30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی عِدَّت پوری ہو چکی تو سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی طرف نِکاح کا پیغام بھیجا، جب انہوں نے پیغامِ نِکاح سنا تو عَرْض کی: میں اپنے ربّ سے مشورہ کیے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔ چُنَانْچِہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سجدے میں سر رکھ کر بارگاہِ رَبُّ الْعِزّت میں یوں عَرْض کی:اے پاک پَرَوَرْدگار!تیرے پاک پیغمبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے نِکاح کا پیغام دیا ہے اگر میں تیرے نزدیک ان کی زَوْجیّت میں داخِل ہونے کے لائق ہوں تَو اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تُو اِن کے ساتھ میرا نِکاح فرما دے۔ان کی دُعا قبول ہوئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کا نِکاح اپنے مَـحْبُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرما دیا۔[1] یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اچانک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے مکان میں تشریف لے گئے، اس وَقْت ان کا سر برہنہ تھا۔انہوں نے عَرْض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بغیر خُطْبَہ اور بغیر گواہ کے آپ نے میرے ساتھ نِکاح فرما لیا؟ اِرشَاد فرمایا:اَللهُ الْمُزَوِّجُ وَ جِبْرِیْلُ الشَّاھِدُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نِكاح فرمانے والا اور حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام گواہ ہیں[2]۔[3]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے کہ رُجُوع اِلَی اللهکا کس قَدْر عظیم اِنْعَام اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے حصّے میں آیا کہ ربِّ ذُو الجلال نے ان کا نِکاح فرمایا اور جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام گواہ بنے۔یہ صِرف ایک ہی واقعہ نہیں کہ جس میں صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ میں سے کسی نے بارگاہِ خداوندی میں رُجُوع کیا ہو اور اپنے مَن کی مُراد پائی ہو۔ بلکہ ایسی کثیر مثالیں تاریخِ اِسْلَام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ حُصُولِ بَرَکَت کے لیے ایک اور مِثال پیش خِدْمَت ہے: ایک مرتبہ حضرت سَیِّدَتُنا اَسْما بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی پڑوسن نے گوشت پکانا شروع کیا تو اس کی خوشبو سے آپ کی کھانے کی خواہش میں بھی شِدَّت پیدا ہو گئی،کیونکہ اس وَقْت آپ گھر پر اکیلی تھیں اور آپ کے شوہَرِ نامدار حضرت سَیِّدُنا زُبَیر بن عوّام رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کسی سَفَر پر تھے۔ گھر پر بھی کچھ خاص کھانے کو نہ تھا۔ چُنَانْچِہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا آگ لینے کے بہانے اپنی پڑوسن کے گھر گئیں تا کہ وہ کھانے کے لیے انہیں بھی کچھ دیدے۔ حالانکہ اس وَقْت آپ کو آگ کی ضَرورت نہ تھی مگر پڑوسن نے کھانے کے مُتَعَلِّق کچھ نہ پوچھا،واپَس آتے ہوئے جان بوجھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے آگ بجھا دی، پھر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی جب اسی طرح ہوا تو آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنی بھوک کی اس بے تابی پر بڑی شرمسار ہوئیں اور اپنی اس حَالَت پر نادِم ہو کر بارگاہِ خُداوندی میں مُعَافی کی خواستگار ہوئیں اور بھوک کی اس شِدَّت سے چھٹکارے کے لیے فریاد کی۔ ادھر اسی وَقْت اس پڑوسن کا شوہَر گھر واپَس لوٹا تو اس نے پوچھا:کیا کوئی آیا تھا؟ بیوی نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی بار بار آمد کا ماجرا بتایا تو اس کے شوہر نے کہا:میں اس وَقْت تک کھانا نہ کھاؤں گا جب تک انہیں بھی اس میں سے کچھ نہ دو گی۔ چُنَانْچِہ اس پڑوسن نے فوراً ایک پیالہ بھر کر آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت میں بھیج دیا۔[4]
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!یہ ہے بارگاہِ خُداوندی کی طرف رُجُوع کرنے کا اِنْعَام!حضرت سَیِّدَتُنا اَسْما بنت ابی بکر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے جب اپنے رَازِقِ حقیقی کی طرف رُجُوع کیا تو وُہی کھانا خود چل کر ان کی خِدْمَت میں آ گیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔اٰمین بجاہِ النبی الامینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ذکر اللہ اور صَحَابِیّات طَیِّبَات
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِکْر سے بڑھ کر اور کیا عِبَادَت ہو سکتی ہے۔ یہ دلوں کے چَین اور فلاح و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) (پ۱۳،الرعد:۲۸) ترجمۂ کنز الایمان:سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔
ایک اور مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۱۰) (پ۲۸،الجمعة:۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کو بَہُت یاد کرو اس اُمِّید پر کہ فلاح پاؤ۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حَدِیْثِ قُدْسِی ہے: میں اپنے بندے کے اس گمان کے قریب ہوں جو وہ مجھ سے کرتاہے اور جب وہ میرا ذِکْر کرتاہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کر تاہےتو میں بھی اسے تنہایا د کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذِکْر مَجْمَع میں کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مَجْمَع میں اس کا ذِکْر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بَالِشْت مجھ سے قریب ہوتاہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دو۲ ہاتھ اس سے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تومیر ی رَحْمَت اس کے
[1] مدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب دوم در ذکر ازواج مطہرات ، ام المومنین زینب بنت جحش ، ۲ / ۴۷۷
[2] مدارج النبوت ، قسم پنجم ، باب دوم در ذکر ازواج مطہرات ، ام المومنین زینب بنت جحش ، ۲ / ۴۷۸ / معجم کبیر ، ذكر ازواج رسول الله ، ذكر تزويج النبى صلى الله عليه وسلم زينب...الخ ، ۱۰ / ۱۶۵ ، حديث : ۱۹۶۰۴ ، بتغير قليل
[3] پیاری پیاری اسلامی بہنو!اس روایت سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور فرشتوں کو گواہ بنا کرنکاح کرنا جائز ہے ، کیونکہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے : لَوْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ لَا يَنْعَقِدُ ۔ یعنی اگر کسی نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع