30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے شُمار دولت بھی آپ کو اپنے ربّ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی کے قَہر و غَضَب سے نہ بچا سکے گی۔[1]
]19[٭عَقْلْمَنْد وُہی ہے جو موت سے قَبْل موت کی تیاّری کرتے ہوئے نیکیوں کا ذخیرہ اِکٹھا کر لے اور سُنّتوں کا مَدَنی چَراغ قَبْر میں ساتھ لے کر قَبْر کی روشنی کا انتِظام کر لے، ورنہ قَبْرہرگز یہ لِـحَاظ نہ کرے گی کہ میرے اندر کون آیا؟[2]
]20[٭عَقْلْمَند وُہی ہے جو نیکیوں کے حُصول کی سَعادت پاکر انہیں بھول جائے اور گناہ صادِر ہو جائیں تو انہیں یاد رکھے اور خود کو سدھارنے کے لیے ان پر سختی سے اپنا مُحاسَبَہ کرتی رہے۔ [3]
]21[٭نیک اَعمال میں کمی پر خود کو سرزَنِش (یعنی ڈانٹ ڈپٹ)کریں اور ہر لمحہ خود کو اللہ واحِدِ قَہَّار کے قَہر و غَضَب سے ڈراتی رہیں۔ یِہی صَحَابِیّات و صَالحات رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِنَّ کا مَعْمُول رہا ہے۔[4]
]22[٭جو دوسروں کو اپنے نیک اَعمال سناتی ہیں وہ رِیاکاری کی تباہ کاری کا شِکار ہوجاتی ہیں۔[5]
]23[٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر کو کوئی نہیں جانتا،کسی کو بھی اپنے عِلْم یا عِبَادَت پر ناز نہیں کرنا چاہئے۔[6]
]24[٭بظاہِر کوئی کتنی ہی عِبَادَت ورِیاضت کرے،دین کی خوب تبلیغ و خِدْمَت کرے، لیکن اگر دِل میں مُنافَقت اور میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَدَاوَت ہو تونیکیوں اور عِبَادَت کی کوئی حقیقت نہیں۔[7]
]25[٭جو نیکیوں میں کمزور ہیں وہ نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والی اسلامی بہنوں پر رَشک کر کے اُن کی طرح نیکیاں بڑھانے کی جستجو کریں۔[8]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت
بہاولنگر (صوبہ پنجاب) کی میڈیکل کالونی میں رہنے والی ایک اسلامی بہن اپنی زِنْدَگی میں آنے والے نشیب و فراز کے اَحْوَال کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ سنّتوں کی شاہراہ پر گامزن ہونے سے پہلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بَنْدَگی سے کوسوں دُور تھی۔ گھر میں مَدَنی مَاحَول نہ ہونے کی وجہ سے بے راہ روی کا شِکار تھی اور سنّتوں پر عَمَل کرنے سے یکسر غافِل تھی۔ نَماز جیسی عظیم عِبَادَت میں کوتاہی برتنا، فلمیں ڈرامے دیکھنے کے لیے ہر وَقْت تیّار رہنا اور گانے باجے سننے میں پیش پیش رہنا میری عادات میں شامِل تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کو ہِدَایَت دینے کا اِرَادہ فرماتا ہے تو عموماً کسی نیک بندے کو ہِدَایَت کا ذریعہ بنا دیتا ہے، یہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک روز میری ملاقات ایک مُبلِّغہ اسلامی بہن سے ہوئی، جن کا کِردار اور طریقۂ گفتار بڑا شاندار تھا اور ان کی باتوں کے ہر لَـفْظ سے خیرخواہی کے پاکیزہ جذبات کا اِظْہَار ہو رہا تھا، تبلیغِ قرآن وسنّت کے جذبے سے سرشار ان اسلامی بہن کی تمام باتیں نیکی کی دَعْوَت پر مَبْنِی تھیں جو اِصْلَاح کے حوالے سے بَہُت مفید تھیں۔ دورانِ گفتگو انہوں نے نیکیاں کمانے، اپنی اِصْلَاح کے ساتھ دوسروں کی اِصْلَاح کرنے اور سنّتیں اپنانے کا ذِہْن دیااور اس مَقْصَد کو پانے کے لیے دعوتِ اِسْلَامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع میں شِرْکَت کو بَہُت مفید قرار دیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کَرَم ہوا کہ ان کی بات میرے دِل میں اُتَر گئی اور اس طرح میری سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع تک رسائی ہوگئی۔ وہاں ہونے والا سنّتوں بھرا بیان ایک الگ ہی نَوعِـیَّت کا تھا جس کا ہر لَـفْظ، ہر جملہ گناہوں کے مریض کے لیے کسی کیمیا (فائدہ مند دوا) سے کم نہ تھا، پھر اس بیان کے بعد ہونے والا حلقۂ ذِکْر بھی ایک مُنْفَرِد خُصُوصِیَّت کا حامِل تھا۔ اِخْتِتام سے قَبْل اِجْتِمَاعِی دُعا کرائی گئی جس میں تمام شُرَکائے اِجْتِمَاع نے گِڑ گِڑا کر بارگاہِ اِلٰہی میں دُعائیں مانگیں، دُعا کرانے والے کا انداز اور ان کے منہ سے ادا ہونے والے دعائیہ کلمات دِل پر چوٹ کر رہے تھے اور ربِّ کائنات کی بارگاہ میں عِجْز و انکساری کا سلیقہ سکھا رہے تھے، اِجْتِمَاع میں شریک اسلامی بہنوں کی آمین کے ساتھ ساتھ میں بھی ہر دُعا پر آمین کہتی چلی گئی اور یوں اپنے تمام گزَشْتَہ گناہوں سے سچی توبہ کر کے اِجْتِمَاع سے واپَس لوٹی۔ بعد اَزاں مَدَنی مَاحَول سے وَابَسْتہ اسلامی بہنوں کی پاکیزہ صُحْبَت کے سَبَب میرا کِردار، اَخْلَاق اور زِنْدَگی گزارنے کا انداز اسلامی طریقۂ کار پر اُسْتُوار ہوتا گیا۔ فرائض و سُنن اور نَوَافِل کی پابندی مجھے نصیب ہوگئی، شَرْعِی پردہ کرنے کی عادَت مجھ میں راسخ ہوگئی اور گناہوں بھری زِنْدَگی سے بھی مجھے نجات مل گئی۔
[1] بیاناتِ عطاریہ حصہ اول ، مردے کی بے بسی ، ص ۳۶۲
[2] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، بادشاہوں کی ہڈیاں ، ص ۹۲
[3] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، میں سدھرنا چاہتا ہوں ، ص ۴۶
[4] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، میں سدھرنا چاہتا ہوں ، ص ۴۶
[5] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، میں سدھرنا چاہتا ہوں ، ص ۵۷
[6] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، برے خاتمے کے اسباب ، ص ۱۳۲
[7] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، خود کشی کا علاج ، ص۳۹۶
[8] بیاناتِ عطاریہ حصہ دوم ، خود کشی کا علاج ، ص۴۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع