان پھاڑنا، مُنہ نوچنا، بال کھولنا، سر پر خاک ڈالنا، سینہ کُوٹنا، ران پر ہاتھ مارنایہ سب جَاھِلیَّت کے کام ہیں اور حَرام۔ آواز سے رونا مَنْع ہے اور آواز بُلَند نہ ہو تو اس کی مُمانَعت نہیں، بلکہ حُضورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے (اپنے لَخْتِ جِگَر)حضرتِ ابراہیم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات پر بُکا فرمایا(یعنی آنسو بہائے)۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۴۹۶ بحوالہ بہار شريعت، سوگ اور نوحہ کا ذکر، ۱ / ۸۵۴-۸۵۵ملتقطاً)
[6] ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورة الممتحنة، ص۷۶۲، حدیث:۳۳۰۷
[7] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع