30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) … ایک مرتبہ رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمانۂ قریب میں ہونے والے فتنے کا ذِکْر کیا تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ مالِک بَہزیہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس وَقْت لوگوں میں بہترین انسان کون ہوگا؟ اِرشَاد فرمایا: جو اپنے جانوروں کے حُقُوق ادا کرے اور اپنے رب کی عِبَادَت کرے اور جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے دشمن کو ڈرائے اور دشمن اسے ڈرائیں۔[1]
(1) …ایک مرتبہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ رِعْلہ قُشَیْرِیَّہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے تاجدارِ رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں یوں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ پر سلام اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمتیں و بَرَکتیں ہوں، ہم گھروں میں رہنے والی پردہ نشین عورتیں ہیں جو جِہاد نہیں کرتیں۔لِہٰذا ہمیں ایسا عَمَل بتایئے جس سے قُرْبِ اِلٰہی نصیب ہو۔ اِرشَاد فرمایا: دن رات اللہ کا ذِکْر کرو، نظریں جھکا کر رکھو اور آوازیں پست کرو۔ دوبارہ عَرْض گزار ہوئیں: میں ایک ایسی عورت ہوں جو دوسری عورتوں کے بناؤ سنگھار کا کام کرتی ہوں اور انہیں ان کے شوہروں کے لیے زیب و زینت دیتی ہوں۔ کیا یہ گناہ کا کام ہے تاکہ اس سے باز آجاؤں؟ اِرشَاد فرمایا: اے اُمِّ رِعْلہ! جب ان کی خوبصورتی ماند پڑ جائے تو انہیں زیب وزینت سے آراستہ و پیراستہ کر دیا کرو۔[2]
(2) … ایک مرتبہ حضرت سَیِّدَتُنا اَسْما بنت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بَہُت سی عورتوں کی نمائندہ بن کربارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوئیں اور عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ تعالٰی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، ہم بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لائی ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کا عہد کیا ہے مگر صُورَتِ حال یہ ہے کہ ہم پردہ نشین بناکر گھروں میں بٹھا دی گئی ہیں اور اپنے شوہروں کی خواہشات پوری کرتی، ان کے بچوں کو گود میں لئے پھرتی، ان کے گھروں کی رکھوالی کرتی اور ان کے مالوں اور سامانوں کی حِفَاظَت کرتی ہیں،ادھر مرد حضرات جنازوں اور جہادوں میں شِرْکَت کر کے اجرِ عظیم حاصِل کرتے ہیں،تو کیا ان کے ثواب میں سے کچھ حِصّہ ہم عورتوں کو بھی ملے گا یا نہیں؟ یہ سن کر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا: دیکھو اس عورت نے اپنے دین کے بارے میں کتنا اَچھّا سوال کیا ہے! پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اے اَسْما! تم سن لو اور جا کر دیگر عورتوں سے بھی کہہ دو کہ عورتیں اگر اپنے شوہروں کی خِدْمَت گزاری کر کے ان کو خوش رکھیں اور ہمیشہ اپنے شوہروں کی خوشنودی طَلَب کرتی رہیں اور انکی فرمانبرداری کرتی رہیں تو مَردوں کے اَعمال کے برابر ہی عورتوں کو بھی ثواب ملے گا۔ یہ سنکر حضرت اَسْما بنت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا (مارے خوشی کے) نعرۂ تکبیر لگاتی ہوئی باہَر نکلیں۔[3]
(1) …حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عَجْرَد خزاعیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو کام ہم زمانۂ جَاھِلیَّت میں کرتے تھے کیا زمانۂ اسلام میں بھی کر سکتے ہیں؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا: کون سے کام؟ عَرْض کی: جیسے عقیقہ۔ اِرشَاد فرمایا: عقیقہ کرو،مگر لڑکے کی طرف سے سال بھر کی دو۲ بکریاں اور لڑکی کی طرف ایک بکری۔[4] اسی طرح حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سِباع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جب اولاد کی طرف سے عقیقہ کرنے کے مُتَعَلِّق رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عَرْض کی تو اِرشَاد فرمایا: ہاں لڑکے کی طرف سے دو۲ بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔[5]
(2) … حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کُرْز خُزاعیہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بھی بار گاہِ رِسَالَت میں عقیقہ کے مُتَعَلِّق سوال کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی اِرشَاد فرمایا: لڑکے کی طرف سےسال بھر کی دو۲ بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک۔[6]
(1) …مدینہ مُنَوَّرہ کے ایک تاجِر کی بیوی نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہو کر یوں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا شوہر مجھے اُمِّید سے چھوڑ کر تِجَارَت کے لیے گیا ہوا ہے۔میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے گھر کا ستون گر گیا ہے اور میں نے ایسا بچہ جنا ہے جس کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی بَہُت نُمایَاں ہے۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع