30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لَـبَّیْك کہا۔ [1]
}3{ شکرانۂ نعمت پر روزوں کا اہتمام
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اسی طرح بعض صَحَابِیّات طَیِّبَات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کا یہ مَعْمُول بھی رہا کہ جب انہیں کوئی خوشی کی بات پہنچتی یا ربّ تعالیٰ کی طرف سے کسی نِعْمَت سے سرفراز ہوتیں تو شکرانے کے طور پر عِبَادَتِ الٰہی بجا لاتیں، جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا زَیْنَب بِنْتِ جَحْش رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے سرورِ دو۲ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِکاح کی خوشی میں صَدَقَہ و خیرات کے ساتھ ساتھ کثیر روزوں کا اِہتِمام بھی فرمایا۔ چُنَانْچِہ،
سیرتِ مصطفےٰ صفحہ نمبر 670 پر ہے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارِثہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ان کا نِکاح کرا دیا تھا مگر چونکہ حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا خاندانِ قریش کی ایک بَہُت ہی شاندار خاتون تھیں اور حُسْن و جَمال میں بھی یہ خاندانِ قریش کی بے مِثال عورت تھیں اور حضرت زید رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گو کہ رسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے آزاد کرکے اپنا متبنیٰ(منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا مگر پھر بھی چونکہ وہ پہلے غلام تھے اس لیے حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ان سے خوش نہیں تھیں اور اکثر میاں بیوی میں اَن بَن رہا کرتی تھی یہاں تک کہ حضرت زید رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کو طلاق دیدی۔ اس واقعہ سے فطری طور پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے قَلْبِ نازُک پر صَدْمَہ گزرا۔ چنانچہ جب ان کی عِدَّت گزَر گئی تو مَحْض حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی دِلجوئی کے لیے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس اپنے نِکاح کا پیغام بھیجا۔ رِوایَت ہے کہ یہ پیغامِ بَشَارَت سن کر حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے دو۲ رَکْعَت نَماز ادا کی اور سجدہ میں سر رکھ کر یہ دُعا مانگی کہ خداوندا! تیرے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے مجھے نِکاح کا پیغام دیا ہے اگر میں تیرے نزدیک ان کی زَوجِیَّت میں داخِل ہونے کے لائق ہوں تو یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو ان کے ساتھ میرا نِکاح فرما دے ان کی یہ دُعا فوراً ہی قبول ہو گئی اور یہ آیت نازِل ہوئی:
فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا (پ۲۲،الاحزاب:۳۷)
ترجمه:جب زید نے اس سے حاجَت پوری کر لی (زینب کو طلاق دے دی اور عِدّت گزر گئی) تو ہم نے اس (زینب) کا آپ کے ساتھ نِکاح کر دیا۔
اس آیَت کے نُزُول کے بعد حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور اس کو یہ خوشخبری سنائے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نِکاح اس کے ساتھ فرما دیا ہے۔ یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ایک خادِمہ دوڑتی ہوئی حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس پہنچیں اور یہ آیت سنا کر خوشخبری دی۔ حضرت زینب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اس بَشَارَت سے اس قَدْر خوش ہوئیں کہ اپنا زیور اُتار کر اس خادِمہ کو اِنْعَام میں دے دیا اور خود سجدہ میں گر پڑیں اور اس نِعْمَت کے شکریہ میں دو۲ ماہ لگاتار روزہ دار رہیں۔[2]
جو سر پہ رکھنے کو مِل جائے نَعلِ پاکِ حُضُور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
}4{ ہر پیر و جمعرات کا روزہ
زوجۂ حضرتِ عبّاس سَیِّدَتُنا اُمِّ فَضْل رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہماکے بارے میں یہ ذِکْر مِلتا ہے کہ انہیں عِبَادَت اِلٰہی سے بَہُت قلبی لگاؤ تھا، اسی سَبَب آپ کا مَعْمُول تھا کہ ہفتے میں دو۲ دن روزہ کی حَالَت میں رہتیں۔ ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبّاس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنی والِدۂ محترمہ کی عِبَادَتِ خداوندی سے مَحبَّت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میری والِدۂ محترمہ کو روزہ سے اس قَدْر مَحبَّت تھی کہ ہر پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتیں۔ [3]
}5{ روزے دار گھرانہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ایک مرتبہ ایک صحابی نے رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضِر ہو کر عَرْض کی: حُضُور! مجھے کسی عَمَل کا حکْم اِرشَاد فرمائیے۔ تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اپنے اُوْپَر روزہ لازِم کر لو،کہ روزے جیسا کوئی عَمَل نہیں۔ اس نصیحت کے بعد اس صحابی کو ہی نہیں بلکہ ان کی زوجہ کو بھی ہمیشہ روزہ کی حَالَت میں ہی دیکھا گیا۔ اگر کبھی دن کے اَوقات میں ان کے گھر سے دُھواں اُٹھتا دکھائی دیتا تو سب جان جاتے کہ آج ان کے گھر میں کوئی مہمان آیا ہے۔[4]
}6{ فوت شدہ کی طرف سے روزے رکھنا
ایک مرتبہ کسی عورت نے بارگاہِ نبوّت میں عَرْض کی: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میری ماں پر ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟ تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع