30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میری ماں آئی ہے اور وہ دین سے دور ہے، کیا میں اس سے صِلہ رحمی کروں؟ اِرشَاد فرمایا: ہاں اس کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آؤ[1]۔[2]
(1) … ایک مرتبہ حضرت سَیِّدَتُنا حَولاء عطارہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بارگاہِ مصطفےٰ میں اپنے شوہر کی شِکایَت کرتے ہوئے عرض کی: میں رضائے الٰہی کی خاطر ہر روز اپنے شوہر کے لیے دلہن کی طرح خوشبو لگاتی اور بناؤ سنگار کرتی ہوں،اس کے باوُجُود وہ مجھ میں رَغْبَت نہیں رکھتے، بلکہ ان کے پاس جاتی ہوں تو وہ اپنا چہرہ پھیر لیتے ہیں،اب تو مجھے یہ مَحْسُوس ہونے لگا ہے کہ وہ مجھے پسند ہی نہیں کرتے۔اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں سمجھاتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: جا کر اپنے شوہر کی اِطَاعَت کرتی رہو۔عَرْض کی: اس میں میرے لیے کیا اجر ہے؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے بتایا کہ میاں بیوی جب ایک دوسرے کے حُقُوق ادا کرتے ہیں تو بَہُت زیادہ اَجَر کے مُسْتَحِقٹھہرتے ہیں،پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حمل کی تکالیف اور وِلادَت سے دودھ چھڑانے تک کے تمام مُعَامَلات میں ملنے والے اَجَر کا بھی ذِکْر فرمایا۔[3]
(2) … حضرت سَیِّدَتُنا ہند بنت عتبہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے شوہر حضرت سَیِّدُنا ابو سفیان رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مُتَعَلِّق بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوسفیان کم خَرْچ کرنے والے آدمی ہیں اتنا خَرْچ نہیں دیتے جو مجھے اور میرے بچوں کو کافی ہو،تو کیا میں ان کی لاعلمی میں کچھ لے سکتی ہوں؟ اِرشَاد فرمایا: تم اتنا لے سکتی ہو جو دَسْتُور کے مُطابِق تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو۔[4]
(3) …جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں سے بَـیْعَت لی تو ایک عورت نے کھڑے ہو کر عَرْض کی: یانَبِیَّ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم تو اپنے باپ، دادا، اولاد اور خاوندوں پر بوجھ ہیں (یعنی یہ لوگ ہمیں ہمارے حق پورے نہیں دیتے ہم پر خَرْچ کرتے گھبراتے ہیں۔[5]) ۔ہمیں ان کے مالوں سے کس قَدْر حَلال ہے؟ اِرشَاد فرمایا: تر کھانا جسے تم کھا لو اور ہدیہ دے سکو (یعنی پکے ہوئے کھانے، تر میوے جو زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے انہیں خود بھی کھاؤ اور ہدیہ بھی دو، ہر وَقْت علیحدہ اِجازَت لینے کی ضَرورت نہیں کیونکہ ان چیزوں کے ہدیہ کی عرفًا اِجازَت ہوتی ہے[6]) ۔[7]
(4) …حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ مُنْذِر سلمیٰ بِنْتِ قَیس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: ہم عورتوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ بَـیْعَت کی کہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی اور اپنے شوہروں کو دھوکا نہیں دیں گی۔ لیکن بَـیْعَت کے بعد جب ہم واپَس آنے لگیں تو میں نے ایک عورت کو کہا: تم واپَس جاؤ اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دَرْیَافْت کرو کہ شوہر کو دھوکا دینے سے کیا مُراد ہے؟ چُنَانْچِہ اس نے بارگاہِ رسالت میں جب یہ عَرْض کی تو اِرشَاد ہوا: شوہر کا مال کسی کو تحفہ دینا دھوکا ہے۔[8]
(1) …حضرت سَیِّدَتُنا قَیْلَہ اُمِّ بنی اَنمار رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عمرہ کے مَوْقَع پر مَقامِ مروہ کے قریب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں عَرْض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں جب میں کوئی چیز خریدنے لگتی ہوں تو جتنی قیمت دینے کا اِرادہ ہوتا ہے اس سے کم بتاتی ہوں اورآہستہ آہستہ بڑھاتی جاتی ہوں یہاں تک کہ جتنے میں خریدنے کا اِرَادہ ہوتا ہے اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں اور جب کوئی چیز بیچنے لگتی ہوں تو جتنی قیمت کا اِرَادہ ہوتا ہے اس سے زِیادَہ بتاتی ہوں،پھر کم کرتے کرتے مطلوبہ قیمت پر آجاتی ہوں۔ (تو ایسا کرنا کیسا ہے؟ ) اِرشَاد فرمایا: اے قَیْلَہ! ایسا نہ کیا کر!بلکہ جب کچھ خریدنا چاہو تو مطلوبہ قیمت بتا دو،اب اس کی مرضی ہے چاہے وہ دے یا نہ دے،اسی طرح جب کوئی شے بیچو تو بھی مطلوبہ قیمت بتا دو اب خریدار کی مرضی ہے چاہے خریدے یا نہ خریدے۔[9]
[1] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: کافرومشرک ماں باپ کی بھی خِدْمَت اولاد پر لازِم ہے۔فقہا فرماتے ہیں کہ مُشرک باپ کو بت خانہ لے نہ جائے مگر جب وہاں پہنچ چکا ہو تو وہاں سے گھر لے آئے کہ لے جانے میں بت پرستی پر مدد ہے اور لے آنے میں خدمت ہے، دوسرے عزیز و قرابت داربھی اگر مشرک و کافر ہو مگر محتاج ہوں تو ان کی مالی خدمت کرے۔(مِرْاٰۃ المناجیح، بھلائی وسلوک کابیان، پہلی فصل، ۶ / ۵۱۷)
[2] مسلم، كتاب الزكاة، باب فضل النفقة...الخ، ص۳۶۱، حدیث:۵۰-(۱۰۰۳)
[3] اسد الغابه، كتا ب النساء، حرف الحاء، ۶۸۶۷-الحولاء العطارة، ۷ / ۷۷
[4] بخاری، کتاب النفقات، باب اذالم ینفق الرجل...الخ، ص۱۳۷۵، حدیث:۵۳۶۴
[5] مِرْاٰۃ المناجیح، خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات، دوسری فصل، ۳ / ۱۲۹
[6] مِرْاٰۃ المناجیح، خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات، دوسری فصل، ۳ / ۱۳۰
[7] ابو داود، کتاب الزکاة، باب المراة تتصدق...الخ، ص۲۷۵، حدیث:۱۶۸۶
[8] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع