دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabiyat Aur Shoq e Ibadat | صحابیات اور شوق عبادت

book_icon
صحابیات اور شوق عبادت

طرح دُعا فرمائی:اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْـجَنَّةِ۔ یعنی یااللہ عَزَّ  وَجَلّ!ان سب کو جنّت میں میرا رفیق بنا دے۔حضرت بی بی اُمِّ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا زِنْدَگی بھر عَلانیہ یہ کہتی رہیں کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس دُعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پَروا نہیں۔[1]

اسی طرح غزوۂ خندق کے مَوْقَع پر جب شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَزْوَاجِ مُطَہَّرات و دیگر صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو حضرت سَیِّدُنا حسّان بن ثابِت رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ فارِع نامی ایک قلعے میں ٹھہرایا تو اچانک ایک یہودی قلعے کی دیوار پر چڑھ کر اندر جھانکنے لگا۔ اس پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی اور مَشْہُور صحابی حضرت سَیِّدُنا زُبیر بن عوّام رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی والدۂ محترمہ حضرت سَیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے حضرت سَیِّدُنا حسّان رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اسے ٹھکانے لگانے کا کہا،انہوں نے مَعْذرَت خواہانہ انداز میں عَرْض کی: اگر میں یہ کر سکتا تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نہ ہوتا! چُنَانْچِہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے خود آگے بڑھ کر تلوار کا ایک ایسا بھرپور وار کیا کہ اس یہودی کا سر تَن سے جُدا کر دیا اور پھر وہ کٹا ہوا سر پکڑ کر یہودیوں کی طرف پھینک دیا۔ [2]

اسی طرح جنگ یَرمُوک میں ایک وَقْت ایسا آیا جب رُومی سپاہیوں نے مرنے مارنے کی قسمیں اُٹھائیں اور پیروں میں زنجیریں ڈال کر اسلامی لشکر پر حملہ کیا تو اسلامی لشکر کا ایک حِصّہ اس حملے کی شِدَّت کی تاب نہ لا سکا اور بعض مجاہدین پیچھے ہٹنے لگے۔اس مَوْقَع پر مسلم خواتین نے جو کِردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ چُنَانْچِہ اس وَقْت عِفّت و عِصْمَت کی پیکر خواتین جو ہاتھ میں آیا لے کر میدانِ جنگ میں کود پڑیں اور بعض تو خیموں کی چوبوں سے دشمنوں کے سامنے سینہ سِپَر ہو گئیں اور مار مار کر ان کا بھُرکس نِکال دیا۔[3] انہیں میں ایک صحابیہ حضرت سیِّدَتُنا اَسْما بنت یزید رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی تھیں جنہوں نے خیمے کی چوب سے نو۹ رُومیوں کو واصِلِ جہنَّم کیا۔ [4]

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! مَذْکُورہ واقعات ان صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے ہیں جنہوں نے بوَقْتِ ضَرورت جِہاد میں حِصّہ لیتے ہوئے قِتال کیا۔ البتہ! صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے زمانے میں لڑی گئی شاید ہی کوئی ایسی جنگ ہو گی جس میں یہ شریک نہ ہوئی ہوں۔ کیونکہ یہ صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّہی تھیں جو زخمیوں کی مَرْہَم پٹّی، پیاسوں کو پانی پلانے جیسے اَہَم کاموں میں اپنی خدمات سر اَنْجَام دیا کرتیں۔ جیسا کہ حضرت سیِّدَتُنا رُبَـیِّـع بِنْت مُعوَّذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ انہوں نے تاجدارِ رِسَالَت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کئی غزوات میں شِرْکَت فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں اور شُہَدا کو مدینہ مُنَوَّرہ پہنچایا کرتی تھیں۔[5]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حج اور صَحَابِیّات طَیِّبَات

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حج چونکہ اسلام کے بُنْیَادِی اَرکان میں سے ایک اَہَم رُکن ہے جسے مَخْصُوص اَوقات میں خاص اَفْعَال کرتے ہوئے ادا کیا جاتا ہے۔ یعنی اِحْرَام باندھ کر نو۹ ذو الحجہ کو میدانِ عَرَفات میں ٹھہرنے اور مکہ معظمہ کے طواف کو حج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[6]یہ زِنْدَگی میں ایک ہی بار فَرْض ہے، مگر قُربان جائیے صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی مُبارَک زندگیوں پر!جنہوں نے اس عظیم عبادَت کو بار بار ادا کیا، بلکہ بعض صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ تو ہر سال حج کے لیے سُوئے مکہ مکرَّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا تشریف لے جایا کرتیں۔ ان میں اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سر فہرست جَلْوَہ اَفروز ہیں۔جیسا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا خود فرماتی ہیں کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے یہ اِرشَاد فرمایا کہ تمہارے لیے سب سے اَچّھا اور عُمْدَہ جہاد حج ہے، حج گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ تو میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کے بعد یہ نِیَّت کر لی کہ کبھی حج تَرْک نہیں کروں گی۔[7]چُنَانْچِہ،

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد دورِ صدیقی میں تو آپ حج کرتی رہیں مگر اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے عہد میں تمام ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکو حج اور عمرے سےروک دیا،یہاں تک کہ ان کے عہد کے آخِرِی سال حج کی اِجازَت ملی تو ہی ان کے ساتھ حج کیا، پھر جب اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عہد آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن