30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوئی۔ ان کا مَعْمُول تھا کہ ہر پیر شریف کو عَصْر تا مَغْرِب بڑے ہی اِہتِمام کے ساتھ ذِکْرُ اللہ میں مُسْتَغْرَق رہتیں۔ایک دن حَسْبِ مَعْمُول پیر شریف کے دن یادِالٰہی میں مَحْو تھیں کہ اچانک سب گھر والوں کو بلایا اور وَعْظ و نصیحت کرتے ہوئے کہنے لگیں: جُدائی کا وَقْت قریب آگیا ہے، لہٰذامجھے غسل دینے کے لیے فلاں اسلامی بہن کو بلانا اور اگر میری طبیعت ناساز ہوجائے تو ڈاکٹر کے پاس نہ لے جانا۔ والِدہ محترمہ کی ان باتوں سے سب کے چہرے مرجھا گئے،پھر کہنے لگیں کہ میرے ساتھ سب مِل کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکْر کرو، امّی جان کے حکْم پر سب گھر والے ذِکْرُ اللہ میں مَشْغُول ہو گئے۔دورانِ ذِکْر اچا نک ان کی حَالَت خراب ہونے لگی مگر ان کی زبان پر اللہ اللہ کی نُورانی صَدائیں جارِی تھیں۔ سب گھر والوں نے ذِکْر مَوْقُوف کر دیا اور ان سے طبیعت کے بارے میں پوچھنے لگے مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، پھر تھوڑی ہی دیر میں ان پر غشی طارِی ہوگئی ہم انہیں فوراً اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد کہا کہ انہیں تو اِنْتِقَال کیے کافی دیر ہوچکی ہے مگر حیرانی کی بات یہ تھی کہ ان کی زبان اب بھی حَرَکَت کر رہی تھی۔ چُنَانْچِہ انہیں گھر لے آئے اور انکی وَصِیَّت کے مُطابِق اِسْلَامی بہن سے غسل کی ترکیب بنوائی چونکہ رات کافی ہو چکی تھی اس لیے صُبْح تدفین کا سلسلہ رکھا گیا، یوں والِدہ کا جَنازہ رات بھر گھر میں رکھا رہا مگر اس کے باوُجُود ان کا چہرہ تروتازہ ہی رہا گویا کہ ابھی وُضُو کر کے سوئی ہوں۔ اگلے دن تقریباً 10:30 بجے اَمّی جان کی نمازِ جَنازہ ہوئی۔ خوش قسمتی سے جَنازے میں ایک مَدَنی اِسْلَامی بھائی بھی آئے ہوئے تھے، انہوں نے ہی نَمازِ جَنازہ پڑھائی، پھر دُرُود و سلام کی صَداؤں میں امی جان کو سُپُردِ خاک کر دیا گیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ والِدہ کی قَبْر پر حاضِری کی سَعَادَت ملتی رہتی ہے مگر میں جب بھی والِدہ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتا ہوں توایسا مَحْسُوس ہوتا ہے کہ قَبْر سے ابھی بھی میری والِدہ کی ذِکْر کی صَدائیں آرہی ہیں۔ یہ سب دعوتِ اِسْلَامی کے مشکبار مَدَنی مَاحَول کی برکتیں ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری والِدہ اور ساری اُمَّتِ مُسْلِمہ کی مَغْفِرَت فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الامینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے دعوت ِاسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی بَرَکَت سے جہاں فِکْرِ آخِرَت نصیب ہوتی ہے وہیں فضولیات و لغویات سے زبان نہ صِرف مَحْفُوظ ہوتی ہے بلکہ اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مُبارَک ذِکْر جاری ہوجاتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام مسلمانوں کو بَکَثْرَت اپنا اور اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذِکْر کرنے کی توفیق عَطا فرمائے۔ [1]
اٰمین بجاہِ النبی الامینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تِرا شکر مولا دیا مَدنی ماحول نہ چھوٹے کبھی بھی خُدا مَدنی ماحول
خدا کے کرم سے خدا کی عطا سے نہ دشمن سکے گا چھڑا مَدنی ماحول
دُعا ہے یہ تجھ سے دل ایسا لگا دے نہ چھوٹے کبھی بھی خدا مَدنی ماحول
ہمیں عالموں اور بزرگوں کے آداب سکھاتا ہے ہر دم سدا مَدنی ماحول
یہاں سنّتیں سیکھنے کو ملیں گی دِلائے گا خوفِ خدا مَدنی ماحول
اے بیمارِ عِصیاں تُو آجا یہاں پر گناہوں کی دیگا دوا مَدنی ماحول
اگر دردِ سر ہو، کہیں کینسر ہو دلائے گا تم کو شفا مَدنی ماحول
شِفائیں ملیں گی، بَلائیں ٹلیں گی یقیناً ہے بَرَکَت بھرا مَدنی ماحول
گنہگارو آؤ، سِیَہ کارو آؤ گناہوں کو دیگا چھڑا مَدنی ماحول
پِلا کر مئے عشق دیگا بنا یہ تمہیں عاشِقِ مصطَفٰے مَدنی ماحول
اے اسلامی بہنو! تمہارے لیے بھی سُنو ہے بہت کام کا مَدنی ماحول
تمہیں سنّتوں اور پردے کے احکام یہ تعلیم فرمائے گا مَدنی ماحول
قیامت تلک یاالٰہی سلامت رہے تیرے عطارؔ کا مَدنی ماحول
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تبلیغ دین اسلام اور صَحَابِیّات طَیِّبَات
اسلام میں تبلیغِ دین بڑی اَہَم عِبَادَت ہے کہ تمام عبادات کا فائدہ اپنی ذات کو ہوتا ہے مگر اس کا فائدہ دوسروں کو ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وُہی بندہ بہتر ہے جو اپنی ذات کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اِصْلَاح کو بھی پیشِ نَظَر رکھے۔ جیسا کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدَتُنا دُرَّہ بِنْتِ ابو لَہَب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عَرْض کی: بہترین بندہ کون ہے؟ تو اِرشَاد فرمایا:اللہ تعالیٰسے سب سے زیادہ ڈرنے والا، صِلَہ رِحمی (یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچھاسُلوک) کرنے والا، اَچھّی باتیں بتانے والا اور بُرائیوں سے روکنے والا۔[2] گویا کہ جو اسلامی بہن اَچھّی باتوں کا حکْم دے اور بُرائیوں سے روکے وہ اللہ تعالیٰکی، اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اور اُس کی کِتاب (یعنی قرآنِ کریم) کی نِیَابَت کا فریضہ سر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع