30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِرشَاد ہوا: ہاں! ان کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہو[1] ۔[2]
}7{ مسلسل روزے رکھنے کی شکایت
حضرت سَیِّدُنا صَفوان بن مُعَطَّل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ اس قَدْر تسلسل سے نَفْل روزے رکھنا شروع کر دیتیں کہ کوئی ناغہ ہی نہ کرتیں تو وہ انہیں مَنْع کیا کرتے،اس پر انہوں نے بارگاہِ نبوّت میں شِکایَت کر دی۔مسلسل روزے رکھنے کی وجہ سے چونکہ حُقوقِ زَوجَین کی ادائیگی میں کوتاہی بھی ہو رہی تھیں اس لیے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں سمجھایا اور مُطْلَق حکْم اِرشَاد فرما دیا کہ کوئی بھی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے۔ [3]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِعْتِكَاف اور صَحَابِیّات طَیِّبَات
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اِعْتِکَاف کے لُغَوِی معنی ہیں:”ٹھہرنا“مَطْلَب یہ کہ مُعْتَکِف اللہ رَبُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہِ عَظَمَت میں اُس کی عِبَادَت پر کمَرَ بَستَہ ہو کر ٹھہرا رہتا ہے۔ اس کی یِہی دُھن ہوتی ہے کہ کسی طرح اس کا پروردگار عَزَّ وَجَلَّ اس سے راضی ہو جائے۔اس اِعْتِبَار سے بلاشُبہ اِعْتِکَاف بڑی ہی پیاری عِبَادَت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ مَعْمُول تھا کہ ہر رَمَضان شریف کے عَشَرَہ آخِرہ(یعنی آخری دس دن)کا اِعْتِکَاف فرمایا کرتے اور اسی سنّتِ کریمہ کو زندہ رکھتے ہوئے اُمَّہاتُ الْمُومِنِین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ بھی اِعْتِکَاف فرماتی رہیں۔ چُنَانْچِہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا رِوایَت فرماتی ہیں کہ میرے سرتاج،صاحِبِ مِعْرَاج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَمَضانُ الْمُبَارَک کے آخِری عَشَرَہ(یعنی آخِری دس دن)کا اِعْتِکَاف فرمایا کرتے۔ یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وفات (ظاہِری) عَطا فرمائی۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزْوَاجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اِعْتِکَاف کرتی رہیں۔[4]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جِہاد اور صَحَابِیّات طَیِّبَات
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یاد رکھئے اسلام میں عورتوں پر جِہاد فَرْض نہیں۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک بار اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے سرتاج، صَاحِبِ مِعْرَاج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عَرْض کی: کیا عورتوں پر بھی جِہاد ہے؟ اِرشَاد فرمایا: ہاں ان پر ایسا جِہاد ہے جس میں لڑائی نہیں اور وہ حج اور عمرہ ہے۔[5] ایک رِوایَت میں یہ اَلْفَاظ ہیں کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جِہاد کرنے کی اِجازَت مانگی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: عورتوں کا جِہاد حج ہے۔ [6]
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: خَیال رہے کہ کبھی ہنگامی حالات ایسے نازُک ہوجاتے ہیں کہ عورتوں کو بھی جِہاد کرنا پڑتا ہے جب کہ مرد جِہاد کے لیے ناکافی ہوں،کفار کا دباؤ بڑھ جائے۔یہ حدیث نارمل(Normal) حالات کی ہے اور جن اَحادِیث میں عورتوں کا جِہاد میں جانا ثابِت ہے وہ ہنگامی حالات میں ہے لِہٰذا اَحادِیث میں تَعَارُض نہیں۔[7]
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہی وجہ ہے کہ دینِ اِسْلَام کا پرچم سَر بُلَند رکھنے کیلئے جب بھی کٹھن حالات درپیش ہوئے اور مشکلات آڑے آئیں تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرح صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ بھی جنگ و جدل میں کسی سے پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے اپنے پیچھے ایسے اَنْمِٹ نشانات چھوڑے کہ تاریخ عالَم آج بھی اَنْگُشْت بَہ دَنْدان (حیران) ہے۔غزوۂ اُحُد میں حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عمّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی داستانِ شجاعت کسے مَعْلُوم نہیں، ان کی اسی بَہَادُرِی سے خوش ہو کر سرورِ انبیا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کیلئے اور ان کے شوہَر اور بیٹوں کیلئے اس
[1] روزہ خالِص بدنی عِبَادَت ہے جس میں نِیَابَت ( قائم مقامی ) ناجائز ہے ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) ( ترجمۂ کنز الایمان : آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش ) ( پ۲۷ ، النجم : ۳۹ ) اور فرماتا ہے : لَهَا مَا كَسَبَتْ ( ترجمۂ کنز الایمان : ان کیلئے ان کی کمائی ) ( پ۱ ، البقرة : ۱۴۱ ) اور فرماتا ہے : وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍؕ ( ترجمۂ کنز الایمان : اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا ) ( پ۲ ، البقرة : ۱۸۴ ) حُضُور اَنْوَر صَلَّی اللّٰہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع