30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(15 )٭شادمانی و مَسَرَّت اور اطمینانِ قلب کی زِنْدَگی نصیب ہونا۔[1]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!نَفْل کا لُغَوِی معنیٰ زائد ہونا ہے اور اِصْطِلَاح میں وہ عِبَادَت ہے جو فرائض و واجبات پر زائد ہو۔اس کے کرنے پر ثواب ملتا ہے اور تَرْک پر عذاب نہیں ہوتا۔[2] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی نفلی عِبَادَت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جس عِبَادَت کا شَرِیْعَت نے مُکَلَّف نہ کیا ہو بندہ اپنی خوشی سے کرے۔[3]یعنی نَمازِ پنج گانہ میں 17 رَکْعَت فَرْض اور تین۳ رَکْعَت وِتْر واجِب کے عِلاوہ جو نَماز ادا کی جائے وہ نَفْل نَماز کہلائے گی اسی طرح اگر رَمَضَانُ الْمُبَارَک یا مَنّت کے روزوں کے عِلاوہ کسی دِن روزہ رکھا یا زکوٰۃ کے سِوا راہِ خُدا میں مال خَرْچ کیا،فریضۂ حج اَدا کرنے کے بعد دوبارہ حج کیا تو یہ تمام عِبادَات نَفْلی عِبَادَت شُمار ہوں گی۔
آئیے!اب ان مُـخْتَلِف نَفْلی عِبادتوں میں سے چند ایک کا صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکی سیرت کی روشنی میں مُـخْتَصَر جائزہ لیتی ہیں:
نَفْل نَمازیں اور صَحَابِیّات طَیِّبَات
پیاری پیاری اسلامی بہنو! صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نَفْل نَمازوں کا کس قَدْر اِہتِمام فرمایا کرتی تھیں، اس کے لیے اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا زَیْنَب بِنْتِ جَحْش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی بہن حضرت سَیِّدَتُنا حَـمْنَہ بِنْتِ جَحْش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلِّق مَرْوِی یہی رِوایَت کافی ہے کہ ایک بار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَـحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَسْجِد شریف میں تشریف لائے تو دیکھا کہ دو۲ سُتونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، اس کے مُتَعَلِّق دَرْیَافْت فرمایا تو مَعْلُوم ہوا کہ یہ رسی جناب حَـمْنَہ بِنْتِ جَحْش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے باندھ رکھی ہے، جب وہ کھڑے ہو کر نَماز پڑھتے پڑھتے تھک جاتی ہیں تو اس کا سہارا لے لیتی ہیں۔ اس پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ مَدَنی پھول اِرشَاد فرمایا کہ انہیں چاہیے کہ وہ اتنی ہی نَماز پڑھا کریں جس قَدْر طاقت رکھتی ہیں اور جب تھک جایا کریں توبیٹھ جائیں۔ [4]قرآن و حدیث میں نَفْل نَماز کی چونکہ کئی ایک صُورَتیں مَنْقُول ہیں مثلاً صلاۃُ اللیل و نَمازِ تَـھَجُّد اور اِشْراق و چاشت وغیرہ۔ لہٰذا آئیے! صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی حَیاتِ طیبہ کی روشنی میں مُلَاحَظہ کرتی ہیں کہ وہ ان نَمازوں کا کس قَدْر اِہتِمام فرمایا کرتی تھیں:
مدنی پنج سورہ میں صفحہ ۲۶۹ پر ہے: رات میں بعد نَمازِ عشا جو نَوَافِل پڑھے جائیں ان کو صَلاةُ اللَّیل کہتے ہیں اور رات کے نَوَافِل دِن کے نَوَافِل سے اَفْضَل ہیں کہ صحیح مسلم شریف میں ہے:سیِّدُ المُبَلِّغین، رَحمةٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: فرضوں کے بعد اَفْضَل نَماز رات کی نماز ہے۔[5]اللہعَزَّ وَجَلَّپارہ 21 سورة السَّجدة آیت نمبر 16 اور17 میں اِرشَاد فرماتا ہے:
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) (پ۲۱، السجدة:۱۶، ۱۷)
ترجَمۂ کنزالایمان:ان کی کروٹیں جُدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے اوراپنے ربّ کو پکارتے ہیں ڈرتے اور اُمِّید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں مَعْلُوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپارکھی ہے صِلہ ان کے کاموں کا۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! یہ آیتِ مُبارَکہ اگرچہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شان میں نازِل ہوئی مگر صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّبھی ان سے اس صَف میں پیچھے نہ تھیں۔ جیسا کہ حضرتِ علاَّمہ شیخ عبد الحق محدِّثِ دہلویعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی مَدَارِجُ النّبُوّت میں حضرتِ سیِّدُنا اِمامِ حَسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حوالے سے نَقْل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی والِدۂ ماجِدہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اس حَالَت میں بھی دیکھا ہے کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مَسْجِدِ بَیْت کے مِحْرَاب میں ساری ساری رات نَماز پڑھتی رہتیں یہاں تک کہ صُبْح طُلُوع ہو جاتی۔[6] یہی نہیں بلکہ ایک رِوایَت میں تو یہاں تک ہے کہ سیّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اور اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے شادی کے پہلے تین۳ دن اور رات اس حَالَت میں بَسَر کیے کہ دِن کے وَقْت روزہ رکھتے اور رات عِبَادَت میں گزارتے، یہاں تک کہ چوتھے روز حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ با بَرَکَت میں حاضِر ہو کر عَرْض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سلام بھیجتا ہے اور اِرشَاد فرماتا ہے کہ علی اور فاطمہ نے تین۳ دن سے نیند اور بِسْتَر کو تَرْک کر رکھا ہے، عِبَادَت اور روزوں میں مَصْرُوف ہیں،ان سے اِرشَاد فرمائیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری وجہ سے مُقَرَّب ملائکہ پر فَخْر فرما رہا ہے اور یہ کہ تم دونوں بروزِ قِیامَت گنہگاروں کی شَفَاعَت کرو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع