نماز کے متعلق سوالات
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat Aur Shoq e Ilm e Deen | صحابیات اور شوق علم دین

book_icon
صحابیات اور شوق علم دین

دوں؟  اِرشَاد فرمایا:  نہیں، یہ تو ایک رَگ کا خون ہے، حَیض نہیں۔[1] جب حَیض کے دن آیا کریں تو نَماز چھوڑ دیا کرو اور جب وہ گزَر جائیں تو خون دھو کر نَماز پڑھ لیا کرو[2]۔ [3] یہی مسئلہ مسلم شریف میں اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ بِنْتِ جحش رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا[4]سے اور اُسْدُ الْغَابَہ میں حضرت سَیِّدَتُنا بادیہ بِنْتِ غَیلان رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا [5]سے بھی مَرْوِی ہے۔

نماز کے متعلق سوالات

 (1) حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ فَرْوَہ انصاریہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں:  تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا گیاکہ کونسا عَمَل اَفضل ہے؟  اِرشَاد فرمایا: اَوَّل وَقْت میں نَماز ادا کرنا۔[6]

 (2) حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی:  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول! میری ایسے عَمَل پر رہنمائی فرمائیے جس پر اللہ تعالٰی مجھے اَجَر و ثواب عَطا فرمائے؟  اِرشَادفرمایا: اے اُمِّ رافِع!جب نَماز پڑھنے کا ارادہ کرو ہو تو دس دس مرتبہ تَسْبِیْح  (سُبْحٰنَ الله) ، تَهْـلِیْل (لَا اِلٰهَ اِلَّا الله) ، تَحْمِیْد  (اَلْحَمْدُ لِلّٰه) اور تَکْبِیْـر  (اَللهُ اَكْبَر)  کہو اور دس مرتبہ اِسْتِغْـفَار کرو (یعنی اَسْتَغْفِرُ الله کہو) ،جب تم تَسْبِیْح، تَهْـلِیْل، تَحْمِیْد اور تَکْبِیْر کہو گی اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا: یہ میرے لیے ہے  اور جب اِسْتِغْفار کرو گی اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا:  میں نے تمہیں بخش دیا۔[7]

روزہ کے متعلق سوال

 (1) ایک صحابیہ نے عرض کی:  یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اپنی ماں کو ایک باندی صَدَقَہ میں دی تھی اب وہ فوت ہوگئی ہیں (اوروہ باندی بطورِ میراث مجھے مِل رہی ہے آیا اسے لوں یا نہ لوں یاکسی اور کو خیرات دیدوں[8] ) اِرشَاد فرمایا: تمہارا ثواب تمہیں مل چکا اور وراثت نے وہ باندی تمہیں واپَس لوٹا دی ہے۔ عَرْض کی: میری ماں پر ایک مہینہ کے روزے تھے کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟  فرمایا:  ہاں ان کی طرف سے روزے رکھو! [9]عَرْض کی:  انہوں نے کبھی حج بھی نہیں کیا تھاکیا میں ان کی جانِب سے حج ادا کروں؟  فرمایا:  ہاں ان کی طرف سے حج ادا کردو[10]۔[11]

عمرہ و حج کے متعلق سوالات

 (1) حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ طلیق رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عَرْض کی:  کون سی عِبَادَت حج کے برابر ہے ؟ اِرشَاد فرمایا: ماہِ رَمَضَانُ الْمُبَارَک  میں عمرہ کرنا۔[12]

 (2) قبیلہ جُهَیْنَہ کی ایک عورت نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہو کر یہ سوال کیا:  میری ماں نے یہ نَذْر مانی تھی کہ وہ حج کریں گی مگر حج کیے بغیر فوت ہوگئی ہیں، تو کیا اب میں اِن کی طرف سے حج ادا کروں؟ اِرشَاد فرمایا: ہاں! تم اس کی طرف سے حج ادا کرو، بتاؤ! اگر تمہاری ماں پر کچھ قَرْض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟  عَرْض کی:  جی ہاں۔تو اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا



[1]         یعنی رحم کے قرب کی کوئی رگ کھل گئی ہے جس سے یہ خون جاری ہوگیا ہے رحم کا خون نہیں ہے،  لِہٰذا اس کے اَحْکام حیض و نفاس کے سے نہیں۔(مِرْاٰۃ المناجیح،  مستحاضہ کا باب،  پہلی فصل،  ۱ / ۳۵۴)

[2]         یعنی اِستحاضہ کی بیماری لگنے سے پہلے تمہیں جن تاریخوں میں حیض آتا تھا وہ ہی تاریخیں اب بھی حیض کی مانو، ان میں نَماز وغیرہ چھوڑ دو اور ان تاریخوں کے بعد خون استحاضہ کاشمارکرو اور نَماز وغیرہ شروع کردو اور جس عورت کو بالِغہ ہوتے ہی اِستحاضہ شروع ہوجائے، حیض کی تاریخیں مُقَرَّر نہ ہونے پائیں وہ ہر مہینہ کے اوّل دس دن حیض شُمار کرے اور بیس دن اِستحاضہ کے کہ اسی میں اِحْتِیاط ہے۔یہاں خون دھو ڈالنے سے مُراد اگر حیض کا خون ہے تب تو دھو ڈالنے سے مُراد غسل کرنا ہے کیونکہ حیض جانے پر غسل فَرْض ہے اور اگر اِستحاضہ کا خون مُراد ہے تو مَطْلَب یہ ہے کہ اپنے بَدَن وکپڑے سے اِستحاضہ کاخون دھو کر پھر وُضُو کرکے نَماز پڑھ لیا کرو۔اس میں غسل واجِب نہیں۔ (مِرْاٰةالمناجیح،  مستحاضہ کا باب،  پہلی فصل،  ۱ / ۳۵۴)

[3]         مسلم،  کتاب الحيض،  باب المستحاضة و غسلھا وصلاتھا،  ص۱۳۶،  حدیث:۳۳۳

[4]         مسلم،  کتاب الحيض،  باب المستحاضة و غسلھا وصلاتھا،  ص۱۳۶،  حدیث:۳۳۴

[5]         اسد الغابه، كتاب النساء،  حرف الباء، ۶۷۶۲-بادیة بنت غیلان،  ۷ / ۳۳

[6]         اسد الغابه،  الكنی من النساء،  حرف الفاء، ۷۵۶۴-ام فروة الانصارية،  ۷ / ۳۶۵

[7]         عمل الیوم والیلة لابن السنی،  باب ما یقول اذا قام الی الصلاة،  ص۸۴،  حدیث:۱۰۷

[8]         مِرْاٰۃ المناجیح،  باب کون شخص صدقہ واپس نہ لے، پہلی فصل،  ۳ / ۱۳۲

[9]         پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! یاد رکھئے! روزہ خالص بدنی عبادت ہے جس میں نیابت(قائم مقامی) ناجائز ہے، رب تعالیٰ فرماتاہے:mG–¤É2sÍ-·۔ترجمۂ کنز الایمان:آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔(پ۲۷،  النجم:۳۹)اور فرماتا ہے:`¤_

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن