دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat Aur Shoq e Ibadat | صحابیات اور شوق عبادت

book_icon
صحابیات اور شوق عبادت

گھر سے باہَر نکلی ہی نہیں۔[1]

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے ذوق و شوق کا اندازہ اسی بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب انہوں نے یہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسنا کہ جس نے اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کیا تو یقیناً ان کی جانِب سے ادا ہوگیا اور خود اسے 10حج کے برابر ثواب ملے گا۔[2]تو وہ اس عِبَادَت کو نہ صرف اپنی جانِب سے بلکہ اپنے وَالِدَین کی طرف سے بھی ادا فرمایا کرتیں اور بعض نے تو صَرَاحَت سے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خِدْمَت میں حاضِر ہو کر اس بات کی اِجازَت بھی حاصِل کی۔ جیسا کہ حَجَّةُ الْوَدَاع کے مَوْقَع پر قبیلہ خَثْعَم کی ایک عورت نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں حاضِر ہوکر عَرْض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ نے بندوں پر حج فَرْض فرمایا ہے مگر میرے والِد اس قَدْر بوڑھے ہیں کہ سواری پر بھی بیٹھ نہیں سکتے، کیا میں ان کی جانِب سے حج کروں تو ادا ہو جائے گا؟ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: ہاں(ہوجائے گا)۔ [3]

اسی طرح ایک بار ایک اور عورت نے حاضِرِ خِدْمَتِ اَقْدَس ہو کر اپنی والِدہ کی جانِب سے حج ادا کرنے کے مُتَعَلِّق عَرْض کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِجازَت دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: ہاں ان کی طرف سے حج اَدا کر دو۔[4]

مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: وَالِدَین نے وَصِیَّت کی ہو یا نہ کی ہو اگر ان پر حج فَرْض تھا تو ان کی طرف سے تم کردو۔تمام عُلَما کا اس پر اِتّفاق ہے کہ قَرِیْبُ الْـفَـنَا بیمار یا بوڑھے کی طرف سے اور مَیِّت کی طرف سے حجِ بَدَل کرنا جائز ہے کیونکہ حج خالِص بَدَنی عِبَادَت نہیں بلکہ بَدَنی اور مالی کا مجموعہ ہے جو سَخْت مَـجْبُوری اور مَعْذُوری کی حَالَت میں دوسری کے ادا کر دینے سے ادا ہو سکتا ہے۔ عِبادَات تین۳ قسم کی ہیں:مَحْض بدنی،مَحْض مالی،بدنی و مالی کا مجموعہ۔ مَحْض بدنی عبادات میں نِیَابَت مطلقًا ناجائز ہے جیسے روزہ،نَماز اور مَحْض مالی میں مطلقًا جائز جیسے زکوٰۃ اور صدقۂ فِطْر وغیرہ اور مجموعہ میں دائمی عُذْر میں جائز ویسے ناجائز۔[5]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تِلاوَتِ قرآن اور صَحَابِیّات طَیِّبَات

اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسانوں کی ہِدَایَت کے لیے انبیا و رُسل عَلَیْہِمُ السَّلَام مَبْعُوث فرمائے، جن میں سے اس نے بعض خاص انبیا و رُسُل عَلَیْہِمُ السَّلَام کو اپنے احکامات پر مُشْتَمِل کُتُب و صحائف بھی عَطا فرمائے۔ چُنَانْچِہ جب سب سے آخر میں اس کے مَـحْبُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی باری آئی تو جس طرح اس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تمام انبیا پر فضیلت عَطا کی اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازِل ہونی والی کتاب ”قرآنِ مجید“کو بھی باقی تمام کُتُبِ سَماوِیہ پر فضیلت بخشی۔یہ کِتاب بندوں کی ہِدَایَت کا سرچشمہ ہے اور اس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ چُنَانْچِہ انسان کی ترقی اور فلاح و بہبود اس میں ہے کہ وہ قرآنِ پاک میں غورو فِکْر کرے کہ ایسا کرنا بھی عِبَادَت ہے اور جس نے بھی اس کی تِلاوَت کو اپنا مَعْمُول بنایا تو نہ صِرف اس کلام پاک کی حَقَّانِیَّت اس کے دل میں گھر کر گئی بلکہ اس کی زِنْدَگی میں بھی مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری اَسلاف خواتین قرآنِ مجید سے مَحبّت کی بنا پر اس کی تِلاوَت کا حَد دَرْجَہ اِہتِمام فرمایا کرتیں اور ان اَسلاف خواتین میں صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کا تو کیا ہی کہنا! کیونکہ وہ تو اٹھتے بیٹھتے اور کام کاج کرتے وَقْت بھی تِلاوَت کلامِ پاک سے غافِل نہ ہوا کرتیں یعنی خواہ وہ کسی بھی کام میں مَصْرُوف ہوتیں قرآن کا دامَن نہ چھوڑتیں۔ مِثال کے طور پر شہزادِیِ رسول، حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ زہرا بتول رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کھانا پکاتے وَقْت بھی قرآنِ پاک کی تِلاوَت کرتی رہتی تھیں اور اسی طرح جب ان کے جِگَر گوشے جناب حَسَنَینِ کریمین (رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) سو رہے ہوتے تو ایک طرف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ہاتھوں سے پنکھا جھول رہی ہوتیں تو دوسری طرف زبان سے کلامِ الٰہی کی تِلاوَت سے ان کے قُلُوب و اَذْہَان کو مُنَوَّرفرما رہی ہوتیں۔[6]

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!امام حسین رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بچپن میں سیّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے تِلاوَتِ قرآن کی جو لوریاں سنائی تھیں وہ ان کے لہو میں اس طرح رَچ بَس گئی تھیں کہ اس جہانِ فانی سے کوچ کے بعد بھی نیزے کی نوک پر آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبانِ حق سے تِلاوَت جاری تھی۔ مگر سیّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مَقامِ رفیع سے کوئی یہ مت سمجھے کہ یہ شائد ان کی خُصُوصِیَّت تھی،کیونکہ تِلاوَتِ قرآن سے مَحبَّت تو تمام صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی فِطرَت میں شامِل تھی، جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ورقہ انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا قرآنِ مجید، فُرقانِ حمید کی بہترین قاریہ تھیں۔ شب و روز تِلاوَت میں مَصْرُوف رہتیں،ہر رات آپ کے گھر سے تِلاوَت کی آواز سنائی دیا کرتی۔ایک رات خِلافِ مَعْمُول جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی آواز سنائی نہ دی تو اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صُبْح ہوتے ہی اِرشَاد فرمایا: آج رات میں نے اپنی خالہ حضرت اُمِّ وَرَقہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی تِلاوَت کی آواز نہیں سنی۔تفیشِ حال کیلئے جب ان کے گھر تشریف لے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ وَرَقہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اسی رات اس دارِ فانی سے کوچ فرما چکی ہیں۔[7] اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اُن پر



[1]     طبقات کبریٰ ، ذکر حج رسول الله بازواجه ، ۸ /  ۱۶۹

[2]    دار قطنی ، کتاب الحج ، باب المواقیت ، المجلد الاول ، ۲ / ۲۰۴ ، حدیث : ۲۵۸۷

[3]     بخاری ، کتاب جزاء الصید ، باب الحج عمن لا...$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن