30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ہمیں یہ تو مَعْلُوم ہو چکا ہے کہ جن و اِنْس کی تخلیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاپنی عِبَادَت کے لیے فرمائی، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سی عِبَادَت ہے جو اِبتدائے زمانہ سے لے کر آج تک ہر جن و اِنْس پر لازِم ہے؟ چُنَانْچِہ اس کی وَضَاحَت کرتے ہوئے اِمام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی تفسیرِ کبیر میں فرماتے ہیں کہ جن و اِنْس کی تخلیق جس عِبَادَت کیلئے کی گئی یہ دو۲ طرح کی ہے: پہلی اُمُورِ باری تعالیٰ کی تعظیم اور دوسری مخلوقِ باری تعالیٰ پر شَفْقَت۔ اِبتدائے زمانہ سے لیکر آج تک کوئی بھی اُمَّت ان دو۲ قسم کی عِبادَتوں سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ البتہ! بعض مَخْصُوص عِبادَات ہر اُمَّت میں اپنی وَضْع و ھَیْئَت،قِلَّت و کَثْرَت، زمان و مکان اور شَرَائط و اَرکان کے اِعْتِبَار سے مُـخْتَلِف رہی ہیں۔ مگر باری تعالیٰ کی عَظَمَت کی پہچان چونکہ عَقْل سے مُمکِن نہ تھی لِہٰذا لازِم ہوا کہ ہر اُمَّت اسی طریقہ کار کی پَیْرَوِی کرے جو اس کے لیے اس کے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ نے پسند و بیان فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے نبی و رَسول کی بیان کردہ تشریحات پر بھی عَمَل کرے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں پر یہ خاص کَرَم فرمایا کہ ان میں اپنے پیغمبر و رَسُول مَبْعُوث فرمائے اور ان کی زبانِ حَق ترجمان سے عِبَادَت کی دونوں قسموں کی وَضَاحَت فرمائی۔ [1]
پیاری پیاری اسلامی بہنو! عِبَادَت اگرچہ کئی طرح کی ہوتی ہےمثلاً جانی، مالی، بدنی، وقتی وغیرہ مگر اس کی دو۲ قسمیں بُنْیَادِی ہیں۔
وہ عِبَادَت جس کا تَعَلّق براہِ راست ربّ تعالیٰ سے ہو کسی بندے سے نہ ہو۔جیسے ٭نَماز ٭روزہ ٭حج ٭زکوٰۃ ٭ جِہاد وغیرہ کہ بندہ ان کاموں سے صِرف ربّ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نِیَّت کرتا ہے بندے کی رضا کا اس میں دَخْل نہیں۔[2]
دوسری قِسْم اس عِبَادَت کی ہے جس کا تَعَلّق بندے سے بھی ہے اور ربّ تعالیٰ سے بھی۔یعنی جن بندوں کی اِطَاعَت کا ربّ تعالیٰ نے حکْم دیا ہےان کی اِطَاعَت خدا کو راضی کرنے کے لیے ربّ کی عِبَادَت ہے۔[3]چنانچہ کہا جا سکتا ہے:
٭٭سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطَاعَت کرنا عِبَادَت۔
٭٭دُرُود و سلام پڑھنا عِبَادَت۔ ٭٭سنّتِ مصطفےٰاپنانا عِبَادَت۔
٭٭میلادِ مصطفےٰ منانا عِبَادَت۔ ٭٭ماں باپ کی اِطَاعَت عِبَادَت۔
٭٭عِلْمِ نافع پڑھانے والے اُسْتَاذ کو خوش کرنا عِبَادَت۔
٭٭رُوحانی مَنازِل طے کروانے والے مُرشِدِ کریم کو راضی کرنا عِبَادَت۔
٭٭رِزْقِ حَلال کمانا عِبَادَت۔ ٭٭رِزْقِ حَلال کھانا عِبَادَت۔
٭٭رشتے داروں کے حُقُوق اَدا کرنا عِبَادَت۔
٭٭نِکاح کرنا عِبَادَت۔ ٭٭شوہَر کو راضی رکھنا عِبَادَت۔
٭٭عِلْمِ دین سیکھنا سکھانا عِبَادَت۔ ٭٭اَہْلِ عِلْم کی زِیَارَت کرنا عِبَادَت۔
٭٭بیماروں کی عِیادَت عِبَادَت۔ ٭٭جَنازے میں شِرْکَت عِبَادَت۔
اَلْغَرَضْ وہ تمام جائز کام جن میں ربّ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نِیَّت کر لی جائے تو وہ ربّ تعالیٰ کی عِبَادَت بن جاتے ہیں اور ان پر ثواب ملتا ہے حتّی کہ جو اپنے بیوی بچو ں کو کما کر اس لیے کھلائے کہ یہ سُنّتِ رسول ہے، ربّ تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے تو کمانا بھی عِبَادَت ہے اور جو خُدا کا رِزْق اس لیے کھائے کہ ربّ تعالیٰ کا حکْم ہے اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت ہے،اَدائے فَرْض کا ذریعہ ہے تو کھانا بھی عِبَادَت ہے۔[4]
حضرت علّامہ مولانا عبد المصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی نے عِبَادَت کے مُتَعَلِّق کیا ہی خوب اِرشَاد فرمایا ہے:
رَحْمَتِ کِبْرِیَا عبادَت ہے رَاحَتِ مُصطفٰے عبادَت ہے
حُسْنِ نُورِ خُدا عبادَت ہے طَلْعَتِ جاں فِزا عبادَت ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع