30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوچئے! جب دنیا کی فِکْر باعِثِ رُکاوَٹ ہے تو خود دنیا کس قَدْر رُکاوَٹ کا باعِث ہو گی۔حالانکہ یہ دنیا عِبَادَت و بَنْدَگی بجا لانے کی جگہ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم سب کو اسی مَقْصَدکے لیے پیدا فرمایا ہے، لِہٰذا ہم سب پر لازِم ہے کہ ہر اِعْتِبَار سے اس کی بَنْدَگی بجا لائیں اور اپنے ہر فِعْل کو اپنے مالِک و خالِق عَزَّ وَجَلَّ کی مَرضی کے مُطابِق سَراَنْجَام دیں، کیونکہ اگر ہم نے باوُجُودِ قُدْرَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت یا اس کی رَضا کا خَیال نہ رکھا بلکہ اپنی شَہْوَت کی پَیْرَوِی میں لگی رہیں اور اس کی عِبَادَت و بَنْدَگی سے منہ موڑا حالانکہ کوئی عُذر بھی مانِع نہ تھا تو ضَرور اپنے مالِک و مولیٰ کی طرف سے مَلامَت و عار کی سَزاوار ہوں گی۔
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
یاد رکھ ہر آن آخر موت ہے بن تو مت انجان آخر موت ہے
مرتے جاتے ہیں ہزاروں آدمی عاقل و نادان آخر موت ہے
کیا خوشی ہو دل کو چندِ زیست سے غمزدہ ہے جان آخر موت ہے
ملکِ فانی میں فنا ہر شے کو ہے سن لگا کر کان آخر موت ہے
بارہا علمیؔ تجھے سمجھا چکے مان یا مت مان آخر موت ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!اسی دنیا میں رہ کر اَچھّے اَعمال کو اپنا لیجئے تاکہ آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اچھی اور نیک خَصْلَت بندیاں بنیں اور آپ کا شُمار ان بُری اور بد خَصْلَت خادِماؤں میں نہ ہو جنہیں ڈرایا جائے تو کام کریں، نہ ڈرایا جائے تو نہ کریں۔ جیسا کہ امام ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی نے بَحْرُ الدُّمُوع میں یہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نَقْل فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی بُرے غلام کی طرح نہ بنے کہ اگر خوفزدہ ہو تو کام کرے اور بے خوف ہو تو کام نہ کرے اور نہ تم میں سے کوئی بُرے مزدور کی طرح بنے کہ اگر زیادہ اُجْرَت نہ ملے تو کام نہ کرے۔[1]
حصولِ مراتب کے لیے کیا کرنا چاہئے؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!عِبَادَت کا دَار و مَدار ان تین۳ اُمُور پر ہے کہ پہلے عِبَادَت کی توفیق نصیب ہو، تاکہ اسکی بَنْدَگی کی جاسکے، پھر اس میں جو کمی رہ جائے اسکی اِصلاح کی طرف تَوَجُّہ دی جائے اور آخر میں یہ عِبَادَت بارگاہِ خداوندی میں مَقْبول بھی ہو۔ لِہٰذا حُصُولِ مَرَاتِبِ عالیہ کے لیے کوشِش کیجئے کہ آپ کا کوئی کام نَفْس یا دنیا کے لیے نہ ہو، بلکہ آپ کا ہر کام آخِرَت کے لیے ہو، یہاں تک کہ آپ کا کھانا پینا،چلنا پھرنا،سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا سب کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو جائے اور آپ اس فرمانِ باری تعالیٰ کی مِصْدَاق بن جائیں:
اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ۸، الانعام: ۱۶۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک میری نَماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو ربّ سارے جہان کا۔
اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمارے لیے کچھ حُدُود مُقَرَّر فرما رکھی ہیں اور ہمیں ان سے تَجَاوُز کرنے سے مَنْع فرمایا ہے،لِہٰذا ہم پر لازِم ہے کہ ہم ان حُدُود کی پاسداری کریں اور انہیں اپنی رائے اور عَقْل کے ترازو میں تولیں نہ پَرکھیں،بلکہ ان کو ہر صُورَت میں قبول کر لیں خواہ ہماری عَقْل میں آئيں یا نہ آئيں،ہمارے لیے مُناسِب ہوں یا نہ ہوں، کیونکہ یہی عَبُودِیَّت و بَنْدَگی کی شان ہے۔[2]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ہمارا ہر کام سنّت کے مُطابِق ہونا چاہئے، جیسا کہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالوَالِی فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَوامِرونَواہی(یعنی نیکی کرنے اور بُرائی سے روکنے کے اَحْکَامَات) کی پَیْرَوِی کرنے کا نام اِطَاعَت و عِبَادَت ہے۔ خواہ ان کا تَعَلّق گُفْتَار سے ہو یا کِردار سے یعنی کچھ کرے یا نہ کرے، بولے یا نہ بولے یہ سب کچھ شَرِیْعَت کے مُطابِق ہونا چاہیے۔[3] مُراد یہ ہے کہ ہمارا ہر عَمَل سُنّتِ مُصطفٰے کا آئینہ دار ہونا چاہئے۔ اگر ہم کوئی کام کریں اور وہ بظاہِر ہمیں عِبَادَت مَعْلُوم ہو،مگر وہ کام سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قول و فعل کے مُطابِق نہ ہو تو یہ کام عِبَادَت شُمار نہ ہو گا ،خواہ وہ نَماز روزہ ہی کیوں نہ ہو۔
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان دیوانِ سالِک میں کیا خوب اِرشَاد فرماتے ہیں:
بَشَر وہ ہے جس کو تیری جستجو ہے وُہی لب ہے جس پر تیری گفتگو ہے
تِری یاد آبادِیِ خانۂ دل دلوں کی تَمنّا تیری آرزو ہے
اسے ایک اللہ نے ایک بنایا وہ ہر وَصْف میں لَا شَرِیْكَ لَهٗ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع